یوم نسواں کا ظلم سے آغاز


phpThumb_generatedآج دنیا بھر میں عورتوں کے لئے مساوی حقوق و احترام اور امن کا دن منایا جا رہا ہے۔ لیکن آج ہی کراچی سے یہ افسوسناک خبر آئی ہے کہ وہاں مرضی سے شادی کرنے والے ایک نوجوان جوڑے کو بے دردی سے قتل کردیا گیا۔ پاکستانی سماج کے تناظر میں یہ کوئی انوکھا واقعہ نہیں ہے۔ غیرت اور خاندانی وقار کے نام پر قتل کی روایت راسخ ہو چکی ہے اور حکومت کے عزم اور اعلانات کے باوجود اس وحشیانہ رویہ کی روک تھام کے لئے کام کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی جارہی۔ حال ہی میں اس موضوع پر پاکستانی فلمساز شرمین عبید چنائے کی دستاویزی فلم کو اکیڈمی ایوارڈ دیا گیا ہے۔ تاہم ،ملک میں رجعت پسند عناصر اس قسم کے اہم اور ضروری کام کو بھی کافروں کی سازش اور ملک کی روایت پر حملہ قرار دیتے ہیں۔

اسی رویہ اور انسان دشمن روایات کی وجہ سے ملک میں عورتوں کے ساتھ ظلم وزیادتی کو جائز اور درست قرار دیا جاتا ہے۔ حال ہی میں پنجاب اسمبلی نے عورتوں کے تحفظ کے لئے ایک قانون منظور کیا تو ملک بھر کے متعدد جید علما کے علاوہ اسلامی نظریاتی کونسل کے چئیرمین نے بھی اسے شریعت کے منافی قرار دیا۔ حالانکہ ملک میں عورتوں کے خلاف تشدد ایسے ناسور کی حیثیت اختیار کرچکاہے جس کا علاج کئے بغیر ترقی کا تصور کرنامحال ہے۔ اسی لئے بے حد ضروری ہے کہ سماجی سطح پر اس قسم کے سماجی رویہ کے خلاف مہم جوئی کی جائے۔ ملک کے مذہبی رہنما اس حوالے اہم کردار ادا کرسکتے ہیں لیکن بدقسمتی سے انہوں نے عورتوں کے تحفظ اور حقوق کے حوالے سے منفی اور تخریبی رویہ اختیار کرنے کا تہیہ کیا ہوا ہے۔ ان حالات میں ملک کے سماجی اور سیاسی گروہوں پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اس صورت حال کو تبدیل کرنے کے لئے اقدام کریں اور دین کے نام پر ظلم اور استحصال کی وکالت کرنے والوں کو معاشرے میں بے اثر کرنے کے لئے باقاعدہ مہم کا آغاز کیا جائے۔

پاکستان میں ہر سال چار سو کے لگ بھگ خواتین غیرت کے نام پر قتل ہوتی ہیں۔ ایک ہزار کے قریب جنسی زیادتی کا شکار بنتی ہیں۔ ایک سو خواتین کے چہرے تیزاب پھینک کر جھلسا دئے جاتے ہیں۔ یہ تو وہ جرائم ہیں جو مسلمہ طور پر غلط اور قانون شکنی سمجھے جاتے ہیں لیکن انہیں ختم کرنے کے لئے کام کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی۔ ان مظالم کے علاوہ عورتوں کو سماجی سطح پر کمتر سمجھنے اور زندگی کے مختلف شعبوں میں مناسب مواقع فراہم نہ کرنے کا چلن بھی عام ہے۔ اول تو عورتوں کو کام کرنے کا حق نہیں دیا جاتا اور اگر وہ کسی صورت ایسی کوشش کرتی ہیں تو انہیں تعصب، نفرت، طعن اور استحصال کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

کراچی میں جس نوجوان جوڑے کو قتل کیا گیا ہے ، ان کی عمریں صرف سترہ اور تئیس برس تھیں۔ ان کا جرم یہ تھا کہ دونوں نے اپنی مرضی سے شادی کرلی تھی۔ لڑکی کے ماں باپ اس کے ماموں زاد سے شادی کرنا چاہتے تھے جبکہ لڑکی اپنے چچا زاد کو پسند کرتی تھی۔ جو معاشرہ ایک لڑکی کو اپنی مرضی سے اپنا ساتھی چننے کا حق بھی نہیں دیتا ، وہ ترقی اور کامیابی کے جتنے بھی دعوے کرلے، اسے ترقی معکوس ہی سمجھا جائے گا۔


Comments

FB Login Required - comments

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 411 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali