مصطفی کمال کے انکشافات ؟


نعیم اقبال

NAEEM IQBAL. ابھی قوم ایشیا کپ میں ا ذیت ناک شکست کے صدمے سے نکلنے کے لئے ہاتھ پیر مار رہی تھی کہ اوپر سے کراچی کے سابق ناظم، مصطفی کمال نے انہیں حیرتوں کے سمندر میں پے در پے ایسے غوطے دئیے کہ اب سنبھلنا مشکل ہی لگتا ہے۔انہوں نے جب اپنی پہلی دھماکہ خیز انکشافات سے بھرپور پریس کانفرنس کا اعلان کیا تو اس کی اہمیت اس لئے بھی زیادہ تھی کیونکہ جناب قریباً چار سال سیاست سے دور رہنے کے بعد، دوبارہ نمودار ہو رہے تھے ۔ اسی وجہ سے سبھی ٹی وی چینلز نے ان کی پریس کانفرنس کی خبر کو بریکنگ نیوز کے طور پر نشر کیا۔عوام تین بجنے کا بے صبری سے انتظار کرنے لگے۔ آخر کار کفر ٹوٹا خدا خدا کر کے اور وہ لمحہ آہی گیا جب موصوف ٹی وی سکرین پر براجمان ہوئے۔ ہمارے وزیر داخلہ کی وجہ شہرت طو یل پریس کانفرنسز کرنا ہے لیکن مصطفی کمال صاحب نے تو کمال ہی کر ڈالا۔ وہ تو وزیرداخلہ سے بھی چار ہاتھ آگے نکلے اور ہوتے بھی کیوں نہ،موصوف سیاست سے لمبی چھٹیوں کے بعد واپس لوٹے ہیں۔

لیجئے!پریس کانفرنس شروع ہوئی اور شروع سے آخر تک رونگھٹے کھڑے کرنے والے انکشافات کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ بھی۔انہوں نے اپنے سابق قائد، الطاف حسین پر سنگین نوعیت کے الزامات عائد کرتے ہوئے کہا کہ ” قائد ایم کیو ایم ’را‘کے ایجنٹ ہیں۔ انہوں نے نوجوانوں کو قاتل بنا ڈالا۔ مہا جر کمیونٹی کو آج ملک دشمن سمجھا جاتا ہے۔ کارکنوں کو ٹشو پیپر کی طرح استعمال کیا جاتا ہے“۔سابق ناظم کی پریس کانفرنس کے بعد سیاسی رہنماﺅں کی طرف سے ردعمل آنا بھی فطری امر ہے۔ پی ٹی آئی والوں نے لگے ہاتھ ایک ا ور جوڈیشل کمیشن بنانے کا مطالبہ کر دیا ۔ سابق وزیر داخلہ سندھ، ذوالفقار مرزا نے اپنا ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ مصطفی کمال ایم کیو ایم کے سارے معاملات سے با خبر تھے۔ انہوں نے ابھی صرف10فیصد باتیں بتائی ہیں یعنی ابھی ٹریلر آیا ہے، پکچر آنی باقی ہے۔جبکہ ایم کیو ایم نے حسب رووایت کہا کہ ایسے بے بنیاد الزامات ہم پر پہلی دفعہ نہیں لگے۔

سابق ناظم مصطفی کمال کے انکشافات کی شدت ہر گزرتے دن کے ساتھ کم ہوتی جائے گی اور وطن عزیز میں یہ کوئی نئی بات بھی نہیں ۔ ایک دن ایسا آئے گا جب کمزور حافظہ کے مالک عوام کے لئے یہ قصہ پارینہ بن جائے گا۔ ہمارے ہاں ہمیشہ ہی ایساکیوں ہوتا ہے؟جب ’زندہ قومیں‘ بھیڑ بھاڑ کی شکل اختیار کر لیں تو شاید ان کے ساتھ ایسا ہی ہو تا ہے۔ ایک لمحے کے لئے مان لیتے ہیں کہ مصطفی کمال کی پریس کانفرنس محض انکشافات ہی تھے جیسا کہ ہمارے وزیرداخلہ کا کہنا ہے کہ سابق ناظم کراچی، ایم کیو ایم کے بارے میں دستاویزی ثبوت فراہم کریں، کارروائی کریں گے۔جناب وزیر داخلہ کا فرمان عالی شان سر آنکھوں پر۔مصطفی کمال کی پریس کانفرنس محض انکشافات ہی ہیں لیکن سانحہ ماڈل ٹاﺅن میں 17افراد کا نا حق بہنے والے خون کے بارے میں ان کا کیا موقف ہے؟ یہ سب کچھ تو قوم نے اپنی ٹیلی ویژن سکرینوں پر لائیو دیکھااور اس کے لئے ثبوت ڈھونڈنے کی ضرورت بھی نہیں ہے۔ سب کچھ موجود ہے ۔صرف ہمت کی ضرورت ہے۔ ہمت باندھیںاور ملزموں کو قانون کے کٹہرے میں کھڑا کر کے شہدا کو انصاف دلائیں۔ہمت سے یاد آیا۔ ہمت تو پنجاب حکومت نے بھی کی تھی ا ور اس وقت کے وزیر قانون کو ان کے عہدے سے ہٹا کر، وہ بھی چند مہینوں کے لئے۔

مصطفی کمال نے جو کچھ کہا، وہ پہلے بھی بار ہا دہرایا جا چکا ہے اس لئے حکومت زیادہ سنجیدگی نہیں دکھا رہی لیکن جو کچھ اس ملک میںصحت کے نام پر غربیوں کے ساتھ جو کھلواڑ کیا جا رہا ہے،اس پر ہی کچھ کر لو۔ شاید تمہاری عاقبت سنوار جائے۔ابھی زیادہ پرانی بات نہیں، پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں مریضوں کو غیر معیاری اور زائد المیعاد ادویات دے کر ہمیشہ کے لئے ان کی زندگیاں خاموش کر دی گئیں۔اس مجرمانہ غفلت پر بھی کمیٹیاں بنائی گئیں تھیں۔ان کمیٹیوں نے کیا رپورٹس دیں ا ور ان پر کیاایکشن لیا گیا ا ور سب سے بڑھ کر سفاک مجرم، جنہوںنے انسانی زندگیوں کو چند ٹکوں میں بیچا، وہ قانون کے شکنجے میں آئے؟ مجھے نہیں یاد اگر آپ کو ہے تو خدارامجھے بھی بتائیں اور میرے دل کوقرار آئے کہ حکومت میں  کوئی درد دل رکھنے والا بیٹھا ہوا ہے جو عوام کے دکھ کو اپنا سمجھتا ہے۔

مصطفی کمال کے انکشافات کی اس ملک میں کیا اہمیت جہاں کرپشن، لوٹ مار،دھوکہ دہی، فریب عام ہو۔ جس ملک میں بجلی کے بلوں کے نام پر عوام کے جیبوں پر ڈاکے ڈالے جائیں۔ وہاں تمہارے انکشافات پر کون کان دھرے گا؟۔ جہاں سارا سال غریبوں کے چولہے ٹھنڈے رہے ہوں لیکن بل ہر ماہ بڑھتے چلے جائیں، وہاں تمہارے انکشافات کی کیا اہمیت؟جہاں عوام کو اپنا جائز کام کروانے کے لئے سرکاری بابوﺅں کو’نذرانہ‘ دینا پڑے، وہاں تمہارے انکشافات کو کون سنجیدہ لے گا؟ جہاں غریب کو سرکاری ہسپتالوں میں علاج معالجہ کے لئے سفارشیں ڈھونڈنا پڑیں، وہاں تمہارے انکشافات کے کیا معنی ؟ مصطفی کمال تمہارے انکشافات پر کرتا دھرتا کیا ایکشن لیں گے۔ کیا انہوں نے صولت مرزا کے انکشافات پر کوئی ایکشن لیا؟ تمہارے انکشافات صرف انکشافات ہی رہیں گے اور چند دنوں میںان پر بھی گرد جم جائے گی ۔جہاں غریب اپنے پیٹ کا ایندھن بھرنے کے لئے کوئی چھوٹا موٹا ہاتھ مارے اور دھر لیا جائے جبکہ سیاست دان، بیوروکریٹس ا ور اشرافیہ، قوم کا اربوں کھا کر بھی دندناتے پھریں، وہاں مصطفی کمال تمہارے انکشافات کی کیا وقعت؟


Comments

FB Login Required - comments