بہار آئی تو کُھل گئے ہیں …. حساب سارے!


shakoor rafaمارچ زندگی کا موسم ہے۔
برف پگھلتی ہے‘ رُت بدلتی ہے۔
کئی پھول کھلتے ہیں‘ کئی زخم سلتے ہیں۔
عجیب بات ہے کہ رُت ہریالی ہو تو روح سوالی ہو جاتی ہے۔
اتنے پتے کسی درخت نے نہ اوڑھے ہوں گے جتنی حیرتیں یہ آنکھ دیکھتی ہے!
واقعی محو حیرت ہوں کہ دنیا کیا سے کیا ہو جائے گی؟
دنیا جب کیا سے کیا ہونے لگے تو شاید اس وقت سوال جنم لیتے ہوں….
یا پھر جب بہت سے سوال جنم لینے لگیں تو دنیا کیا سے کیا ہونے لگے!
ارتقا ہونے لگے….یا تباہ ہونے لگے!
دل حیرت خانہ ہے لیکن۔۔ ویرانہ ہے!
اس ویرانے میں امید کے پھولِ کھلنے لگیں جو ان سوالوں کے جواب ملنے لگیں۔
سوال کیوں ابھرتے ہیں؟ شاید جب حیرتیں جمع ہوں تو خیال جنم لیتے ہیں۔
اورخیال جب زیادہ ہوتے ہیں تو سوال جنم لیتے ہیں۔
اس حیرت کدہ میں خیال کا کمال ہی دراصل سوال ہے۔
صوفی کہتے ہیں کہ سوال مخلوق سے ہو تو شرمندگی ہے
مذہبی کہتے ہیں کہ سوال خالق سے ہو تو بندگی ہے
اور سرپھرے کہتے ہیں کہ سوال خود سے ہو تو زندگی ہے۔
بھیڑجب منتشر ہو تو اسے قطار میں سمونا مشکل ہوتا ہے۔
اور سوال الجھے ہوں تو انہیں ہار میں پرونا مشکل ہوتا ہے!

سوال یہ ہے کہ جب مسلمان اک دوجے کو ہی نہیں مانتے تو پھر امریکی فوجی مرنے پر خوش کیوں نظر آتے ہیں؟
اوباما بھی بش کیوں نظر آتے ہیں؟
47ءوالی قوم2016ءمیں کیسے ڈھل گئی؟
اور ہمسایہ قوم آگے کیونکر نکل گئی۔
سوال یہ ہے کہ ایک ارب سے زیادہ مسلمان اس ترقی پذیر زوال کا مقابلہ کیسے کریں؟
تعلیمی اداروں میں ہم کیا کچھ پڑھیں؟
دشمن کے بچوں سے کیسے لڑیں؟
وہ طوطا کون سا ہے جس میں خود کش حملہ آوروں کی جان ہے؟
ضرب عضب کا کتنا فائدہ ہے؟ کتنا نقصان ہے؟
ماضی کا فرشتہ آج کیوں شیطان ہے؟
قادری کا امت پہ کیا احسان ہے؟
شاید ایک تہذیب دوران تصادم اپنی ہی مقدس مٹی میں گڑ گئی ہے۔
اور کچھ لوگوں کو کسی اور سہارے کی ضرورت پڑ گئی ہے۔
یہ سہارا سامراجی زلف کی گھٹا میں بھی ہوسکتا ہے
کسی نورانی پارسا میں بھی ہو سکتا ہے
….خدا میں بھی ہوسکتا ہے اور میڈیا میں بھی ہوسکتا ہے
(ماں کی دعا اور جنت کی ہوا میں بھی ہو سکتا ہے)
ہونے کو تو کچھ بھی ہوسکتا ہے۔
ماو¿ں اورملاﺅں کا وجود اتنا بھی پاکیزہ اور عظیم نہیں ہوسکتا۔
نائن الیون قدیم نہیں ہوسکتا۔
مغرب مشرق کا سنگی بھی بن سکتا ہے۔
اور پورا سیارہ جنگی بھی بن سکتا ہے۔
کبھی ، امریکی صدرپنج وقتی نمازی ہوسکتا ہے!
اگلا پوپ حجازی ہوسکتا ہے!
جنرل نیازی غازی ہوسکتا ہے!
سوال یہ بھی کہ ایسے سوال کرتے کون ہیں؟
پاگل‘؟جاہل؟ یا جہنمی لوگ؟
وہ جو اس گندمی جہنم میں جلے ہوں اور آگ کی اذیت جانتے ہوں!
خیر! اذیت تو ہم اپنی ہی جانتے ہیں….
(کسی کی اذیت جاننا بھی کتنا انوکھا‘ دلچسپ اور پراسرار کام ہوتا ہوگا۔)
جیسے یورپ میں یہ تحقیق جاری ہے کہ مقدس ہستیوں کے مضحکہ خیز کارٹونوں سے سوا ارب مسلمانوں میں سے کتنوں کو کتنی اذیت پہنچتی ہے؟
اور محنت کے بجائے ’کٹھ پتلیوں‘ کے سہارے امدادی بجٹ پر کتنی غیرت اٹھتی ہے اور کتنی اذیت ہوتی ہے؟
اور اس ’اذیت ‘سے مستقبل بعید میں یورپ کو کیا کیا اذیت ہو سکتی ہے؟
اس صدی میں’ اذیت‘ تو کسی نازک اندام دوشیزہ پہ آنے والی ساون کی راتیں ٹھہریں….
یا پھر مسلمانوں کا تکیہ کلام….”اوہ!آہ!…. اوہو! ….اوہ نو! او آئی سی!“
آخر ہم نے اپنی تکالیف اور اذیتیں جاننے کے علاوہ اتنی بڑی کائنات میں کیا کیا ہے؟
آرٹ توخیر، حرام ٹھہرا , سائنس سے کتنا ناتا ہے۔
فنون لطیفہ اور ’فنون کثیفہ ‘ میں ہمارا حصہ کتنا حقیقی ہے۔ عظیم ماضی کا قصہ کتنا حقیقی ہے؟
ان فنون مذکورہ سے وابستہ تو وہ تھا جس نے عدالتی فیصلہ ٹھکرا کر بغاوت کے بجائے موت قبول کی۔
لیکن سوال تو یہ بھی ہے کہ سقراط کو جب زہر کا پیالہ پلایا جارہا تھا تو اس کے بہکائے ہوئے نوجوانوں نے عَلَم کے بجائے قلم کیوں اٹھایا؟
اس کی وصیت اور نصیحت تو نوٹ کی‘ اذیت نہیں نوٹ کی گئی۔
اذیت تو شاید عیسیٰ کی بھی نوٹ نہیں کی گئی۔
عیسیٰ ؑ کی اذیت نوٹ کی جاتی تو بڑے فائدے تھے۔
(’نوٹ‘ کے فائدے ویسے ہی زیادہ ہیں۔)
کم ازکم فائدہ یہ ہوتا کہ’ سولہ‘ کے سبق اور’ پچیس ‘کی چُھٹی کے علاوہ دسمبر کسی اور پہلو سے بھی رومانٹک ہوتا۔
رومانٹک تو وہ سین بھی ہوگا جب مسکراتے ہوئے عیسیٰؑ کو مصلوب کیا جارہا ہوگا۔
لیکن یہ منظر رومانٹک تو ہوسکتا ہے ‘ اتھینٹک نہیں!
آدھے کہتے ہیں ’مصلوب نہیں ہوئے‘ اور وہ سارے مصلوب ہورہے ہیں۔
آدھے کہتے ہیں ’مصلوب ہوگئے‘ اور وہ ساری دنیا کو مصلوب کر رہے ہیں۔
سوال یہ ہے کہ جب تمام انسانیت اپنی ذات کی صلیب اٹھائے بھاگے….
تو شاعر کیسے جاگے؟
وہ خیالی حقیقی ’اسقاط‘ کرنے والی Missتو نہیں کہ اپنی صلیب کوڑے پہ پھینک آیا کرے….
مسکرایا کرے….
اور بچوں کو نورانی قاعدہ پڑھایا کرے!
سوال تو یہ بھی ہے کہ ذاتی تجربہ کو اجتماعی تجربہ کے ساتھ ملاتے ہوئے تعصب کاحصہ کتنے فیصد ہے!
اور جھگڑا ہے ہی حصے کا‘
زمینی ہو یا مذہبی‘ لسانی ہو یا قومی‘ حصے کا قصہ تو فدک جتناپرانا ہے….طویل بھی ہے
ہابیل کے ساتھ قابیل بھی ہے‘یعنی رشتوں کی تذلیل بھی ہے‘
حصہ لینے کو ہی عزرائیل بھی ہے‘اور اسرائیل بھی ہے….
شیطان بھی ہے…. اور مشرقی پاکستان بھی ہے۔
سوال تو یہ بھی ہے کہ امریکہ یورپ نے آخر ہمارا کیا بگاڑا ہے؟
میری تحریر سے متاثر شخص آٹو گراف لے گا تو میں کوئی نصیحت تو لکھوں گا۔
آٹو گراف بک آنکھوں پہ رکھے تو ہم خود ہی پھرتے رہتے ہیں۔
گٹروں میں گرتے رہتے ہیں۔
سوال یہ ہے کہ جس ملک کی گورنمنٹ گٹروں کے ڈھکن چوری ہونا نہ روک سکے….
وہ نظریے اور مقصد کی گمشدگی پر کتنی نالیاں کھودلے گی؟
گمشدہ نظریوں کو کھودنے کے لئے تو ( پیشہ میٹرو نہیں)تیشہ¿ فرہاد چاہیے۔
ہم سب تو شیریں ہیں….
کوئی آئے گا اور لے جائے گا….
اگر نہ آیا؟….
مگر یہ ممکن ہی کس طرح ہے؟
سوال تو یہ بھی ہے کہ شیریں نے بغاوت کیوں نہ کی تھی؟
کورٹ میرج کیوں نہ کر لی تھی؟
شاید اس خوف سے کہ کہیں میر جعفر اور میر صادق اپنا بیان نہ بدل لیں۔
قدرت کا مہربان رویہ یہ ہے کہ ہر کعبے کو پاسبان صنم خانے سے ملا کرتے ہیں!
اور قربانی کے جانور زیادہ ہی پلا کرتے ہیں!
قدرت کا ستم ظریفانہ رویہ ہے کہ جو بھول جاتے ہیں وہ بھلا دئیے جاتے ہیں!
بچپن کی یادوں کی طرح!
OICکی قراردادوں کی طرح
سوال یہ ہے کہ بھکاری مو¿ثر احتجاج کیسے کریں؟
اور احتجاج کے بعد پھر راج کیسے کریں؟
سوال یہ ہے کہ جو بھول جانا چاہیے اسے بھلا کیوں نہیں سکتے؟….
اس آخری نظر میں عجب رنج تھا منیر
جانے کا اس کے رنج مجھے عمر بھر رہا!
ایک ہی وقت میں ایک شخص اتنا با اختیار اور ظالم کیسے ہوسکتا ہے کہ بن بتائے اچانک اٹھ جائے….
اور پھرکبھی بھی نہ جائے!
ایک ہی وقت میں دوسرا شخص اتنا بے اختیار اور مظلوم کیسے ہوسکتا ہے کہ کسی کو روک بھی نہ سکے….
اور پھر ہمیشہ روکتا رہے
….پھر تیرا رہ گزر یاد آیا!
گھڑیاں جب رُک جائیں تورہتی گھڑیاں ہی ہیں لیکن….
ہم انہیں اچھی گھڑیاں نہیں کہہ سکتے….
جیسے کسی شہر مدفون پر وقت گزرے!
سوئی چلتی رہے تو سودمند‘ اٹک جائے تو بے کار اور چبھنے لگے تو اذیت ناک ہوتی ہے!
آئیے ہم اپنی لہولہان کلائیاں بلند کر کے دعا کریں کہ خدا ہمارے شہر میں ایک اچھا سا گھڑی ساز بھیج دے۔
سوال یہ بھی ہے کہ جب دعائیں بھول جائیں تو پھر کیا’ اعمال‘ ہوتے ہیں؟
اور وہ اعمال نہ یاد رہیں تو کیاوبال ہوتے ہیں؟
سوال تو یہ بھی ہے کہ….
ایسے سوالات قابل غور بھی ہوا کرتے ہیں؟
یا پڑھنے والے صرف بور ہی ہوا کرتے ہیں؟
سوال کچھ اور بھی ہوا کرتے ہیں۔


Comments

FB Login Required - comments

One thought on “بہار آئی تو کُھل گئے ہیں …. حساب سارے!

  • 23-04-2016 at 1:11 pm
    Permalink

    واہ رے واہ. بہت خوب رافع

Comments are closed.