پاکستان کرکٹ ٹیم تہاڑ جیل میں؟


ممتاز کشمیری صحافی افتخار گیلانی کو 9 جون 2002ء کی رات ساڑھے چار بجے پاکستانی جاسوس ہونے کے الزام میں گرفتار کر کے تہاڑ جیل میں قید کر دیا گیا۔ اس وقت وہ کشمیر ٹائمز کے دہلی میں بیورو چیف کی حیثیت میں کام کر رہے تھے۔ ان پر آئی ایس آئی کو جموں کشمیر میں بھارتی فوج کی موجودگی کے بارے میں معلومات دینے کا الزام لگا اور چودہ سال قید کی سزا سنا دی گئی۔

ان کی گرفتاری پر صحافیوں اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھرپور آواز اٹھائی اور سات ماہ گزرنے پر ہی بھارتی حکومت کو ان پر عائد الزامات واپس لینا پڑے جس سے اس کی خوب سبکی ہوئی۔ مشہور زمانہ تہاڑ جیل میں سات ماہ کا گزرا عرصہ افتخار گیلانی کے لیے کسی قیامت سے کم نہ تھا۔ وہ شدید تشدد کا نشانہ بنے۔ ان سے شرٹ اتروا کر ٹوائلٹ صاف کرایا گیا اور پھر اسی غلیظ شرٹ کو زیب تن کرنے پر مجبور کیا گیا۔ افتخار گیلانی نے جیل میں بیتے لمحوں کو تحریری صورت میں محفوظ کیا اور ان کی کتاب “My days in Prison” سامنے آئی، جس کا پینگوین انڈیا نے ’’تہاڑ میں میرے شب و روز‘‘ کے عنوان سے ترجمہ بھی چھاپا۔ یہ غالباً پہلی اُردو کتاب تھی، جسے پینگوین نے شائع کیا۔ افتخار گیلانی پاکستان کے مختلف انگریزی اور اُردو اخبارات کے نمائندے رہے ہیں۔ اس وقت وہ کالم نگار کی حیثیت سے روزنامہ 92 نیوز سے وابستہ ہیں۔

کرکٹ کی اثر انگیزی دیکھیے کہ تہاڑ جیل بھی اس سے محفوظ نہیں ۔وہاں ہر برس قیدیوں کے درمیان ہونے والے کرکٹ ٹورنامنٹ کا ذکر کتاب میں ہے ۔ افتخار گیلانی کے بقول: ’’ قید تنہائی میں طویل عرصہ گزارنے سے قیدی کئی طرح کے شدید نفسیاتی امراض میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ ایسے قیدی جنہیں بہت لمبے عرصے کے بعد قید تنہائی سے نکال کر وارڈ کے بھیڑ بھاڑ والے ماحول میں منتقل کیا جاتا ہے، نئے وارڈ میں اپنے آپ کو ہم آہنگ نہیں کر پاتے اور جیل حکام سے واپس قید تنہائی میں رکھنے کی درخواست کرنے لگتے ہیں۔ مجھے اس طرح کے دو قیدیوں کو دیکھنے کا موقع ملا جو تین برسوں سے قید تنہائی میں تھے۔ انہیں ان کے اچھے رویے کی وجہ سے ہائی سکیورٹی وارڈ سے عام وارڈ میں منتقل کیا گیا تھا۔ ان میں سے ایک کو جیل نمبر تین کی کرکٹ ٹیم میں کھلاڑی کے طور پر شامل کیا جانا تھا۔ کیونکہ جیل حکام کو پتہ چل گیا تھا کہ جیل آنے سے پہلے وہ ایک اچھا کرکٹ کھلاڑی تھا۔

اسی بارے میں: ۔  آزاد صحافت ، جابر سلطان اور اخبار مالکان

ہر سال اکتوبر میں تہاڑ جیل کی مختلف جیلوں کے بیچ ٹورنامنٹ منعقد کیا جاتا ہے۔ اس ٹورنامنٹ کو تہاڑ اولمپک کہتے ہیں۔ کرکٹ میں عام طور پر جیل نمبر تین کی ٹیم ہی کامیاب ہوتی تھی۔ تاہم پارلیمنٹ پر 13 دسمبر کے حملے کے بعد پانچ قیدی کرکٹروں کو ہائی لائٹ بھیج دیا گیا کیونکہ وہ پاکستانی شہری تھے۔ اس وجہ سے اس ٹیم کو پاکستانی ٹیم بھی کہا جاتا تھا۔ ٹیم کو ایک اور دھچکا اس وقت لگا جب اس کا کپتان سات سال جیل میں گزارنے کے بعد رہا ہو گیا۔ ٹیم اب کافی کمزور ہو گئی تھی اور جیل نمبر تین کے حکام کو یہ فکر لاحق تھی کہ اس سال ٹیم اچھی کارکردگی کا مظاہرہ نہیں کر پائے گی اس لیے کرکٹ کھلاڑیوں کی تلاش شروع ہو گئی تھی۔ جس قیدی کو کرکٹ کھیلنے کے لیے ہائی لائٹ سے باہر نکالا گیا تھا عام وارڈ میں پہنچتے ہی اس نے جیل حکام سے درخواست کی کہ اسے فوراً قید تنہائی میں واپس بھیج دیا جائے۔ وہ بے چارہ تین سال کے طویل عرصے کے بعد اتنے سارے لوگوں کو ایک ساتھ دیکھ رہا تھا۔ ساتھی قیدیوں کی بات چیت کا شور و غل اس کے لیے ناقابلِ برداشت تھا۔ اس نے ایک اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ راجندر کمار سے رابطہ قائم کیا اور واپس قید تنہائی میں بھیجنے کے لیے اسے 5000 روپے کی پیشکش کی لیکن قسمت یہاں بھی دغا دے گئی۔ بد قسمتی سے راجندر کمار بدعنوانی کے اس سمندر میں واحد ایماندار افسر نکلا۔ اس نے رشوت لینے سے انکار کر دیا۔‘‘

اسی بارے میں: ۔  پروردگار، یہ بس میرا خون ہی ہو

وسیم اکرم مظفر نگر میں؟

بھارتی ریاست یوپی کے ضلع مظفر نگر میں چند برس قبل ہونے والے فسادات نے وہاں کی باسیوں کے لیے زندگی کو بہت زیادہ مشکل اور ناگوار بنا دیا۔ ان فسادات کی برق بیچارے مسلمانوں پر گری اور بہت سوں کو اپنا گھر بار چھوڑ کر امدادی کیمپوں میں رہنا پڑا جہاں ان کا کوئی پرسان حال نہ تھا۔ اس وقت بی بی سی نے کاندھلا کے امدادی کیمپ میں مقیم یاسین سے گفتگو کی، تو اس نے اپنے جو دکھڑے بیان کئے، ان کے بیچ ممتاز پاکستانی فاسٹ بولر وسیم اکرم کا بھی ذکر نکل آیا۔ شاملی میں لساڑھ گاؤں کے خستہ حال مکین یاسین نے بی بی سی کو بتایا ’’ہمارا کچھ ہے ہی نہیں، ان کے ہاتھ میں قانون ہے، حکومت ان کی، گاؤں ان کا، انہی کی چلے گی۔ جب ان کی چلے گی تو اب ہمیں ایسی جگہ بھیج دو جہاں ان کی نہ چلے اور ہم کما کھا سکیں۔ وہ کہتے ہیں کہ آپ تو پاکستانی ہو۔ کرکٹ کھیلتے ہوئے ایک غریب بچے کی گیند اچھی پڑ گئی تو کہتے ہیں کہ تم تو پاکستانی وسیم اکرم بن رہے ہو۔ یہ کیا ہے؟ میری بیوی کے پیٹ میں بچہ تھا۔ لات مار کر ختم کر دیا۔ مجھے یہ بھی نہیں پتا کہ وہ بچی تھی یا بچہ تھا۔ میری داڑھی کھینچی گئی۔ نوے سال کے ایک ضعیف کو زندہ جلایا۔ اسے کیوں مار دیا؟ وہ تو چار دن روٹی نہ ملتی تو خود ہی مر جاتا۔‘‘


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔