نصیرالدین شاہ اور موٹیویشنل سپیکرز


ایک لڑکا تھا بہت کمزور، چھوٹا سا قد، بالکل عام شکل اور وہ اپنے ماں باپ کے ساتھ رہتا تھا۔ سکول کا رزلٹ جب بھی آتا تو وہ نچلے درجوں سے فرسٹ آیا کرتا۔ بیک بینچر تھا، کم گو تھا، خود اعتمادی کی شدید کمی تھی، باپ سے تعلقات مسلسل ناخوشگوار رہتے تھے جس کی وجہ صرف اور صرف پڑھائی پر دھیان نہ دینا تھی۔ پڑھائی کے علاوہ دنیا بھر کا ہر کام اسے پسند تھا۔ وہ سرکس کا شوقین تھا، اسے فلم دیکھنا پسند تھا، وہ تھیٹر کا عاشق تھا، کرکٹ کا کھیل اسے دل و جان سے عزیز تھا۔ مسئلہ تھا تو سکول بیگ سے تھا۔ بستہ تھامے سکول جانا اسے موت نظر آتا تھا۔ بڑی کلاسوں میں آنے پر اسے مار بھی رج کے پڑی، سزائیں ملیں، سب کچھ ہوا لیکن کورس کی کتابیں پڑھنے کے لیے نہ وہ مانا اور نہ ہی کوئی اسے زبردستی منوا سکا۔ ایک سزا تو ایسی ملی کہ استاد نے اسے کہا: فلاں ڈرامہ یاد کرو، تین صفحے ہیں، آدھے گھنٹے کا پیریڈ ہے، یاد نہ ہوئے تو یقینی پھینٹی ہے، وہ بچہ جو نام کا سبق یاد نہیں کرتا تھا اس نے کلاس ختم ہونے سے پہلے وہ تینوں صفحے یاد کر لیے۔ ٹیچر مایوس ہو کر ہاتھوں میں خارش لیے چلا گیا۔ پھر ایک اور دلچسپ سین ہوا، فزکس، کیمسٹری، میتھس، بائیولوجی اسے زہر لگتے تھے۔ وہ ان میں رو پیٹ کے ہی پاس ہوتا تھا جبکہ لٹریچر، دینیات اور دوسرے آرٹس کے مضامین میں اس کے نمبر بہت اچھے آتے۔ وہ اپنے رجحانات جانتا تھا مگر ابا کے آگے ایک نہیں چلتی تھی۔ اصل گڑبڑ تب ہوئی جب اسے ہاسٹل داخل کروایا گیا۔ اب وہ آزاد تھا۔

ہاسٹل میں اس نے سگریٹ پینا شروع کیے، ایک دن پکڑا بھی گیا، قریب تھا کہ سکول اور ہاسٹل سے نکالا جاتا مگر بچ گیا۔ پھر چرس کا شوقین ہوا، ایل ایس ڈی تک بھی گیا، لیکن جو کیا کنٹرولڈ طریقے سے کیا تو بچت ہو گئی۔ اب سینئر کلاسوں میں بھی اپنی انہیں حرکتوں کی وجہ سے فیل ہوتا رہا تو باپ نے ہاسٹل سے نکال کر ڈے سکول میں داخل کروا دیا۔ وہاں بھی وہی کام تھے۔ بڑی مشکلوں سے اس قابل ہوا کہ وہ کالج میں داخلہ لے سکے لیکن یہاں پھر ایک مسئلہ تھا۔ وہ آرٹس پڑھنا چاہتا تھا، باپ کی خواہش تھی کہ سائنس پڑھے۔ باپ ہار گیا، وہ آرٹس پڑھنے لگا۔ سکون لیکن ادھر بھی نہیں تھا، بارہویں جماعت کے دنوں میں ہی اس نے دور کے ایک شہر میں اداکاری سیکھنے کا فیصلہ کیا اور سب کو حیران پریشان چھوڑ کر ایکٹنگ سکول میں داخلہ لے لیا۔ جو ”سب‘‘ حیران تھے‘ ان میں اس کی بیوی بھی شامل تھی جو اس سے عمر میں ساڑھے چودہ برس بڑی تھی۔ وہ کالج کے دوسرے سال میں شادی کر چکا تھا۔ ماں باپ کی برداشت آخری لیول پر تھی۔

زندگی کے اس پورے سفر میں اسے ایک ہی کام کا شوق رہا تھا‘ اور وہ کام تھا اداکاری۔ اب جو اسے باقاعدہ سیکھنے کا موقع ملا تو زندگی میں پہلی بار وہ کسی کام میں سنجیدہ تھا۔ اس مکمل سنجیدگی کے باوجود رل کھل جانے کی ایک طویل داستان ہے‘ جس کے بعد اس کی زندگی کچھ روٹین پر آئی اور بالآخر وہ ایک سوپر ہٹ اداکار کے طور پر پہچانا گیا۔ لیکن یہاں تک پہنچتے پہنچتے بھی اس کی ازدواجی اور ذاتی زندگی تقریباً ناکام ہو چکی تھی۔ شوق کی آخری قیمت وہ ادا کر چکا تھا‘ اور کامیاب تھا۔ چونکہ وہ سوپر ہٹ ہو چکا تھا، چونکہ وہ کامیاب تھا اس لیے دنیا اسے آج نصیرالدین شاہ کے نام سے جانتی ہے، اس کی بائیوگرافی پڑھتی ہے اور سر دھنتی ہے۔ اس کی فلمیں دیکھتی ہے اور اداکاری کی داد دیتی ہے۔ اس کی چلت، پھرت، پڑھت، اشارت، ادائی غرض ہر چیز پہ عش عش کرتی ہے اور اس کا نام فلم کامیاب ہونے کی ضمانت سمجھا جاتا ہے۔

سوچنا چاہیے کہ عام زندگی میں کتنے بچے اس مقام تک پہنچ پائیں گے؟ وہ تمام بچے جو پڑھتے نہ ہوں، جنہیں ہیرو بننے کا شوق ہو، جو ہر وقت آئینہ مختلف اینگلز سے دیکھتے رہیں، جو ہمیشہ یاروں دوستوں کے جھرمٹ میں پائے جائیں، زندگی میں کامیاب ہونے کا تناسب ان کے لیے کتنا ہو گا؟ ظاہری طور پہ بہت ہی مشکل نظر آتا ہے کہ وہ کچھ اچھا کر جائیں۔ اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ ہمارے آس پاس ہزاروں ایسی مثالیں بکھری پڑی ہیں‘ جن میں پڑھائی سے بھاگنے والے بچے تمام زندگی خوار ہوتے نظر آتے ہیں۔ اب اگر کوئی بچہ نصیرالدین شاہ کی مثال سامنے لائے اور ابا جی کو قائل کرنا شروع کر دے کہ میاں صاحب دیکھیں وہ بھی نہیں پڑھتا تھا، اس میں بھی خود اعتمادی کی کم تھی، وہ بھی شرمیلا تھا، وہ بھی اپنے دوستوں کے مختصر سے حلقے میں رہتا تھا، وہ بھی فیل ہوتا تھا، وہ بھی فلمیں دیکھتا تھا، اس نے تو میری عمر میں شادی بھی کر لی تھی، تو اے والد محترم، میری لگامیں چھوڑ دی جائیں‘ اور چراگاہیں مجھے آواز دیتی ہیں… تو کیا ایسا ممکن ہے؟ والد صاحب نے ممکنہ طور پر طبیعت سے کفش کاری کرنی ہے اور لمبا چوڑا لیکچر پلا دینا ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ ایسا کرکے ویسا بن جانا بہت ہی مشکل والا کیس ہے‘ جس میں قسمت کی مہربانی کا عمل دخل کافی زیادہ ہے۔

عین یہی معاملہ ہم موٹیویشنل سپیکنگ یا سیلف ہیلپ قسم کی کتابوں میں دیکھتے ہیں۔ پریشان ہونا چھوڑئیے، جینا شروع کیجیے، دوست بنائیے، کامیاب زندگی گزاریں، ایک اچھا کاروباری انسان، سیلف میڈ بنیں… مطلب کوئی حد ہے یار؟ اب لوگوں نے دوست بنانے ہیں تو بھی کتاب پڑھنی ہے، ”کامیاب زندگی‘‘ گزارنی ہے تو بھی فارمولے پڑھ کر گزاریں گے، اور سب سے بڑھ کر ”سیلف میڈ‘‘ بنا کیسے جا سکتا ہے بھئی؟ یا تو بچپن سے رجحان موجود ہے اور یا نہیں ہے، بڑے ہوتے تک سیلف میڈ ہونے کے لیے وقت کتنا بچتا ہے‘ جو کتابیں پڑھ کے بنا جائے گا؟ پورے موٹیویشنل افق میں گھوم گھام کے ایک چیز بچتی ہے اور وہ یہ ہے کہ اچھا کاروباری کیسے بنا جا سکتا ہے یا نوکری میں ترقی کیسے حاصل کرنی
ہے۔ قوم اس کے پیچھے آنکھیں بند کرکے بھاگتی ہے تو بکتا بھی سب سے زیادہ یہی منجن ہے۔ وہاں پھر نصیرالدین شاہ جیسی مثالوں کے انبار لگے ہوتے ہیں۔

عرض یہ ہے کہ ناکامیوں کا باپ کوئی نہیں ہوتا اور کامیابی کو ہر کوئی اون کرتا ہے۔ تو ایک چمکتی مثال دکھا کر بہت سے معصوم لوگوں کی آنکھیں خیرہ کی جاتی ہیں، سہانے خواب دکھائے جاتے ہیں، فل ٹائم ”پازیٹو انرجی‘‘ بھری جاتی ہے، بندہ محسوس کرتا ہے کہ یار آج تک تو میں نے جھک ہی ماری ہے، اصل کام تو اب شروع ہو گا، غرض پورے طریقے سے پمپ کرنے کے بعد سپیکر لوگ تو اپنی دنیا میں نکل جاتے ہیں، سننے والے واپس کولہو کا بیل بنتے ہیں۔ چوتھے دن انہیں احساس ہونا شروع ہوتا ہے کہ استاد کچھ ہاتھ ہوا ہے‘ اور ایک آدھ ہفتے میں سارے جذبے ہوا ہو کر زندگی نارمل ہو جاتی ہے۔ پھر یاد آتا ہے کہ یار پیر صاحب نے جو کہا تھا‘ ہوا میں ہی کہا تھا۔ جدید دور کے پیر یہی لوگ ہیں اور کیا ہے، ایک خلقت دیوانی ہے اور حق پر ہے۔ یہ پیر روحانی طور پر ایکسپلائٹ نہیں کرتے بلکہ مادی طور پر کرتے ہیں۔

لوگ بھی روایتی بنگالی بابوں سے اور پیروں فقیروں سے تھک کے کچھ نیا کرنا چاہتے تھے۔ پاکستان میں یہ کام بھی نیا امپورٹ ہوا تھا۔ ‘کجھ شہر دے لوک وی ظالم سن، کجھ سانوں مرن دا شوق وی سی، والا کام شروع ہو گیا۔ لیکن اس کام کو ایک حد میں رکھنے کی شدید ضرورت ہے۔ ہر وقت اچھا اچھا سننے والا مظلوم زندگی کے حقائق سے آہستہ آہستہ آنکھیں چرانا شروع کر دیتا ہے، اس کے لیے موٹیویشنل سپیکنگ افیم کی طرح بن جاتی ہے، وہ تصور میں خود کو کامیاب سوچتا ہے لیکن جب حقیقت کی دنیا کو دیکھتا ہے تو بقول عباس تابش؛
آنکھ تو کھلتی ہے کرنوں کی طلب میں لیکن
زیب مژگاں کسی نیزے کی انی ہوتی ہے

تو بھئی امید اچھی چیز ہے، خواب ضروری ہیں، لیکن اتنے دیکھے جائیں اور اتنے دکھائے جائیں کہ ان کا نشہ نہ ہو۔ سیلف موٹیویشن اور بیٹری کی اوور چارجنگ بڑے نازک معاملات ہوتے ہیں، پھولنے اور بالآخر پھٹ جانے سے بہتر ہے اتنا کرنٹ لیا جائے جتنے کی ضرورت ہوتی ہے!


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

حسنین جمال

حسنین جمال کسی شعبے کی مہارت کا دعویٰ نہیں رکھتے۔ بس ویسے ہی لکھتے رہتے ہیں۔ ان سے رابطے میں کوئی رکاوٹ حائل نہیں۔ آپ جب چاہے رابطہ کیجیے۔

husnain has 297 posts and counting.See all posts by husnain