کراچی میں غیرت کے نام پر بجلی کے جھٹکے دے کر میاں بیوی قتل


پولیس نے کراچی کے علاقے ابراہیم حیدری میں غیرت کے نام پر قتل ہونے والے ایک نوجوان جوڑے کی لاشوں کو قبر سے نکال کر پوسٹ مارٹم کیا ہے جس سے ظاہر ہوا ہے کہ دونوں کو بجلی کے جھٹکے دے کر ہلاک کیا گیا تھا۔

ایس ایچ او شاہ لطیف ٹاؤن امان اللہ مروت نے بی بی سی کو بتایا کہ پوسٹ مارٹم کی رپورٹ کے مطابق تشدد بھی ہوا ہے اور الیکٹرک شاک دے کر مارا گیا ہے۔

یہ قبریں 16 سالہ بخت تاجہ اور 18 سالہ غنی رحمان کی ہیں۔ 15 اگست کو شیر پاؤ کالونی میں ہونے والے ایک جرگہ نے اُن دونوں کے خاندانوں کی موجودگی میں ان کو غیرت کے نام پر قتل کرنے کا فیصلہ سُنایا۔ فیصلے کے فورا بعد اُسی رات کو بخت تاجہ کے چچا اور والد نے اُس کو بجلی کی تار سے شاک دے کر مار دیا۔ پولیس کو واقعے کی خبر 21 اگست کو ہوئی۔ جس کے فوراً بعد چار افراد پکڑے گئے جن میں لڑکی کے چچا بهی شامل ہیں۔

پولیس کو دیے گئے بیان میں لڑکی کے چچا عجب خان نے بتایا کہ دونوں شادی کرنے کی غرض سے 14 اگست کو گهر سے بهاگ گئے تهے۔ واقعے کی تفصیلات بتائے ہوئے ایس ایس پی ملیر راؤ انوار نے کہا کہ پولیس نے ریاست کی مدعیت میں 21 اگست کو ایف آئی آر درج کی۔ ‘ہمیں واقعے کی اطلاع ایک مخبر نے دی جس نے بتایا کہ قتل کرنے کے بعد دونوں لاشیں شیرپاؤ کالونی کے مولا مدد قبرستان میں دفنا دی گئی ہیں۔’

واقعے سے وابستہ چار لوگوں کو گرفتار کرنے کے بعد پولیس کے اہلکار اور میڈیکو لیگل افسران آج شیر پاؤ کالونی سے قتل ہونے والے جوڑے کی بجلی کے شاک لگنے سے مرنے کا ثبوت اکٹها کر رہے ہیں۔ قبر کشائی کا فیصلہ جوڈیشل مجسٹریٹ کی عدالت نے اُس وقت دیا جب پولیس نے حال ہی میں لڑکی کے چچا کو گرفتار کیا۔

اپنے بیان میں عجب خان نے انکشاف کیا کہ لڑکی کو 15 اگست کی رات جبکہ لڑکے کو 16 اگست کی رات کو اُن کے گهر والوں نے بجلی کا شاک دے کر قتل کیا۔

غیرت کے نام پر قتل پر کام کرنے والے ادارے عورت فاؤنڈیشن کے مطابق پاکستان میں سالانہ ایک سو سے زائد عورتیں اور مرد غیرت کے نام پر مارے جاتے ہیں۔ اسی سلسلے کو روکنے کے لیے پاکستان کی قومی اسمبلی نے پچهلے سال دو بل پاس کیے۔ ایس ایس پی انوسٹی گیشن وسیم الطاف نے کہا کہ اس قانون میں قصاص اور دیت جیسی روایات کو مدّنظر رکها گیا ہے۔ اسی وجہ سے اگر گهر والے ملزم کو معاف بهی کر دیں تب بهی ملزم کو اس قانون کے مطابق 12 سال کی سزا کاٹنی پڑے گی۔

پاکستان میں غیرت کے نام پر قتل کے زیادہ تر واقعات نسبتاً پسماندہ دیہی علاقوں میں پیش آتے ہیں لیکن کبھی کبھار کراچی جیسے بڑے شہر میں بھی ایسے جرائم کا ارتکاب سامنے آ جاتا ہے۔

(سحر بلوچ)


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 481 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp