سید عطاءاللہ شاہ بخاری سے علامہ خادم حسین رضوی تک۔ پہلی کہانی


کہانی 1929 سے شروع ہوتی ہے۔ اپریل کا مہینہ ہے۔ لاہور کا شہر ہے۔ دہلی دروازے کا مقام ہے اور درگاہ شاہ محمد غوث کا منبر ہے۔ منبر پر امیر شریعت، خطیب بے بدل، بانی مجلس احرار، عالم دیو بند سید عطاءاللہ شاہ بخاری رونق افروز ہیں۔ کہتے ہیں کہ سید جب قرآن پڑھتا ہے تو پرندے پرواز چھوڑ کر قرآن سننے اتر آتے ہیں اور جب سید خطاب کرتا ہے تو وقت کی نبض تھم جاتی ہے۔ آج سید کی داڑھی آنسوؤں سے تر ہے، آواز بھیگ گئی ہے پر اس میں گھن گرج وہی ہے۔ ذرا کان لگا کر سنیے۔ یہ راجپال کے بارے میں بات ہو رہی ہے۔ وہی راجپال جس نے ایک کتابچہ شائع کیا ہے۔ مصنف نامعلوم ہے پر ناشر کو سب جانتے ہیں۔ کتابچے میں تاریخ اسلام اور صحاح ستہ سے نقل شدہ مواد کی بنیاد پر مصنف نے رسول اطہرؐ کی ذات پر مقدمہ قائم کیا ہے۔ مسلمانوں نے نہ طبری کو پڑھا ہے نہ ابن اسحاق سے واقفیت ہے۔ نہ بخاری سے آشنائی ہے نہ مسلم سے روشناس ہیں پر انہیں لگتا یہی ہے کہ جو بات اس کتابچے میں ہے وہ دل آزار ہے۔ ان کی عقیدت اور محبت کو للکارا گیا ہے۔ بات عدالت میں سے ہو آئی ہے۔ سزا ملی پھر بریت ہوئی پر قانون کا یہ فیصلہ مسلمانوں کو قبول نہیں۔ دفعہ 144 نافذ ہے۔ قانون جلسے کی اجازت بھی نہیں دیتا پر دہلی دروازے میں عاشقان رسولؐ کا ایک جم غفیر اکٹھا ہے۔ حب رسولؐ کے آگے قانون کی کیا حیثیت، وہ بھی انگریز کا قانون۔ سید کی تقریر سنیے۔ ہم نے سوچا کہ شاید پہلے طبری سے لے کر ابن ماجہ تک سب پر گرفت ہو گی پر نہیں۔ سید کے نزدیک قصور مواد کا نہیں، دشمنان اسلام کی فہم کا ہے۔ امیر شریعت کہہ رہے ہیں

”آج تم جناب فخر رسل محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کے عزت و ناموس کو برقرار رکھنے کے لیے یہاں جمع ہوئے ہو۔ آج جنس انسان کو عزت بخشنے والے کی عزت خطرہ میں ہے۔ آج اس جلیل المرتبت کا ناموس معرض خطر میں ہے جس کی دی ہوئی عزت پر تمام موجودات کو ناز ہے۔ “ پھر سید عطاءاللہ شاہ بخاری اپنا روئے سخن مفتی کفایت اللہ اور احمد سعید دہلوی کی طرف کرتے ہیں اور رقت آمیز آواز میں کہتے ہیں

”آج مفتی کفایت اللہ اور احمد سعید کے دروازے پر اُمُّ المومنین عائشہ صدیقہؓ اور اُمُّ المومنین خدیجہ الکبرٰیؓ کھڑی آواز دے رہی ہیں۔ ہم تمہاری مائیں ہیں۔ کیا تمھیں معلوم نہیں کہ کفار نے ہمیں گالیاں دی ہیں۔ ارے دیکھو! کہیں اُمُّ المومنین عائشہ صدیقہؓ دروازے پر تو کھڑی نہیں“

آواز میں ایسا اثر ہے۔ برسوں کی ریاضت نے تقریر کے فن کو ایسا کندن بنا ڈالا ہے کہ لوگ سچ مچ مڑ کر دیکھتے ہیں کہ کہیں ام المومنین واقعتاً درگاہ کے دروازے پر تو نہیں آ گئیں۔ نگاہیں خالی لوٹتی ہیں تو ان میں پانی بھر آتا ہے۔ لوگ سر پر دو ہتڑ مارتے ہیں۔ آہ و بکا کا ایک طوفان ہے۔ ہر آنکھ اشکبار ہے۔ ہر سینہ دہک رہا ہے۔ تقریر ابھی جاری ہے

”تمہاری محبتوں کا تو یہ عالم ہے کہ عام حالتوں میں کٹ مرتے ہو لیکن کیا تمھیں معلوم نہیں کہ آج گنبد خضرٰی میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تڑپ رہے ہیں۔ آج خدیجہؓ اور عائشہؓ پریشان ہیں۔ بتاو! تمھارے دلوں میں اُمہات المومنین کے لیے کوئی جگہ ہے؟ آج اُمُّ المومنین عائشہؓ تم سے اپنے حق کا مطالبہ کرتی ہیں۔ وہی عائشہؓ جنھیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ’’حمیرا‘‘ کہہ کر پکارا کرتے تھے، جنھوں نے سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم  کو وصال کے وقت مسواک چبا کر دی تھی۔ یاد رکھو کہ اگرتم نے خدیجہؓ اور عائشہؓ کے لیے جانیں دے دیں تو یہ کچھ کم فخر کی بات نہیں۔ ‘‘

لوگ جان دینے کے لیے تیار ہیں۔ جان لینے کے لیے بھی پر سید کی شعلہ فشانی ابھی ٹھنڈی نہیں پڑی ہے۔
”جب تک ایک مسلمان بھی زندہ ہے، ناموس رسالت پر حملہ کرنے والے چین سے نہیں رہ سکتے۔ پولیس جھوٹی، حکومت کوڑھی اور ڈپٹی کمشنر نا اہل ہے۔ وہ ہندو اخبارات کی ہرزہ سرائی تو روک نہیں سکتا، لیکن علمائے کرام کی تقریریں روکنا چاہتا ہے۔ وقت آ گیا ہے کہ دفعہ 144 کے یہیں پرخچے اڑا دیے جائیں۔ میں دفعہ 144 کو اپنے جوتے کی نوک تلے مسل کر بتا دوں گا۔
کبھی فلک کو پڑا دل جلوں سے کام نہیں
اگر نہ آگ لگا دوں، تو داغؔ نام نہیں“

جلسہ گاہ میں مانو واقعی آگ لگ گئی ہے۔ سید عطاءاللہ شاہ بخاری منبر سے اتر آئے ہیں۔ اب آرام گاہ کا قصد ہے۔ کچھ دیر آنکھ لگا لیں پھر دو دن بعد کی ایک اور تقریر کی تیاری ہے۔ جلسہ گاہ میں پیچھے کی صفوں میں ایک نوجوان ابھی بھی رو رہا ہے۔ اس کی آنکھیں سرخ ہیں، دل جل رہا ہے اور کانوں میں سید کی آواز گونج رہی ہے۔

”یاد رکھو کہ اگرتم نے خدیجہؓ اور عائشہؓ کے لیے جانیں دے دیں تو یہ کچھ کم فخر کی بات نہیں۔ “

نوجوان کا نام علم الدین ہے۔ ترکھانوں کے خاندان سے ہے۔ ان پڑھ ہے اور اس نے کبھی وہ کتابچہ نہیں پڑھا اور نہ ہی اس کو سنا جس کا آج ذکر ہو رہا تھا۔ اس نے کبھی تاریخ یا حدیث کی کسی کتاب کا بھی مطالعہ نہیں کیا۔ اس کو یہ بھی نہیں پتہ کہ سیشن کورٹ نے راجپال کو سزا کیوں سنائی تھی اور ہائیکورٹ نے سزا کیوں معاف کی تھی۔ پر اسے سید عطاءاللہ شاہ بخاری کی تقریر پر اعتبار ہے۔ اسے اپنے عشق رسولؐ پر فخر ہے اور جب سید نے کہہ دیا کہ اس مسئلے پر جان لینا اور جان دینا جائز ہے تو اس کے لیے اور کچھ اہم نہیں ہے۔ اسے اب قانون سے مطلب نہیں ہے۔ قرآن اس نے کبھی پڑھا نہیں اس لیے اس معاملے میں قرآن کا کیا حکم ہے، وہ نہیں جانتا پر سید بادشاہ کوئی غلط بات تھوڑا ہی کریں گے۔ علم الدین اپنے آنسو پونچھتا ہے اور ایک عزم کے ساتھ جلسہ گاہ سے نکل جاتا ہے۔

چار دن لگتے ہیں علم الدین کو راجپال کا سراغ لگانے میں۔ چھ اپریل کو وہ راجپال کی دکان پر پہنچتا ہے، کمر میں اڑسی چھری نکالتا ہے اور پے درپے وار کر کے راجپال کو قتل کر دیتا ہے۔ گرفتاری ہوتی ہے۔ مقدمہ چلتا ہے، سزائے موت ہوتی ہے۔ اپیل ہوتی ہے۔ خارج ہوتی ہے۔ علم الدین پہلے غازی علم الدین بن جاتا ہے پھر شہید علم الدین بن کر 31 اکتوبر 1929 کو پھانسی کے پھندے پر جھول جاتا ہے۔ جنازے میں لاکھوں لوگ امڈ آتے ہیں۔ جنازے کی چارپائی ایک ایم ڈی تاثیر نامی صاحب کے گھر سے آتی ہے۔ محمد اقبال نام کے ایک شاعر اس بات پر تاسف کرتے ہیں کہ ترکھانوں کا لڑکا ان سے بازی لے گیا۔ شاید ان کا بھی ارادہ یہی تھا پر وہ ایک دو دن کی تاخیر سے یہ سعادت حاصل نہیں کر پائے۔ اس سب کے بیچ سید عطاء اللہ شاہ بخاری کا قصہ گول ہو جاتا ہے۔ چار ماہ کی عدالتی کارروائی میں اکسانے کی یا اشتعال دلانے کی ان پر کوئی فرد عائد نہیں ہوتی۔ سید صاحب سعادت میں حصہ دار بن سکتے تھے اگر عدالت میں از خود پیش ہو کر اعتراف کرتے کہ یہ ان ہی کی تقریر کا ثمر تھا کہ علم الدین کی چھری راجپال کے سینے سے پار ہوئی اور ناموس رسالت پر شہادت کا اصل حق ان کا ہے۔ پر شاید وہ مجلس احرار کی تشکیل میں اتنا مصروف تھے کہ چار ماہ کی عدالتی کارروائی میں پیش ہو کر یہ بیان قلمبند کرانے کا موقع کھو بیٹھے اور شہادت کا تاج بادشاہ کے بجائے پیادے کے سر سج گیا۔

اپیل میں جناح صاحب نے علم الدین کو راضی کرنے کی کوشش کی کہ وہ یہ کہہ دیں کہ یہ امر انہوں نے ایک اشتعال انگیز تقریر کے زیر اثر کیا تھا۔ علم الدین نے انکار کیا۔ شاید جناح صاحب نے سید عطاءاللہ شاہ بخاری سے بھی کہا ہو کہ وہ ہی اس ضمن میں کچھ کریں پر ایک تو سید صاحب جناح صاحب کو ان کے کافرانہ طرز زندگی کی وجہ سے ناپسند کرتے تھے دوسرے ان کی سوچ سے بھی انہیں شدید اختلاف تھا اس لیے بات بن نہیں پائی ہو گی۔ ہاں، جنازے کے بعد سید عطاء اللہ شاہ بخاری نے تسبیح پھیرتے ہوئے کہا کہ آج غازی علم الدین ہم سے بہت آگے نکل گیا۔ بس یہ کہانی یہاں ختم ہو گئی۔ سید صاحب کے تربیت یافتہ نوجوانوں نے 1950 کی دہائی میں لاہور میں جو کار ہائے نمایاں دوسروں کے خون سے رقم کیے، وہ آج کا موضوع نہیں۔
(جاری ہے)

پہلی کہانی: سید عطاءاللہ شاہ بخاری سے علامہ خادم حسین رضوی تک۔ پہلی کہانی

دوسری کہانی: سید عطاءاللہ شاہ بخاری سے علامہ خادم حسین رضوی تک۔ دوسری کہانی

تیسری کہانی: سید عطاءاللہ شاہ بخاری سے علامہ خادم حسین رضوی تک۔ آخری کہانی سے ذرا پہلے

 


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

حاشر ابن ارشاد

حاشر ابن ارشاد کو سوچنے کا مرض ہے۔ تاہم عمل سے پرہیز برتتے ہیں۔ کتاب، موسیقی، فلم اور بحث کے شوقین ہیں اور اس میں کسی خاص معیار کا لحاظ نہیں رکھتے۔ ان کا من پسند مشغلہ اس بات کی کھوج کرنا ہے کہ زندگی ان سے اور زندگی سے وہ آخر چاہتے کیا ہیں۔ تادم تحریر کھوج جاری ہے۔

hashir-irshad has 88 posts and counting.See all posts by hashir-irshad