بھارت کی جیل، کشمیری مسلمان اور غداری کا الزام


برطانیہ کی اشاعتی کمپنی پینگوئن نےاردو زبان میں جو پہلی کتاب ’تہاڑ کے میرے شب روز’ شا‏ئع کی ہے وہ صحافی افتخار گیلانی کی جیل میں قید و بند کی داستان ہے۔ اردو زبان میں کوئی بھی جیل ڈائری کافی مدت بعد سامنے آئی ہے۔ یہ کتاب ’مائی ڈیز ان پریزن’ کے نام سے منظر عام پر آئی تھی اور اس کی مقبولیت کا اندازہ اس بات سے ہوتا ہے کہ 2005ء میں شائع ہوتے ہی اس کتاب کے چار ایڈیشن فوراً فروخت ہو گئے۔ اردو میں اس کتاب کا ترجمہ 2006ء میں شائع ہوا۔

افتخار گیلانی کوسنہ دوہزار دو میں کشمیر میں ہندوستانی فوج کی نقل و حرکت اور تعداد کے متعلق جاسوسی کے الزام میں پولیس نے ان کے گھر سے گرفتار کیا کرکے تہاڑ جیل میں قید کیا تھا۔ ذرائع ابلاغ اور انسانی حقوق کے کارکنوں کے احتجاج پر حکومت نے الزامات تو واپس لے لیےاور گیلانی کو جنوری دوہزار تین میں باعزت بری کردیا گیا تھا۔ یہ کتاب اسی گرفتاری کے بعد جیل میں پیش آنے والے دردناک واقعات کا خلاصہ ہے۔ گیلانی نے اپنی کتاب میں بڑے سلیس انداز میں یہ بتانے کی کوشش کی ہے کہ تہاڑ جیل میں ایک قیدی کے ساتھ کیا سلوک ہوتا ہے۔

’ایک عام قیدی کی حیثیت سے میری کوشش یہی رہی ہے کہ فوکس مجھ پر رہے اور ’جیل کے اندر کے واقعات و جیل کی دنیا کے بارے میں لوگوں کو روشناس کرا سکوں’۔ کتاب میں بڑی سادگی کے ساتھ واقعات بیان کیے گئے ہیں۔ تہاڑ جیل میں جاتے ہی ان پر جو کچھ گزری اس کا تذکرہ کچھ یوں ہے:

اسی بارے میں: ۔  جنید جمشید کے مختصر حالات زندگی

’ کمرے میں داخل ہوتے ہی اسسٹنٹ سپریٹنڈنٹ نے میرا نام پوچھا۔ ابھی میں اپنا پورا نام بتا بھی نہیں پایا تھا کہ ایک نیپال نثراد جیل ملازم آنند نے میرے منھ پر ایک زور کا تھپڑ رسید کیا۔ یہ باقی لو‏گوں کے لیے اشارہ تھا۔ ایک ساتھ سب لوگ مجھ پر پل پڑے ۔ پیچھے سے لاتوں اور کمر پر گھونسوں کی بارش شروع ہوگئی۔ میں اسسٹنٹ سپرٹینڈنٹ کی میز پر گر پڑا۔ اس نے بالوں کو ہاتھ میں جکڑ کر میرا سر زور سے میز پر دے مارا۔

’میرے منہ سے خون نکلنے لگا۔ مجھے لگا ناک اور کان سے خون بہہ رہا تھا۔ اس کے ساتھ چن چن کر گالیاں بھی دی جا رہی تھیں۔ ’سالا ‏غدار، پاکستانی ایجینٹ’، وہ چلا رہے تھے۔ کچھ لوگ ڈنڈوں سے بھی پیٹ رہے تھے۔ تم جیسوں کو زندہ رہنے کا حق نہیں۔ سالے غداروں کو سیدھے پھانسی لگا دینی چاہیے۔ یہ نعرہ ایک زیر سماعت قیدی ونود پنچم کا تھا ۔ بعد میں جیل کے اندر بھی اس نے مجھے حب الوطنی کا سبق سکھانے کا کوئی موقع ضائع نہیں کیا۔

’حب الوطنی کا یہ درس آدھے گھنٹے بعد میری بے ہوشی تک جاری رہا۔ قیدی اور جیل ملازم دونوں مجھے غداری کی سزا دینے پر تلے ہوئے تھے۔ ہوش آنے کے بعد میں نے خود کو راہداری میں پڑا پایا۔ میرا چہرہ خون سے لت پت تھا۔ مجھے حکم دیا گیا کہ جاکر اپنا چہرہ دھو ڈالوں۔ باتھ روم میں جاتے ہوئے بھی گالیاں میرا پیچھا کرتی رہیں۔ تب ہی ایک آواز گرجی ’ٹائلٹ صاف کرو’۔

اسی بارے میں: ۔  پاکستانی حکمرانوں کی بیماریاں (2)

کتاب میں جہاں کئی واقعات ایسے ہیں جنہیں پڑھ کر آنکھیں نم ہوجاتی ہیں تو کئی ایسے بھی ہیں جنہیں پڑھ کر قہقہہ لگائے بغیر نہیں رہا جا سکتا۔

اس کتاب میں ’میڈیا ٹرائل’ پر بھی ایک خاص مضمون ہے جس میں میڈیا کے غیرذمہ دارنہ رویئے کو اجاگر کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ یہ مضمون اب کئی میڈیا انسٹیٹیوٹ کے نصاب میں بھی شامل ہے۔

افتخارگیلانی کہتے ہیں کہ ہندوستان میں بیشتر میڈیا آرگنائزیشن غلط باتوں کو حقیقت بنا کر نشر کرتی ہیں تاکہ ایک خاص رائے عامہ ہموار کی جا سکی۔’یہی میرے ساتھ ہوا تھا۔ میرے خلاف بلا تحقیق رپورٹیں شا‏ئع کی گئیں جن سے میری مشکلیں اور بڑھ گئی تھیں’۔

افتخار کے مطابق آج کل دہشت گردی کے واقعات کے بارے میں بھی میڈیا کا وہی رویہ ہے۔ اس کتاب کی خوبی یہی ہے کہ جیل کے تمام واقعات بڑے سادہ انداز میں پیش کیے گئے ہیں۔ گیلانی نے شکایت کے بجائے یہ بتانے کوشش کی ہے کہ جمہوری ملک میں انصاف، سچائی اور فرد کی آزادی کو نہیں دبایا جاسکتا۔ انہوں نے اپنے او پر عائد کیے گئے الزمات کو غلط ثابت کرتے ہوئے بتایا کہ وہ قانون کی بالا دستی پر یقین رکھتے ہیں۔

(صلاح الدین)


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 894 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp