باہر کی دنیا، مشرقی اقدار اور مغربی خواب


dr. amir mirکالج کے زمانے میں دوستوں کے گروپ کے ایک دوست کا ہمیشہ سے یہ فیصلہ ہوتا تھا کہ انہوں نے جو مرضی ہو جائے، پاکستان میں نہیں رہنا ہے۔ بہرحال ڈگری کے بعد وہ کینیڈا چلے گئے پر وہاں دال نہیں گلی تو پاکستان واپس آ گئے۔ پھر ایک دن ان کی شادی کے بلاوے کا فون آیا اور برٹش نیشنل پاکستانی خاتون سے شادی کے بعد وہ لندن چلے گئے اور پھر ظاہر ہے کہ انہیں نیشنلٹی مل گئی۔ کچھ سال پہلے ان کا نمبر ملا تو انہیں فون کیا تو فون اٹھاتے ہی کسی چھوٹے بچے کے رونے کی آواز آئی تو میں نے دوست سے کہا “یار بچہ بڈی نوں پھڑا دے اینے سالاں بعد تیرے نال گل ہو رئی اے پر بچے دے رون دی آواز نال تیری آواز دی سمجھ نہیں آرئی (یار بچہ بیوی کو پکڑا دو، اتنے سال بعد تم سے بات ہو رہی ہے لیکن بچے کے رونے کی آواز سے تمہاری آواز سمجھ نہیں آ رہی ہے) تو ان کا جواب تھا یار بڈی نوں بچہ کی پھڑاواں؟ بڈی تے قانون سکھاندی اے” (یار بیوی کو بچہ کیا پکڑاؤں، بیوی تو قانون سکھاتی ہے)۔ غرض کہ ان سے جو تھوڑی بہت بات ہوئی اس سے یہی سمجھ آیا کہ صاحب اندر سے ایک خالص مشرقی شوہر ہیں پر بیگم صاحبہ مشرقی بیوی بننے سے انکاری ہیں تو پھر روز کیا صورت حال پیش آتی ہو گی یہ آپ لوگ سمجھ ہی سکتے ہیں۔

میرے ایک نہایت قریبی رشتہ دار نے 2002 میں والدین کو قائل کر لیا کہ انہیں باہر بھیج دیا جائے تو وہ پانچ سال کے بعد پچاس لاکھ روپیہ کما کے پاکستان واپس آ جائیں گے، پر صاحب جا “سٹوڈنٹ ویزہ” پہ رہے تھے۔ میں نے والدین اور صاحب کو سمجھایا کہ سٹوڈنٹ ویزے پر آپ کے خواب پورے نہیں ہوں گے پر خیر میری بات کا اثر یہ ہوا کہ مجھے حاسد کا طعنہ ملا اور صاحب آج بھی مجھے اپنا دشمن ہی تصور کرتے ہیں۔ خیر 2016 میں ریزلٹ یہ ہے کہ وہ صاحب اب گارڈ کی نوکری کر رہے ھیں، نیشنلٹی بھی نہیں ملی اور پچاس کیا، پانچ لاکھ بھی اکٹھے نہیں ہوئے ہیں اور ان کے آنے کے انتظار میں ان کی والدہ پانچ سال قبل وفات پا چکی ہیں۔

ایک اور سینئر دوست جن کی تین بیٹیاں ہیں اور غیرملکی نیشنلٹی بھی ہے۔ چار سال قبل اطلاع ملی تھی کہ ان کو نفسیاتی ہسپتال میں داخل کروایا گیا ہے اور اب بھی وہ زیر علاج ہی ہیں اور وجہ جو پتہ لگی وہ یہ تھی کہ بچیاں جو بیچاری اس وقت نابالغ تھیں، باپ کو یہ فکر کھائی جا رہی تھی کہ کل کلاں کو جب یہ بڑی ہوں جائیں گی تو ان کو ڈیٹ پہ جانے سے کیسے روکوں گا؟ وغیرہ وغیرہ۔

ایک اور کلاس فیلو جو کہ وہاں ایک نیشنل اور وڈے ڈاکٹر صاحب بن چکے ہیں، مجھ سے سعودیہ سیٹل ہونے کا مشورہ کر رہے تھے۔ ایک وجہ جو انہوں نے بتائی کہ وہ چاہتے ہیں کہ بچے کچھ دیر اسلامی ماحول میں رہ لیں اور میں سوچ رہا تھا کہ میرا دوست دو دھاری تلوار پہ چلے گا۔ ایک تو بچوں کو انگریز ماحول سے پرے رکھے گا اور دوسرا بچوں کو ان لوگوں سے بھی بچانا ہو گا جنہوں نے سعیدہ وارثی کو انڈے مارے تھے اور ان سے سے بھی جو داعش، شام، عراق جا رھے ہیں۔ یہ تو سب ہی جانتے ھیں کہ کافی لوگ یورپ اور امریکہ کے مسلم معاشرے سے داعش وغیرہ میں داخل ہو رہے ہیں۔ باہر رہنے والے مذہب کے معاملے میں ہم لوگوں سے بہت زیادہ کنفیوز ہیں۔

ایک سینئر کالج فیلو آج سے کوئی سات سال قبل مجھے اچانک لاہور میں میرے کلینک پہ ملنے آئے، ویسے رہنے والے کراچی کے ہیں۔ 2010 میں وہ 39 کے لگ بھگ تھے۔ فیملی کا پوچھا تو پتہ چلا کہ ابھی تک شادی نہیں کر سکے کیونکہ ابھی ایک سال قبل امریکن نیشنلٹی ملی ہے اور سیٹل ڈاؤن ہوئے ہیں۔ پاکستانی گوری سے اس لیے شادی نہیں کی کیونکہ ان کے بقول پاکستانی گوریاں کالے تک نہیں چھوڑتیں۔ مجھے آرڈر کیا کہ دو تین دنوں کے اندر رشتہ ڈھونڈ کر میرا نکاح پڑھوا دو۔ میں نے مذاق میں کہا “دوست تو تو امریکہ سے آیا ہے پھر اتنی تھڑی ہوئی باتیں کیوں کر رہا ہے؟ تو فرمانے لگے 39 سال کا ہو گیا ہوں اور آج تک کسی عورت کو ہاتھ تک نہیں لگایا تو اب تو خود ہی سمجھ جا کہ اتنا تھڑا ہوا کیوں ہوں؟ میں نے کہا بھائی وہاں تو ماحول بہت کھلا ہے؟ کہنے لگے ماحول وہاں کے سیٹلرز کے لیے کھلا ہے۔ ھم جیسے strugglers تو فقرے شمار ہوتے ہیں اور فقروں کو کون لفٹ کرواتی ہے؟

تو دوستو جو باہر جانا چاہتے ہیں۔ جائیں جی ضرور جائیں۔ میں کسی کی حوصلہ شکنی نہیں کرتا۔ پر شرط یہ ہے کہ باہر آپ اس وقت جائیں جب آپ کی کوالٹی آف لائف باہر جانے سے بہتر ہو جائے اور صرف آمدنی میں اضافہ ہی بہتر کوالٹی آف لائف نہیں ہوتا بلکہ اس میں ذہنی سکون بھی شامل ہوتا ہے۔


Comments

FB Login Required - comments