بلیو وھیل‘ خود کشی اور تشدد کی نفسیات


‘ہم سب‘ میگزین کے ایڈیٹر عدنان خان کاکڑ نے اپنے کالم ’بلیو وھیل کا طریقہِ واردات اور بچائو‘ کے آخر میں لکھا ہے ’ ڈاکٹر خالد سہیل سے بھی درخواست کی ہے کہ اس معاملے پر نفسیاتی نگاہ سے روشنی ڈالیں‘۔ میں نے جب یہ کمنٹ پڑھا تو ایک طرف مجھے بہت خوشی ہوئی کہ ’ہم سب‘ کے ایڈیٹر میری رائے مانگ رہے ہیں لیکن دوسری طرف قدرے ندامت بھی ہوئی کیونکہ اس موضوع پر میری نگاہ سے کوئی سائنسی یا نفسیاتی تحقیق نہیں گزری۔ شاید اس لیے کہ یہ مسئلہ بہت نیا ہے اور ساری دنیا کے عوام و خواص‘والدین اور اساتذہ اس کے بارے میں فکرمند ہیں۔ اس لیے میں عدنان کاکڑ کی خواہش کا احترام کرتے ہوئے یہ کالم تو لکھ رہا ہوں لیکن یہ جانتا ہوں کہ یہ رائے کسی محقق کی نہیں ایک نفسیات کے طالبعلم کی رائے ہے۔

عدنان کاکڑ نے اپنے کالم میں بلیو وھیل گیم کی جو تفاصیل بیان کی ہیں ان سے ظاہر ہے کہ اس گیم کو بنانے والا ایک روسی طالب علم فلپ بودیکن ہے جو اس وقت تین سال کی جیل گزار رہا ہے۔ بودیکن نفسیات کا طالب علم ہے اس لیے جانتا ہے کہ اس گیم کے ذریعے وہ بچوں کے ناپختہ ذہنوں سے کیسے کھیل سکتا ہے اور انہیں متاثر کر سکتا ہے۔ اس کھیل کو پچاس دن کا کھیل بنانا اہم ہے کیونکہ انسان کے ذہن کو بدلنے میں چالیس دن یا چھ ہفتے کا عرصہ اہم کردار ادا کرتا ہے۔ اس عرصے میں کھیل کھلانے والے بچوں کے ذہنوں پر قابو پا سکتے ہیں اور نوجوانوں کو تیار کر سکتے ہیں کہ وہ اپنی WILL POWER سے دستبردار ہو جائیں۔

بلیو وھیل کا کھیل بچوں اور نوجوانوں کو تشدد کے بارے میں آہستہ آہستہ DESENSITIZEکرتا ہے اور انہیں خود کشی کے لیے تیار کرتا ہے۔ بچے اور نوجوان تو پھر بھی معصوم اور سادہ لوح ہیں اب اس عمل کے ذریعے عاقل و بالغ انسانوں کے ذہنوں کو بھی BRAIN WASH کیا جاتا ہے۔

یہ کالم لکھتے ہوئے مجھے DAVE GROSSMAN کی کتاب ON KILLING یاد آ رہی ہے جس میں گروسمین نے انسانی نفسیات کی نئی شاخ KILLOLOGY کو متعارف کیا ہے۔

dave
grossman

گروسمین ہمیں انسانی نفسیات کے اس اصول سے آگاہ کرتے ہیں کہ انسان کے اندر دو جبلتیں ہوتی ہیں زندگی کی جبلت اور موت کی جبلت۔ عام حالات میں زندگی کی جبلت موت کی جبلت سے زیادہ طاقتور ہوتی ہے اس لیے دنیا کے ہر خطے کے انسانوں میں پرامن زندگی گزارنے والے اکثریت میں ہوتے ہیں اور خود کشی اور قتل کرنے والے اقلیت میں ہوتے ہیں۔ صحتمند انسان موت پر زندگی کو ترجیع دیتے ہیں۔

گروسمین نے اپنے موقف کی تائید میں اس نفسیاتی تحقیق کا حوالہ دیا ہے جس میں دوسری جنگ عظیم کے بعد بریگیڈیر جنرل مارشل نے جنگ کے ہزاروں سپاہیوں کے انٹرویو لیے اور ثابت کیا کہ ان فوجیوں کو جنگ کے دوران دشمن کے قتل کا موقع بھی ملا تب بھی انہوں نے دشمن کو قتل نہ کیا۔ ایسے واقعات کی تعداد 85 فیصد تھی۔ اس نتیجے سے خوش ہونے کی بجائے جنگ کے پجاری جرنیل بہت افسردہ ہوئے۔ انہیں یوں لگا جیسے ان کی ٹریننگ ناکام تھی۔ انہوں نے فوجیوں کو دشمنوں کو قتل کرنے کے لیے تیار کیا تھا لیکن وہ پھر بھی قتل نہ کر سکے۔ اس تحقیق کے بعد امریکی جرنیلوں نے نئے پروگرام بنائے اور ویڈیو گیمز سے فوجیوں کو ٹرین کیا کہ وہ موت کی جبلت پر عمل کریں اور زندگی کی جبلت کو نظر انداز کریں۔ اس ٹریننگ کا یہ نتیجہ نکلا کہ ویت نام کی جنگ میں امریکی فوجیوں کو جب دشمن کو قتل کرنے کا موقع ملا تو 95 فیصد فوجیوں نےاس موقع سے فائدہ اٹھایا۔ یہ علیحدہ بات کہ جنگ میں دشمن کو قتل کرنے کے بعد بھی اکثر فوجی ایک احساسِ ندامت اور گناہ کا شکار ہوئے کہ انہوں نے انسانوں کو قتل کیا ہے۔ ایسے فوجی ایک نفسیاتی بیماری کا شکار ہو گئے جو PTSD کہلاتی ہے اور نفسیاتی علاج کی متقاضی ہوتی ہے۔ اس تحقیق سے یہ ثابت کرنا مقصود ہے کہ وڈیو گیمز انسان کی سوچ کو بدل سکتی ہیں اور انہیں قتل یا خود کشی کے لیے تیار کر سکتی ہیں۔

اسی بارے میں: ۔  منظر ہے اس طرح کا کہ دیکھا نہیں ہوا

عدنان کاکڑ کا کالم پڑھتے ہوئے میں یہ سوچ رہا تھا کہ بلیو وھیل ایک گیم ہی نہیں ایک فکر بھی ہے, ایک سوچ بھی ہے, ایک نقطہِ نظر بھی ہے, ایک نظریہ حیات بھی ہے, جسے فلپ بودیکن نے اپنایا ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیسی سوچ ہے؟

اس حوالے سے مجھے مشہور امریکی ماہرِ نفسیات ایرک فرام یاد آ رہے ہیں جنہوں نے اپنی کتاب ANATOMY OF HUMAN DESTRUCTIVENESS میں ہمیں انسانوں کے دو گروہوں سے متعارف کروایا ہے۔ پہلے گروہ میں وہ صحتمند لوگ شامل ہیں جو زندگی سے محبت کرتے ہیں۔ وہ انہیںBIOPHILOUS کا نام دیتے ہیں۔ ایسے لوگ زندگی کے بارے میں مثبت رویہ رکھتے ہیں اور ساری عمر انسان دوستی ‘امن اور آشتی کا پیغام دیتے رہتے ہیں۔ اس کے مقابلے میں دوسرے گروہ کے لوگ موت سے محبت کرتے ہیں۔ ایرک فرام انہیں NECROPHILOUS کا نام دیتے ہیں۔ ایسے لوگ منفی سوچ رکھتے ہیں اور زندگی پر موت کو ترجیع دیتے ہیں۔ فلپ بودیکن ایسی ہی سوچ رکھتے ہیں اسی لیے ان کا کہنا ہے ’یہ لوگ ایک حیاتیاتی کچرا ہیں۔ یہ معاشرے کے لیے کوئی اہمیت نہیں رکھتے۔یہ لوگ معاشرے کو نقصان پہنچا رہے ہیں یا پہنچائیں گے۔ میں معاشرے کو ایسے لوگوں سے پاک کر رہا تھا‘۔ دلچسپی کی بات یہ ہے کہ بودیکن کی سوچ اتنی بیمار ہے کہ وہ اپنے منفی اعمال کے مثبت جواز پیش کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ انگریزی کا ایک قول ہے

ROAD TO HELL IS PAVED WITH GOOD INTENTIONS

ایک نفسیات کے طالب علم ہونے کے ناطے میں اس بات کو اہم سمجھتا ہوں کہ بہت سے مذہبی‘ سماجی اور سیاسی رہنما قتل و غارت اور جنگ و جدل کے منصوبے کا کسی بڑے آدرش سے جواز اور تاویل پیش کرتے ہیں۔ ایسی سوچ انسانت کے لیے بہت خطرناک ہے۔ ایسی تاویلیں بچوں اور نوجوانوں کے لیے اور بھی خطرناک ہیں کیونکہ ان کے ذہن ابھی ناپختہ ہوتے ہیں۔

پچھلی چند دہائیوں میں جہاں سائنس اور ٹکنالوجی نے انسانیت کو بہت فائدے پہنچائے ہیں وہیں بعض غیر صحتمند ذہنوں نے وائرس اور وڈیو گیم بنا کر انسانیت کو نقصان بھی پہنچایا ہے۔ ایسے وڈیو گیم وحشت‘ دہشت، شدت اور تشدد کو GLORIFY کرتے ہیں۔ یہ ایک غیر صحتمند رویہ ہے جو انسانیت کے مستقبل کے لیے خطرناک ہے۔

اسی بارے میں: ۔  دائیں اور بائیں فکر کی نفسیاتی گرہیں ۔ 1

مجھے یہ جان کر خوشی ہوئی کہ بلیو وھیل کی گیم کے خلاف والدین‘ اساتذہ’ پرنسپل‘ ماہرینِ نفسیات اور حکومت کے وزرا سر جوڑ کر بیٹھ رہے ہیں اور ان بچوں کی اور ان کے خاندانوں کی مدد کرنا چاہتے ہیں جو اس خطرناک مسئلے کا شکار ہیں اور وہ بچے جو اس سے متاثر ہو سکتے ہیں۔ میرے نزدیک اس مسئلے کا دیر پا حل والدین اور اساتذہ کا اپنے بچوں اور نوجوانوں کے ساتھ اعتماد کا رشتہ ہے تا کہ ایک ایسے مکالے کی بنیاد رکھی جا سکے جہاں بچے اپنے والدین پر اعتماد کریں اور اساتذہ اپنے شاگردوں کی رہنمائی کر سکیں۔

اگر ہم اس مسئلے کو بین الاقوامی تناظر میں دیکھیں تو ہمیں اندازہ ہوگا کہ اکیسویں صدی کے بچے اور نوجوان جنگ و جدل‘ تشدد‘ وحشت اور بربریت کی فضا میں پروان چڑھ رہے ہیں۔ ایسی فضا بچوں کو مستقبل کے بارے میں مایوس کر رہی ہے اور وہ غیر صحتمندانہ فیصلے کر رہے ہیں۔ ہم اپنے بچوں کے ذہنوں میں نفرتیں بو رہے ہیں جو انسانیت کے لیے خطرناک ہیں۔ عبدالقوی ضیاؔ کا شعر ہے

خاندانوں پہ عذاب آئے گا

نفرتیں خون میں بونا کیسا

ہم سب اس نفسیاتی حقیقت سے واقف ہیں کہ دو یا چار سال کا بچہ خود کشی نہیں کر سکتا لیکن جب وہ بارہ یا چودہ سال کا ہوتا ہے تو وہ خود کشی کر سکتا ہے لیکن جب وہ جوان ہوتا ہے تو دانائی سیکھتا ہے اور زندگی کو موت پر ترجیع دیتا ہے۔ یہ گیم بچوں کو اس عمر میں پکڑتی ہے جب وہ VULNERABLE دور سے گزر رہے ہوتے ہیں۔

میں یہ سمجھتا ہوں کہ انسانیت بھی اپنے ارتقا کے سفر میں ایک بحران سے‘ ایک عبوری دور سے گزر رہی ہے۔ بیسویں صدی میں پہلی دفعہ انسانیت نے ایسے ایٹم بم اور دیگر مہلک ہتھیار بنائے ہیں جو پوری انسانیت کو ختم کر سکتے ہین اور انسان اپنی تاریخ میں پہلی دفعہ اجتماعی خود کشی یا قتل کر سکتے ہیں۔ انسانوں کو انفرادی اور اجتماعی طور پر فیصلہ کرنا ہے کہ وہ امن‘ آشتی اور دانائی کا راستہ یا خانہ جنگی‘ ایٹم بم اور موت کا راستہ اختیار کریں۔ ہر انسان کا فیصلہ ساری انسانیت کے لیے اہم ہے کیونکہ ہم سب ایک ہی خاندان کا حصہ ہیں اور دھرتی ماں کے بچے ہیں۔ ساری دنیا کی امن پسند روایتیں ہمیں یہ درس دیتی ہیں کہ ایک انسان کا قتل ساری انسانیت کا قتل ہے اور خود کشی اپنی جان کا قتل ہے۔

یہ کالم ایک FREE ASSOCIATION کی مثال ہے جس کا کریڈٹ عدنان کاکڑ کو جاتا ہے اگر وہ مجھ سے کسی اور طرح کے کالم کی امید رکھ رہے تھے تو میں ان سے معذرت خواہ ہوں

بات نکلے گی تو پھر دور تلک جائے گی


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔