ضرورت ہے ایک گدھے کی


ہمارے پرانے اور عزیز دوست ابو الخیر کشفی بھی آج کل جاپان میں ہیں لیکن ٹوکیو میں نہیں۔ اوساکا میں ان کی فرمائش ہے کہ اوساکا آؤ اور یہاں سے کیو ٹو اور نارا چلیں کہ اصل جاپان کے تہذیبی وارث یہی شہر ہیں۔ اوساکا ہم اپنے ایر ٹکٹ پر بھی جا سکتے ہیں۔ لیکن ان کی ہدایت ہے کہ ’’ہکاری ‘‘میں آؤ۔ جاپان کی یہ مشہور گاڑی گولی کی رفتار سے چلتی ہے۔ اس کو بلٹ ٹرین بھی کہتے ہیں۔ ایک تو ہمارا جی آرام کی طرف مائل ہے پھر ایک پہاڑی مقام ہاکونے ہمارے پروگرام میں پہلے سے شامل ہے اورپھر یک طرفہ سفر بھی ہمارے حساب سے سوا سو روپے کا ہو جاتا ہے۔ جو پردیس میں ہمارے لئے زیادہ ہے۔ اور پھر کراچی کی بھی فکر ہے۔ لہذا کشفی صاحب کو فون کر دیا کہ یار عزیز تم خود ہی پہنچو۔ ہم کراچی سے ٹوکیو آگئے ہیں تو کیا تم اوساکا سے یہاں تک نہیں آ سکتے

جاپانیوں کے پاس صنعت و تجارت کے طفیل اتنے پیسے جمع ہو گئے ہیں۔ ڈالر پونڈ وغیرہ بھی کہ حکومت خود لوگوں کو شوق دلاتی ہے کہ بھائیو۔ ملک سے باہر جاؤ۔ اور پیسے خرچ کرو۔ ہر جاپانی کو آمدورفت کے خرچ کے علاوہ تین ہزار ڈالر فی کس خرچ کرنے کی کھلی چھٹی ہے۔ اہل پاکستان سے ہمیں کہنا ہے کہ کھیتوں کو دے لو پانی، اب بہہ رہی ہے گنگا۔ ذرا کاغان وغیرہ کی تشہیر یہاں ہو جائے تو ملک کو بھی فائدہ پہنچے اورپی آئی اے کو بھی۔ پرسوں پر لے روز سیاحت کے محکمے کے ایک پاکستانی حاکم یہاں تشریف لائے تھے وقت ان کے پاس کم ہی تھا۔ رات کے نو بجے آئے اور صبح نو بجے تشریف لے گئے۔ کوئی اس سے زیادہ ضروری کام ہو گا۔ سفارت خانے والوں نے یہاں کے وزیر سیاحت یا نائب وزیر سیاحت سے ان کو ملایا۔ پاکستان اور جاپان کو ایک دوسرے کے قریب لانے کی بات ہوئی۔ جاپانی وزیر نے کہا کہ اگر پاکستان کو جاپان سے روشناس کرانا ہے تو ایک گدھا یہاں بھیج دیجئے۔ حاضرین نے بات کو ہنس کر ٹالنا چاہا۔ لیکن موصوف اسی پر مصر تھے کہ ہاتھی نہیں مانگتے، گھوڑا نہیں مانگتے ہم کو تو گدھا چاہیے۔

اسی بارے میں: ۔  امیر حمزہ کا اسلام آباد آنا اور دلوں کو فتح کرنا

اے صاحبو! پاک وطن کے رہنے والو! دیکھو دوسرے ملکوں میں گدھے کی کتنی مانگ ہے۔ کتنی عزت ہے۔ امریکہ میں ڈیموکریٹک پارٹی کا نشان ہی گدھا ہے۔ ادھر ہم ہیں کہ اپنے ملک کے گدھوں کی کماحقہ قدر نہیں کرتے۔ بعض لوگ تو گدھوں کو جو ہمارے ہاں ہر شعبہ زندگی میں بھر ے ہیں تحقیر سے بھی دیکھتے ہیں اوراکثر تو گدھے گھوڑے کی تمیز بھی اٹھا دیتے ہیں۔ دونوں کو ایک لاٹھی سے ہانکنے لگتے ہیں۔ حالانکہ گھوڑا سوائے وکٹوریا کھینچنے اور ریس میں دوڑانے کے، کس کام آتا ہے۔ سو وکٹوریا ختم ہو رہی ہے اور ریس کو ہم خودختم کرنا چاہتے ہیں۔ گدھا اس کے مقابلے میں مجمع صفات ہے معصوم۔ نیک دل۔ بردبار۔ لدھو۔ جن صاحب نے ہمیں یہ گفتگو سنائی ان سے ہم نے کہا کہ گدھوں کو تو ہم باہربھیجتے رہتے ہیں۔ بلکہ ہمارے ملک سے باہر جانے والوں میں اکثر گدھے ہی ہوتے ہیں۔ ان صاحب نے کہا جاپانی وزیر کی مراد واقعی چار ٹانگوں والے سچ مچ گدھے سے تھی۔ جاپان میں گدھے نہیں ہوتے۔ یہ گدھا چڑیا گھر میں رکھا جائے گا۔ جاپانی بچے اسے ذوق شوق سے دیکھیں گے اور پوچھیں گے کہ یہ کہاں پایا جاتا ہے؟ جواب ملے گا پاکستان میں۔ اور یو ں وہ پاکستان سے روشناس ہو جائیں گے اور یاد رکھیں گے کہ پاکستان بھی ایک ملک ہے وہ ملک جس میں گدھے پائے جاتے ہیں۔ اور افراط سے پائے جاتے ہیں۔
***


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔