روہنگیا، چین اور مسلمان


بدھ کو بالآخر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میانمار میں روہنگیا کے خلاف انسانیت سوز مظالم پر غور کرنے والی ہے۔ 25 اگست سے شروع ہونے والے تشدد اور تباہ کاری کے اس تازہ سلسلہ میں اب تک ایک ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ تین لاکھ کے لگ بھگ روہنگیا ہمسایہ ملک بنگلہ دیش میں پناہ لینے پر مجبور ہو چکے ہیں۔ یہ لوگ نہایت پر صعوبت اور دشوار گزار سفر کرکے بنگلہ دیش پہنچتے ہیں جہاں پر عالمی تنظیمیں ان کی دیکھ بھال کرنے کی کوشش کرتی ہیں لیکن بنگلہ دیش کی حکومت ان پناہ گزینوں کے حوالے کسی گرمجوشی کا مظاہرہ کرنے کے لئے تیار نہیں ہے۔ اس سے پہلے بھی کئی لاکھ روہنگیا برس ہا برس سے بنگلہ دیش میں غیر قانونی حیثیت میں موجود ہیں اور ان کی بحالی اورآباد کاری کے لئے کوئی منظم اور مؤثر کوششیں دیکھنے میں نہیں آتیں۔ میانمار روہنگیا کو بنگلہ دیش سے آئے ہوئے ناجائز تارکین وطن قرار دیتا ہے اور اس کا کہنا ہے کہ ان لوگوں کو بنگلہ دیش واپس جانا چاہئے یا دنیا کا جو بھی ملک انہیں اپنے ہاں آباد کرنا چاہتا ہے تو وہ بخوشی ایسا کرسکتا ہے، میانمار انہیں اپنے ہاں نہیں رہنے دے گا۔ دوسری طرف بنگلہ دیش کی وزیراعظم حسینہ واجد نے مطالبہ کیا ہے کہ یہ لوگ میانمار کے باشندے ہیں اور گزشتہ دنوں میں میانمار سے بنگلہ دیش آنے والے لوگوں کو واپس اپنے گھروں میں آباد کیا جائے۔

عالمی ادارے اور حکومتیں گزشتہ کئی دہائیوں سے اس صورت حال کو دیکھ رہی ہیں لیکن کسی طرف سے کوئی خاص اقدام دیکھنے میں نہیں آیا۔ اس دوران برما یا میانمار کی سخت گیر فوجی حکومت کی بجائے جمہوری انتظام متعارف کروایا گیا اور 1991 میں اپنے لوگوں کے جمہوری حقوق کی جد و جہد کرنے پر امن انعام پانے والی لیڈر آنگ سان سوچی کو ملک کی ڈی فیکٹو رہنما کی حیثیت حاصل ہو چکی ہے۔ سوچی اگرچہ بظاہر ملک کی وزیر خارجہ ہیں لیکن وہ فوجی جرنیلوں کے ساتھ سیاسی معاہدہ کے نتیجہ میں ملک کے بیشتر معاملات میں دخیل ہیں ۔ اس تبدیلی کے باوجود میانمار کے روہنگیا کی صورت حال میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے بلکہ حالیہ تشدد اور جبری کے واقعات اس تسلسل اور شدت سے پہلے کبھی پیش نہیں آئے۔ بتایا جاتا ہے کہ میانمار میں دس لاکھ روہنگیا آباد ہیں لیکن حالیہ بے دخلی میں تین لاکھ کے قریب لوگوں کو اپنے گھر بار چھوڑ کر جلاوطن ہونے پر مجبور کیاگیا ہے۔ اس طرح برما کی حکومت ، فوج اور بودھ انتہا پسند ایک تہائی روہنگیا آبادی کو ملک سے نکالنے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔ یہ سلسلہ اگر اسی رفتار سے جاری رہتا ہے تو چند ہی ہفتے میں میانمار روہنگیا مسلمانوں سے ’پاک‘ ہوجائے گا اور ان کے دیہات، گھر بار اور مساجد تباہ کی جاچکی ہوں گی اور ان کے اثاثے لوٹے جا چکے ہوں گے۔ اسی لئے عالمی سطح پر برما کی حکمت عملی کو ایک چھوٹی اقلیت کی نسل کشی قرار دیا جارہاہے لیکن عملی طور سے رنگون کی حکومت کو کسی طرف سے کسی دباؤ کا سامنا نہیں ہے۔

میانمار کی حکومت کامؤقف ہے کہ وہ روہنگیا کے خلاف کسی قسم کی کارروائی میں ملوث نہیں ہے بلکہ اس علاقے میں اراکان دہشت گرد ایک طرف سرکاری فوج اور دوسرے مذہبی گروہوں کے خلاف سرگرم عمل ہیں تو دوسری طرف عالمی توجہ حاصل کرنے کے لئے وہ خود ہی ان لوگوں کو بے گھر کرنے کا سبب بھی بن رہے ہیں ، وہ جن کے حقوق کی حفاظت کا دعویٰ کرتے ہیں۔ رنگون حکومت کا مؤقف ہے کہ یہ دہشت گرد گروہ دراصل برمی فوج اور عوام کے خلاف برسر پیکار ہیں جبکہ برما کی فوج دیگر آبادیوں کی طرح روہنگیا کی حفاظت کی جد و جہد بھی کررہی ہے۔ جمہوریت کے لئے طویل قید و بند کی صعوبت برداشت کرنے کی وجہ سے عالمی شہرت اور وقار حاصل کرنے والی آنگ سان سوچی نے بھی بصد مشکل روہنگیا کے معاملہ پر اظہار خیال کرتے ہوئے یہی بات دہرائی اور اراکان لبریشن آرمی کو قتل و غارتگری اور تباہ کاری کاذمہ دار بتایا۔ انہوں نے بھی یہ مضحکہ خیز دعویٰ کیا کہ میانمار کی فوج روہنگیا کی حفاظت کررہی ہے جبکہ ان کے نام پر دہشت گردی کرنے والے اصل فساد کی جڑ ہیں۔

اس حوالے سے قباحت یہ ہے کہ غیر جانبدار ذرائع سے اگر ان مظالم کی تصدیق ممکن نہیں ہے جو برمی فوج اور بودھ مسلح گروہوں کی طرف سے روہنگیا پر روا رکھے جارہے ہیں تو رنگون حکومت کے دعوؤں کو درست تسلیم کرنا بھی دشوار ہے۔ اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ برما کی فوج اور حکومت کی طرف سے صحافیوں اور امدادی کارکنوں کو صوبہ راکھین میں روہنگیا تک پہنچنے کی اجازت دینے سے انکار کیا جاتا ہے۔ اسی لئے یہ سوال کیا جاتا ہے کہ اگر میانمار کی حکومت اور فوج کے ہاتھ اتنے ہی صاف ہیں اور وہ روہنگیا کی حفاظت میں واقعی ایک دہشت گرد گروہ سے جنگ کررہی ہے تو غیر جانبدار مبصرین کو اس علاقے میں جا کر حالات کا جائزہ لینے کا حق کیوں نہیں دیا جاتا۔ اس کے علاوہ یہ بات بھی مضحکہ خیز حد تک حیران کن ہے کہ برما کی فوج گزشتہ کئی دہائیوں سے واضح کررہی ہے کہ وہ کسی صورت روہنگیا کو نہ تو اپنے ملک میں قبول کرے گی اور نہ ہی انہیں بنیادی شہری حقوق دیئے جائیں گے۔ عالمی اداروں اور دیگر ملکوں کے پیٹ میں درد ہے تو وہ ان لوگوں کو اپنے ہاں آباد کرلیں۔ اب یک بیک ایسی کون سی کایا پلٹ ہو گئی ہے کہ وہی فوج بے بس اور ناپسندیدہ روہنگیا کی حفاظت کے لئے جنگ کرنے پر آمادہ ہے اور ان کی حفاظت کو بیڑا اٹھائے ہوئے ہے۔ اس جھوٹ کو سچ ثابت کرنے کی نیت سے میانمار کی حکومت نے گزشتہ دنوں چند عالمی صحافیوں کو راکھین کا دورہ کرنے اور صورت حال کا خود مشاہدہ کرنے کی دعوت دی۔ تاہم بی بی سی کے نمائیندے نے اس دورہ کے دوران چشم دید حالات کی جو تصویر پیش کی ہے اس سے رنگون کے حکمرانوں کے جھوٹ کا پردہ فاش ہوجاتا ہے۔

بی بی سی کے نمائیندے نے بتایا ہے کہ انہیں سخت نگرانی میں راکھین کے دور دراز اور دشوار گزار علاقوں میں لے جایا گیا تھا لیکن کسی بھی صحافی کو ایک لمحے کے لئے بھی آزادانہ کسی سے بات کرنے یا حالات کا جائزہ لینے کا موقع نہیں دیاگیا۔ اس پابندی کا سبب سیکورٹی کو قرار دیتے ہوئے بتایا گیا کہ ان کی جان کی حفاظت کے پیش نظر وہ تنہا کہیں نہیں جا سکتے۔ انہیں ایسے پناہ گزین مرکز میں لے جایا گیا جہاں علاقے کے بے گھر ہونے والے ہندوؤں کو رکھا گیا تھا اور یہ لوگ بتا رہے تھے کہ دہشت گردوں نے ان کے گاؤں اور کاروبار تباہ کردیئے تھے لیکن ان کی باتوں سے صاف ظاہر تھا کہ وہ وہی بات کہہ رہے تھے جو فوج کی طرف سے انہیں بتائی گئی تھی۔ حقیقت احوال یہ تھی کہ فوج اور پولیس کی نگرانی میں روہنگیا کے خلاف سر گرم عمل بود ھ عسکری گروہوں نے ایک سی شکل و شباہت اور چال ڈھال ہونے کی وجہ سے روہنگیا کے مغالطے میں ہندوؤں کو بھی دہشت کا نشانہ بنایا اور انہیں بے گھر ہونے پر مجبور کردیا۔ صحافیوں کے اس گروپ کو جعلی تصاویر بھی فراہم کی گئیں جن میں مسلمانوں کو خود ہی اپنے گھروں کو نذر آتش کرتے دکھایا گیا تھا لیکن یہ تصاویر خاص طور سے ٹیکنالوجی کی مدد سے تیار کی گئی تھی تاکہ سرکاری مؤقف کو درست ثابت کیا جا سکے۔ اس نمائیندے نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ سفر سے واپسی پر ایک گاؤں میں آگ لگی دیکھ کر تمام صحافی ذبردستی بس رکواکر جائے حادثہ کی طرف بھاگے تو انہوں نے بودھ جتھوں کو مکان جلاتے اور تباہ کاری کرتے دیکھا جو اچانک درجن کے لگ بھگ غیر ملکی صحافیوں کو اپنے سامنے دیکھ کر وہاں سے فرار ہونے لگے۔ نمائیندہ کا کہنا ہے کہ اس علاقے میں پولیس اور فوج کی کئی چوکیاں ہیں لیکن اس کے باوجود بودھ انتہا پسند اطمینان سے تباہ کاری اور لوٹ مار میں مصروف تھے۔ یہ وہی بات ہے جو ان علاقوں سے فرار ہوکر بنگلہ دیش پہنچنے والے روہنگیا پناہ گزینوں نے بھی بتائی ہیں۔ جس کا مشاہدہ بی بی سی کے نمائیندے کے علاوہ درجن بھر دیگر صحافیوں نے بھی کیا۔

اس صورت حال کے باوجود اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو سینکڑوں لوگوں کی ہلاکت، درجنوں دیہات کی تباہ کاری اور تین لاکھ لوگوں کی ملک بدری کے بعد یہ توفیق ہوئی ہے کہ وہ اس المناک انسانی مسئلہ پر غور کرے۔ لیکن چین نے اجلاس سے پہلے ہی واضح کردیاہے کہ وہ دہشت گردوں کے خلاف برمی فوج کی کارروائی کی حمایت کرتا ہے۔ اس بیان کا مقصد یہ ہے کہ بیجنگ کے حکمران میانمار میں رونما ہونے والے انسانی المیہ کو تسلیم کرنے اور لاکھوں لوگوں کی پریشانی اور جان و مال کو لاحق خطرے کو مسترد کرنے کی بجائے سلامتی کونسل میں رنگون حکومت کے مظالم کو دہشت کے خلاف کارروائی قرار دے کر میانمار کے خلاف کسی بھی قسم کی قرار داد کو مسترد کردیں گے۔ اس طرح عالمی برادری بدستور روہنگیا کے سوال پر خاموش تماشائی بنی رہے گی۔اس رویہ کا واضح پیغام یہ ہے کہ چین کے لئے اس علاقے میں اپنے مفادات کا تحفظ انسانی زندگی اور حقوق سے زیادہ اہم ہے۔ پاکستان اور دنیا کے دیگر ملکوں میں روزانہ کی بنیاد پر روہنگیا کے لئے جان قربان کرنے کے دعوے کرنے والے نعرے بازوں کے لئے بھی یہ صورت حال سبق آموز ہونی چاہئے۔ پاکستان کی حکومت چین کی قریبی حلیف ہے اور اپنے ہاں محفوظ جیش محمد کے سربراہ مولانا مسعود اظہر کے خلاف عالمی کارروائی کا راستہ روکنے کے لئے اسے چین کی اعانت حاصل رہی ہے۔ سی پیک منصوبہ کی تکمیل چین کے عالمی تجارتی، سیاسی اور اسٹریجک مفادات کے لئے بے حد ضروری ہے لیکن روہنگیا کے خلاف مؤقف اختیار کرتے ہوئے نہ اسے مسلمانوں کے جذبات کا خیال ہے اور نہ ہی پاکستان سے اپنی دوستی کو راہ میں آنے دیتا ہے۔ بلکہ یہ سوچتا ہے کہ علاقے میں وہ کس طرح زیادہ سے زیادہ ملکوں کو اپنے زیر اثر رکھ سکتا ہے۔

عالمی سفارت کاری میں یہی سنگدلی بنیادی اصول کی حیثیت رکھتی ہے۔ پاکستان کی حکومت بھی روہنگیا کے لئے اپنے عوام کی بلند آہنگ حمایت کے باوجود اپنے قریب ترین حلیف سے یہ نہیں کہہ سکتی کہ اسے روہنگیا کی حالت زار پر رنگون حکومت کی سرزنش کرنی چاہئے۔ اس کی ایک بنیادی وجہ یہ بھی ہے کہ دہشت گردی کے خلاف سب ملک اپنے اپنے طور پر عاجز ہیں۔ جو عناصر روہنگیا یا کسی دوسرے گروہ کے ذریعے اپنے سیاسی مقاصد کی تکمیل کے لئے دہشت گرد گروہوں کی سرپرستی کا ارادہ کرتے ہیں، دنیا کا ہر ملک ان کے خلاف اقدام کرنا ضروری سمجھتا ہے۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 647 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali