رشتہ آنٹیوں سے بچنے کے لیے پاکستانی گرافک ڈیزائنر نے انوکھا بورڈ گیم بنا لیا


24  سالہ پاکستانی گرافک ڈیزائنر، نشراح بالاگام والا پڑھائی کے لیے کراچی سے امریکہ تک پہنچ گئیں لیکن رشتہ آنٹیوں سے پیچھا نہ چھوٹا۔ ایکسپیرینشل گیمز (یعنی تجرباتی گیمز) بنانے والی نشراح نے آرٹسٹ کی نظر سے سوچا کہ ارینج میرج کے جھنجھٹ سے بچنے کے لیے کیوں نہ اس پر ایک گیم بنایا جائے۔ انھوں نے ایک بورڈ گیم تخلیق کیا اور اس کا نام ارینجڈ میریجز کی مناسبت سے رکھا ’ارینجڈ۔‘

’رشتہ آنٹیوں اور ارینج میرج سے بھاگنے کی کوشش میں کبھی میں نے جھوٹی منگنی کی انگوٹھی پہنی تو کبھی جان بوجھ کر دھوپ میں کالی ہوئی تاکہ لوگ مجھے ریجیکٹ کر دیں۔ پھر میں نے سوچا کیوں نہ اپنی زندگی کی اس جدوجہد پر ایک بورڈ گیم بناؤں۔ میں نے دیکھا ہے کہ پاکستانی معاشرے میں شادی کے بارے میں بہت فرسودہ اصول ہیں۔ جیسے جہیز لینا اور یہ کہ لڑکا لڑکی دوست نہیں ہو سکتے۔ تو میں ان تمام باتوں کی فہرست بنائی اور میری بورڈ گیم انھی پر مبنی ہے۔‘

نشراح نے امریکہ میں مونوپولی بنانے والی کمپنی ہیسبرو کے ساتھ بھی کام کیا ہے اور پھر پڑھائی کے دوران اس گیم کو ڈیویلپ کیا۔ اس گیم میں تین لڑکیاں ایک رشتہ آنٹی سے بھاگنے کی کوشش کر رہی ہیں۔

کیا اس گیم کو صرف لڑکیاں کھیل سکتی ہیں؟

اس بارے میں نشراح نے بتایا کہ ارینجڈ بورڈ گیم لڑکے اور لڑکیاں دونوں کھیل سکتے ہیں لیکن اس گیم میں ایکٹیو پیادے لڑکیاں ہی ہیں۔ گیم کی تفصیلات بتاتے ہوئے انھوں نے کہا کہ لڑکوں کی شکل کے پیادے صرف رشتہ آنٹی کے مہرے ہیں جن سے وہ لڑکیوں کو بیاہیں گی۔ تین سے چار افراد کے درمیاں کھیلی جانے والی اس گیم میں ایک کھلاڑی رشتہ آنٹی کے طور پر کھیلے گا جبکہ باقی تین سے چار لوگ شادی کرنے والی لڑکیوں کے طور پر کھیل سکتے ہیں۔ پیادوں کو اپنی پسند سے شادی کرنے کے لیے ناچنے کے بجائے کارڈوں کے ذریعے رشتہ آنٹی سے دور بھاگنا ہے۔

اسی بارے میں: ۔  میرا کردار دھوکہ دے گیا

نشراح کے مطابق گیم بنانے کا مقصد ہے کہ کھیل کھیل میں ارینجڈ میرج جیسے اہم موضوع پر معاشرے میں بات شروع ہو۔ اس گیم کو لانچ ہوئے چند ہی روز ہوئے ہیں اور اس کی وجہ سے ارینجڈ میرج پر ایک نئی بحث شروع ہو گئی ہے۔ کیا اس گیم کو بنانے والی نشراح نے کبھی سوچا تھا کہ یہ اتنی مقبول ہو جائے گی؟

‘جب میں نے یہ گیم بنائی تھی تو میں نے بالکل نہیں سوچا تھا کہ یہ اتنی وائرل ہو گی۔ پاکستان اور انڈیا سے لڑکیوں کا بہت ردعمل آیا ہے۔ ہر کوئی اپنے مسائل کے بارے میں بتا رہا ہے تو کوئی کہہ رہا ہے کہ آپ کی گیم خرید کر اپنے والدین کے ساتھ کھیلوں گی تاکہ ان کو سمجھ آئے کہ ارینج میرج پروپوزل میں لڑکیوں پر کیا گزرتی ہے۔‘

‘لیکن لڑکوں سے عجیب ردِعمل ملا ہے۔ پانچ سو سے زیادہ لڑکوں نے مجھے فیس بک پر فرینڈ ریکوسٹ بھیج دیں اور بہت سے تو ایسے بھی ہیں جنھوں نے مجھے شادی کی لیے پروپوز کیا ہے۔ صرف پاکستان اور انڈیا سے نہیں بلکہ یورپ سے بھی۔’

چھ مہینے میں تیار ہونے والی یہ گیم ابتدائی طور پرفنڈز جمع کرنے والی ویب سائٹ کک سٹارٹر پر بیچی جا رہی تھی لیکن اب نشراح اسے اپنی ویب سائٹ سے بیچیں گی۔ پروڈکشن کے پہلے مرحلے میں ‘ارینجڈ’ کے 500 گیمز تیار کیے جائیں گے اور ایک گیم کی قیمت تین ہزار روپے یا 30 ڈالر مقرر کی گئی ہے۔

بورڈ گیم کی مقبولیت نے نشراح کے ارادے کو اور پختہ کر دیا ہے کہ ارینج میرج تو کبھی نہیں کریں گی۔ ‘میری شادی میں تو ابھی بہت ٹائم ہے۔ تھوڑے سالوں میں جب قدرتی طور پر کسی سے ملوں گی تو ہی پسند کی شادی کروں گی مگر میں ارینج میرج تو کسی طور نہیں کرنے والی۔’

اسی بارے میں: ۔  فہمیدہ ریاض صاحبہ کی نصیحت

(حنا سعید)


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 924 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp