وہ رات جو کشمیر کی زونی اور زرینہ کبھی بھلا نہیں پائیں گی


 فروری 1991۔ انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کے ضلع کپواڑہ کے چھوٹے سے گاؤں کنن میں دن بھر کی مصروفیات اور گہما گہمی کے بعد زرینہ اور زونی (فرضی نام) رات کو سونے کی تیاری کر رہی تھیں، کہ اچانک دروازے پر دستک ہوئی۔ اس رات جب زرینہ اور زونی نے دروازے پر فوج کو دیکھا تو سمجھ گئیں کہ یہ کریک ڈاؤن ہے۔ حسب معمول مردوں کو الگ کر دیا گیا اور فوج گھروں میں گھس آئی لیکن اس کے بعد جو ہوا اسے یاد کرتے آج بھی زونی کی آنکھیں بھر آتی ہیں۔

‘ہم سونے کی تیاری کر رہے تھے کہ فوج آگئی۔ انھوں نہ مردوں کو باہر نکال دیا۔ کچھ نے ہمارے سامنے شراب پی۔ میری دو سال کی بچی میری گود میں تھی۔ ہاتھا پائی میں وہ کھڑکی سے باہر گر گئی۔ وہ زندگی بھر کے لیے معذور ہو گئی۔ تین فوجیوں نے مجھے پکڑ لیا۔ میرا پھیرن، میری قمیض پھاڑ دی۔ اس کے بعد مجھے نہیں معلوم کہ کیا کیا ہوا۔ وہ پانچ لوگ تھے۔ ان کی شکلیں مجھے اب بھی یاد ہیں۔’

زرینہ  (فرضی نام) بھی اسی گھر میں موجود تھیں۔ اُن کی شادی کو صرف 11 دن ہوئے تھے۔

‘میں اسی دن میکے سے واپس آئی تھی۔ فوجیوں نے میری ساس سے پوچھا کہ یہ نئے کپڑے کس کے ہیں۔ میری ساس نے کہا یہ ہماری نئی دلھن ہے۔ اس کے بعد جو ہوا میں بیان نہیں کر سکتی۔ ہمارے ساتھ صرف زیادتی نہیں ہوئی، ایسا ظلم ہوا ہے جس کی کوئی حد نہیں۔ آج بھی فوجیوں کو دیکھ کر ہم ڈر سے تڑپ جاتے ہیں۔’

کشمیر میں اُن دنوں بھارت مخالف مسلح تحریک شروع ہو چکی تھی، اور اسے کنٹرول کرنے کے لیے انڈیا کی طرف سے بڑے پیمانے پر فوجی آپریشن جاری تھا۔ اس سلسلے میں جگہ جگہ ‘کارڈن اینڈ سرچ آپریشن’ ہوا کرتے تھے، جو ویسے اب تک ختم نہیں ہوئے۔ انھیں عام زبان میں ‘کریک ڈاؤن’ کہا جاتا ہے۔ ایک علاقے کو فوج گھیرے میں لے لیتی ہے، اور اس کے بعد علاقے کے تمام مردوں کو گھروں سے نکال کر کسی ایک جگہ پر اکٹھا کیا جاتا ہے۔ اس کے بعد گھروں کی، جن میں صرف عورتیں اور بچے ہوتے ہیں، تلاشی لی جاتی ہے۔ ساتھ ساتھ مردوں کی شناختی پریڈ ہوتی ہے جس میں مشتبہ عسکریت پسندوں کو الگ کیا جاتا ہے۔

اسی بارے میں: ۔  منٹو: پاگلوں کو ہوشمند بنانے کی کوشش کرنا جرم ہے

کنن اور اس کے قریب واقع پوش پورا کے لوگ انڈین فوج پر اس رات گاؤں کی عورتوں کے ساتھ اجتماعی ریپ کا الزام لگاتے ہیں۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس رات عورتوں کے ریپ کے ساتھ ساتھ مردوں کو بھی بری طرح تشدد کا نشانہ بنایا گیا، اور وہ پچھلے 26 برس سے بقول ان کے، انصاف کی لڑائی لڑ رہے ہیں۔

سرینگر میں ریاستی حکومت کے وزیر نعیم اختر سے جب میں نے اس کیس کے بارے میں بات کی تو انھوں نے کہا کہ کشمیر جیسے حالات میں کئی دفعہ حقیقت پر دھول سی جم جاتی ہے۔ اب کچھ نوجوان کشمیری خواتین کا کہنا ہے کہ وہ اسی دھول کو ہٹانے کی کوشش کر رہی ہیں۔ 2013 میں کچھ کشمیری عورتوں نے کنن پوشپورا کے حوالے سے مقامی کورٹ میں ایک پٹیشن دائر کر کے اس کیس کو دوبارہ کھولنے کی کوشش کی۔

کنن اور اس کے قریب واقع پوشپورا کے لوگ انڈین فوج پر اس رات گاؤں کی عورتوں کے ساتھ اجتماعی ریپ کا الزام لگاتے ہیں۔ نتاشا راتھر ان میں سے ایک ہیں۔ انھوں نے چار دیگر نوجوان کشمیری خواتین کے ساتھ مل کر کنن پوشپورا اجتماعی ریپ پر ایک انعام یافتہ کتاب بھی لکھی ہے۔

‘یہ ایک اتنا بڑا اجتماعی ریپ کا کیس ہے جس میں متاثرین ہمت کر کے سامنے آئے ہیں اور اس میں بہت سے شواہد موجود ہیں۔ ہم چاہتے تھے کہ یہ کیس دوبارہ کھولا جائے۔’

کیس دوبارہ شروع ہوا، اور ایک طویل اور مشکل عمل کے بعد کشمیر کی ہائی کورٹ نے متاثرین کو زرِ تلافی دینے کے احکامات جاری کیے۔ ریاستی حکومت نے پہلے کہا کہ اسے یہ فیصلہ منظور ہے، لیکن اس کے بعد اس فیصلے کو انڈیا کی سپریم کورٹ میں چیلینج کر دیا گیا جہاں یہ کیس اب بھی جاری ہے۔ انڈین فوج پہلے سے ان الزامات کی تردید کرتی ہے۔ اس بار ہم نے ان سے انٹرویو کی درخواست کی تو انھوں نے ہمیں ایک بیان بھیجا۔

اسی بارے میں: ۔  نئے آدم کی تخلیق کا نسخہ

فوج کے ترجمان نے ہمیں بتایا کہ ان الزامات کی تین بار آزادانہ تفتیش ہوئی اور متضاد بیانات کی وجہ سے پولیس نے یہ کیس بند کر دیا، لیکن ایک مقامی عدالت ملزمان کی شناختی پریڈ کرانے کا حکم دے چکی ہے جس پر عمل ہونا ابھی باقی ہے۔

حکومتی اہلکار تو محتاط اور اشاروں کی زبان استعمال کرتے ہیں لیکن سب نہیں۔ ہم خواتین کے حقوق کے ریاستی کمیشن کی سربراہ نعیمہ احمد مہجور سے ملے تو انھوں نے صاف لفظوں میں کہا کہ ان کی نظر میں ان گاؤں والوں کے ساتھ یہ جرم ہوا ہے اور اسے ثابت کیا جانا چاہیے۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ ریاستی حکومت اس عمل میں دخل اندازی نہیں کر سکتی۔

اس رات کنن پوشپورا میں واقعی کیا ہوا، سچائی شاید کبھی سامنے نہ آئے۔ یہاں ایک نئی نسل جوان ہو چکی ہے۔ گاؤں کا اور مکانوں کا حلیہ بدل رہا ہے۔ لیکن کچھ یادیں ہیں جو مکینوں کا ساتھ نہیں چھوڑتیں۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 924 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp