اپنے بعد اجالے کی خبر دینے والا شاعر: ظہیر کاشمیری


نام پیر دستگیر ظہیر اور تخلص ظہیر تھا۔ 21 اگست 1919ء کو امرتسر میں پیدا ہوئے۔ کشمیر ان کا آبائی وطن تھا۔ انگریزی میں ایم اے کیا۔ گیارہ برس کی عمر سے شعر گوئی کی ابتدا ہو گئی تھی۔ نوعمری میں ترقی پسند ادب سے وابستہ ہو گئیے تھے۔ آزادی کی جدو جہد میں انگریز سرکار کی جیل بھی کاٹی۔ تقسیم ہند سے قبل ہی لاہور آ گئے تھے۔ ابتدا میں فلمی دنیا میں ادبی مشیر کی خدمات انجام دیں۔ 1959ء میں روزنامہ ’احسان‘ میں ’مجنوں‘کے نام سے کالم لکھتے رہے۔ ’’سویرا‘‘ کی ادارت بھی کی۔ فلم ’’تین پھول‘‘ کی کہانی لکھی اور خود ہی ہدایت کاری بھی کی۔ ظہیر کاشمیری روزنامہ ’’مساوات‘‘ لاہور کے مدیر بھی رہے۔ 12 دسمبر1993ء کو لاہور میں انتقال ہوا۔

ان کی تصانیف کے نام یہ ہیں: ’عظمت آدم‘، ’تغزل‘، ’چراغ آخر شب‘، ’رقص جنوں‘،’اوراق مصور‘،’ادب کے مادی نظریے‘۔ بحوالہ (محمد شمس الحق)

1953 کے مارشل لا کے دوران فوج نے ظہیر کشمیری کو بیڈن روڈ کی ایک گلی سے پکڑ کر تھانے میں قید کردیا۔ دوسرے روز، نیلا گنبد کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج کے لان میں فوجی کرنل نے کچہری لگا رکھی تھی۔ بیڈن روڈ کے بہت سارے لڑکوں کو 3 ماہ سے 6 ماہ اور ایک سال قید کی سزائیں سنائی جا رہی تھیں۔ اتنے میں ظہیرکشمیری کی باری آئی۔

کرنل نے پوچھا ” ظہیرکشمیری، تم نے مرزا غلام احمد کو گالیاں دیں اور اس کو کافر کہا۔ یہ بھی کہا کہ وہ ایک جھوٹا نبی ہے اور قادیانیوں پر پتھر مارے“ ظہیر نے اپنے خلاف یہ من گھڑت فرد جرم سن کر کہا۔ “میں نہیں جانتا کہ مرزا غلام احمد کون ہے۔ اگر وہ اپنے آپ کو پیغمبر کہتا ہے تو اس میں میرا کیا قصور ہے؟“ کرنل ہنس پڑا اور ظہیر کشمیری کو چھوڑ دیا (بحوالہ اختر مرزا)

اسی بارے میں: ۔  کیا شہزادہ الولید بن طلال کرپٹ ہیں؟

آئیے ظہیر کشمیری کے اشعار پڑھتے ہیں

ہواﺅں میں کہاں ان باد بانوں نے ٹھہرنا ہے

سلامت جذبہ دل چاہئے گر پار اُترنا ہے

غروبِ روشنی کا جسن پل دو پل کا قصہ ہے

کہ بامِ صبح سے خورشید نے پھر سے اُبھرنا ہے

ابھی سے اہلِ دریا کشتیوں کا آسرا کر لیں

جو موجِ زیرِ پا ہے اس کو سر سے بھی گزرنا ہے

بہارو اتنی عجلت سے گزر جانا نہیں اچھا

ابھی تو نودمیدہ پھول کا چہرہ نکھرنا ہے

سحر پیدا کریں گے یا تڑپ کر جان دے دیں گے

ہمیں تو آج کی شب کچھ نہ کچھ کر ہی گزرنا ہے

چمن میں لالہ و گُل گوش بر آواز بیٹھے ہیں

پون نے جھانجھریں پہنے ہوئے یاں سے گزرنا ہے

٭٭٭    ٭٭٭

چُھپا کر دھجیاں جیب و گریباں کی گزرنا ہے

ہمیں کچھ احترامِ کوچہ جاناں بھی کرنا ہے

کسی گرداب کو سمتِ سفر معلوم ہو شاید

سوار کشتی عمرِ رواں نے پار اُترنا ہے

ہمیں جلوﺅں کی آوارہ خرامی سے نہیں مطلب

ہمیں تو اس دلِ بے باک کو زنجیر کرنا ہے

ظہیر آئینہ دل کی صفائی عین لازم ہے

اسی شیشے کے آگے بیٹھ کر اس نے سنورنا ہے


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔