روسی ماہرین روہنگیا معاملے کو تیل کی جنگ سمجھتے ہیں


کسی نقطہ نظر سے متعلق عام طور پر یہی رویہ اختیار کیا جاتا ہے کہ اگر وہ ذاتی سوچ سے ملتا جلتا نہ ہو تو اسے یک طرفہ رائے یا ”سازشی مفروضہ“ قرار دے کر نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ اس کے برعکس ایک دوسری طرح کے لوگ کسی معاملے کو اتنا اچھالتے ہیں کہ وہ نہ صرف مبالغہ لگنے لگتا ہے بلکہ اس سے متعلق اختیار کیے گئے انداز سے دل اوبھ سا جاتا ہے۔ کچھ اور کسی غیر ملک کے تند معاملے کا اپنے ملک میں تند نہ سمجھے جانے والے معاملے سے تقابل کرکے غیر ملک کے معاملے کو نظر انداز کرنے اور اپنے ہاں کے معاملے کو بغور دیکھنے کی جانب توجہ دلاتے ہیں، جیسے روہنگیا سے متعلق ہوا۔ کہا گیا کہ یہ مسئلہ تو انیسویں صدی کے اواخر سے ہے جب انگریز نے برما کو ہندوستان سے علیحدہ کر دیا تھا اور مزدوری کی خاطر لے جائے گئے بنگالی مزدوروں کو وہیں رہنے دیا تھا جو رخائن کے علاقے میں آباد تھے۔ یہ تو سب جانتے ہیں کہ کچھ رخائن باغی بھی ہیں جو غالباً خود کو جہادی بھی کہتے ہیں اور رخائن کو خود مختار یا آزاد کرائے جانے کی غرض سے مسلح سرگرمیاں کرتے ہیں، چنانچہ وہاں بھڑکنے والی تشدد کی حالیہ لہر کو باغیوں کی کارروائیوں کے خلاف ردعمل کے طور پر بھی دیکھا گیا۔ اس سے بھی کوئی نا آشنا نہیں کہ اب خود مختاری یا آزادی کے لیے مسلح سرگرمی کو دہشت گردی بلکہ بین الاقوامی دہشت گردی کے طور پر لیا جاتا ہے۔ ہم اس معاملے کو اپنے اپنے تعصب کے عدسے سے دیکھتے ہیں تو آئیے یہ دیکھتے ہیں کہ جن کا اس معاملے سے مسلمان نہ ہونے کے سبب کوئی جذباتی تعلق نہیں وہ اسے کیسے دیکھ رہے ہیں۔ ان ماہرین کا کہنا ہے کہ رخائن کے علاقے میں روہنگیا مسلمانوں کے ساتھ تشدد کی نئی لہر دراصل ایک کثیر الجہتی بحران ہے جس میں بین الاقوامی سیاسی چالباز ملوث ہیں۔

روس کی اکادمی برائے سائنس کے تحت انسٹیٹیوٹ برائے مطالعہ شرق کے مرکز برائے جنوبی ایشیا کے منتظم دمتری مسیاکوو نے روسی ٹی وی چینل ”رشیا ٹوڈے“ سے بات کرتے ہوئے کہا، ”سب سے پہلی بات تو یہ کہ یہ گھناؤنا کھیل چین کے خلاف کھیلا جا رہا ہے جس نے رخائن کے علاقے میں بھاری سرمایہ کاری کی ہوئی ہے، اس کھیل کا دوسرا مقصد جنوب مشرقی ایشیا میں مسلمانوں کے خلاف نفرت کی آگ بھڑکانا ہے، تیسرا مقصد ”آسیان“ کے رکن ملکوں یعنی میانمار اور مسلمان آبادی والے انڈونیشیا و ملائشیا کے درمیان اختلافات پیدا کرکے ان کے تعلقات برہم کرنا ہے۔

مسیاکوو کے مطابق قتل و غارت گری کے گرم کردہ اس بازار سے جنوب مشرقی ایشیا میں عدم استحکام پیدا کیا جانا مقصود ہے اور یہ بات تب واضح ہو جاتی ہے جب رخائن سے منسلک سمندر میں گیس اور تیل کے وسیع ذخائر کی موجودگی کو پیش نگاہ رکھا جائے۔ جنرل تھان شوے جس نے برما پر ایک طویل عرصہ حکومت کی، کے نام سے موسوم رخائن کے علاقے میں گیس کے وسیع ذخائر ہیں۔ پھر رخائن سے منسلک سمندری خطے میں بھی تیل اور گیس کی موجودگی تقریباً یقینی ہے۔

جب 2004 میں توانائی کے ان وسیع ذخائر سے متعلق معلوم ہوا تھا تب اس کی جانب چین کی توجہ مبذول ہوئی تھی۔ 2013 تک چین نے تیل و گیس کی وہ پائپ لائن بچھا ڈالی تھی جو خلیج بنگال میں واقع میانمار کی بندرگاہ Kyaukphyu کو چین کے صوبہ ینان میں شہر کون منگ سے منسلک کرتی ہے۔ اس پائپ لائن کے ذریعے ایک تو چین مشرق وسطٰی اور افریقہ سے بحری جہازوں کے ذریعے لائے جانے والے خام تیل کو آبنائے ملاکا، جسے بحران کی صورت میں امریکہ با آسانی بند کر سکتا ہے، سے جہازوں کے گزرے بغیر اپنے ملک میں منتقل کر سکتا ہے اور ساتھ ہی میانمار سے توانائی کے وسائل کو زمینی راستے سے اپنے ہاں پہنچا سکتا ہے۔

ماسکو کی معروف پیپلز فرینڈ شپ یونیورسٹی کے انسٹیٹیوٹ برائے مطالعہ تزویر و اندازہ جات کے نائب مہتمم دمتری ایگور چینکو کا کہنا ہے کہ جو کچھ رخائن، میانمار میں روہنگیاؤں کے ساتھ ہو رہا ہے اسے آپ بمشکل ہی اتفاقیہ معاملہ کہہ سکتے ہیں۔ اگرچہ اس بحران کے پس پشت فی الواقعی کچھ مقامی عوامل ہیں مگر اسے ممکنہ طور پر خارجی چالبازوں اور خاص طور پر ریاستہائے متحدہ امریکہ نے بھی ہوا دی ہوگی۔

اگر میانمار میں عدم استحکام ہوتا ہے تو اس سے چین کے توانائی سے متعلق منصوبوں کو شدید زد پہنچے گی، پھر بحران چین کی دہلیز پر وقوع پذیر ہو رہا ہوگا۔ امریکہ اور شمالی کوریا کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں بیجنگ جلد ہی خود کو دو طرفہ چاند ماری کی زد میں پائے گا۔

ساتھ ہی ”برما ٹاسک فورس“ جو ایسی کئی تنظیموں پر مشتمل ہے جس کی مالی اعانت جارج سوروس کرتے ہیں اور جو 2013 سے برما میں فعال طور پر کام کر رہی ہے، بین الاقوامی برادری پر ” روہنگیا اقلیتی برادری کی نسل کشی“ روکنے سے متعلق زور ڈال رہی ہے۔ تاہم جارج سوروس کی برما کے اندرونی معاملات میں مداخلت خاصی پرانی ہے۔ جارج سوروس نے 2003 میں ایک ”یو ایس ٹاسک گروپ“ کے ساتھ ہمدستی کا آغاز کیا تھا جس کا مقصد ” میانمار میں طویل عرصے پہلے لائی جانے والی سیاسی، معاشی اور سماجی تبدیلیوں کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کی خاطر امریکہ کے دوسرے ملکوں کے ساتھ تعاون کو فروغ دینا” تھا۔

کونسل فار فارن ریلیشنز نے 2003 میں، “برما، ٹائم فار چینج“ کے عنوان سے ایک دستاویز شائع کی تھی جس میں درج تھا کہ ” امریکہ اور دوسرے ملکوں کی اعانت کے بغیر برما میں جمہوریت زندہ نہیں رہ سکتی“۔
جب جارج سوروس کسی بھی ملک میں کچھ کرنا چاہتے ہیں تو وہ وہاں پر مذہبی، نسلی اور سماجی تضادات کو نگاہ میں رکھتے ہیں پھر ایک منصوبے کے تحت ان میں سے کسی ایک کو یا کئی کو ہوا دے کر معاملات کو گرم کرتے ہیں“ ایگور چینکو کا کہنا ہے۔

ماہر موصوف کا کہنا تھا کہ مستحکم خطوں میں علاقائی مسائل کی آگ بھڑکا کر بیرونی چالباز عدم استحکام پیدا کرتے ہیں پھر آزاد ملک کو اپنے قابو میں کرکے ان پر بھرپور دباؤ ڈال سکتے ہیں۔
ان دو ماہرین اور خاص طور پر ایگورچینکو کے تجزیے سے جارج سوروس اور امریکہ کے خلاف ان کا تعصب تو کسی حد مترشح ہوتا ہے لیکن عراق، لیبیا، شام کے واقعات کے بعد، جہاں معاملات توانائی کے وسائل سے متعلق تھے یہ بات کوئی بعیداز قیاس بھی نہیں لگتی کہ چین کے ایشیا میں بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کو ماند کرنے یا گزند پہنچانے کی خاطر اس کی مخالف قوت کوئی بھی حربہ اختیار کر سکتی ہے۔

اب آپ چاہیں تو اس کو بھی ” سازشی مفروضہ“ قرار دے لیں لیکن سچ یہی ہے کہ اس بار بھی مسلمان ہی زد پر ہیں۔ یہ ایک ”زہریلا چکر“ ہے کہ پہلے نام نہاد ”مجاہدین“ پیدا کیے جاتے ہیں۔ پھر اس علاقے کے مسلمانوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے جس کے نتیجے میں مزید بنیاد پرست تنظیمیں سر ابھارتی ہیں۔ پھر ان کی سرکوبی کا کھیل کھیلا جاتا ہے جو کبھی ہو کر کے نہیں دیتی۔ توانائی کے وسائل چاہے اپنے تسلط میں نہ آئں لیکن اپنے حریف کے لیے راستے مسدود ضرور کر دیے جاتے ہیں۔

اس سے بڑا سچ کوئی ہے نہیں کہ اگر اپنے حریف کو بے دست و پا کرنا ہو تو پہلے اس کی معیشت کو کمزور کرو۔ چین کی معیشت کا انحصار صنعتی پیداوار پر ہے اور صنعت کو رواں دواں رکھے جانے اور فروغ کی خاطر توانائی کے وسائل اشد ضروری ہیں۔ امریکہ بہت اچھی طرح جانتا ہے کہ چین کے لیے توانائی کے وسائل اپنے ہاں لانے کا سب سے اہم راستہ آبنائے ملاکا کی گزرگاہ ہے۔ چین بھی جانتا ہے کہ اس رگ پر کسی بھی وقت نشتر چل سکتا ہے اس لیے وہ بھی روس، میانمار اور پاکستان سے پائپ لائنیں بچھا کر خود کو محفوظ کرنے کی منصوبہ بندی میں مصروف ہے مگر امریکہ ہر جگہ اس کا مقابلہ کر رہا ہے اور کرتا رہے گا، اس ضمن میں اگلا نشانہ پاکستان ہو سکتا ہے۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔