کرکٹ بورڈ کے تعاون سے سٹیڈیم میں ”گو نواز گو“ کی بھرپور گونج


ہمیں اطلاعات موصول ہو رہی تھیں کہ کرکٹ میچوں میں سٹیڈیم ”گو نواز گو“ کے نعروں سے مسلسل گونجتا ہے۔ تحقیقات کی خاطر ہم بنفس نفیس 13 ستمبر 2017 کا میچ دیکھنے تشریف لے گئے اور عملی تجربے کے لئے تحریک انصاف کے پرجوش حامیوں برخوردار خان اور فرمانبردار خان کو بھی ساتھ لے لیا۔ بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ انہوں نے ہمیں ساتھ لیا تھا، مگر بقول سپریم کورٹ کے عزت مآب جج صاحبان کے، ”یہ ایک ایکیڈیمک بحث ہے“ اس لئے اسے چھوڑ کر آگے چلتے ہیں۔

ان میچوں کی وجہ سے آدھا لاہور بند ہے۔ مگر پھر بھی ہم ان میچوں کی حمایت کرتے ہیں۔ اسی طرح جیسے ہم بسنت اور ہارس اینڈ کیٹل شو کے حامی ہیں کیونکہ یہ سرگرمیاں نہ صرف معاشی مواقع پیدا کرتی ہیں بلکہ عوام میں ملک اور اپنی ثقافت سے محبت کا جذبہ بھی بیدار کرتی ہیں۔ اس کے علاوہ نوجوانوں میں جو انرجی بھری ہوتی ہے، اس کے استعمال کا موقعہ بھی فراہم کر دیتی ہیں اور وہ ٹائر جلانے یا ”گو نواز گو“ کر کے مسلم لیگ نون کی آتما رولنے وغیرہ جیسے کام کرنے کی طرف مائل نہیں ہوتے۔

بہرحال سہولیات اچھی تھیں۔ ہم معمولی سی زحمت اٹھا کر ایف سی کالج سے بس میں بیٹھ کر قذافی سٹیڈیم پہنچ گئے۔ ہمارا انکلوژر کچھ مہنگے ٹکٹوں والا تھا اس لئے کم از کم وہاں بہترین سہولیات تھیں۔ میچ شروع ہوا۔ ہم پرانے خیالوں والے آدمی ہیں اور ہمیں کمنٹری باکس میں بیٹھ کر کمنٹری کرنے والے ایسے افراد یاد ہیں جو کرکٹ کا بھرپور علم رکھتے تھے اور تماشائیوں کو کھلاڑیوں اور گیم کے بارے میں بتاتے رہتے تھے اور یوں ان کو کھیل کی طرف متوجہ رکھتے تھے۔

بدقسمتی سے کرکٹ بورڈ نے کسی پڑھے لکھے کمنٹیٹر کی بجائے کسی زوہیب یا شاید آسیب نامی کسی شخص کو مائک تھما کر میدان میں عین باؤنڈری لائن کے باہر کھڑا کر دیا۔ یہ صاحب، کمنٹیٹر کی بجائے چیئر لیڈر ثابت ہوئے۔

میچ شروع ہوا۔ ہمارا انکلوژر اچھے اینگل پر تھا مگر بدقسمتی سے وکٹ سے اس کا فاصلہ اتنا زیادہ تھا کہ کھلاڑی کچھ خاص دکھائی نہیں دے رہے تھے۔ پرانے وقتوں میں تماشائیوں کو دوربین ساتھ لانے کی اجازت ہوتی تھی۔ اب وہ بھی نہیں رہی۔ سو ہم بس دل کی آنکھ سے ہی میچ دیکھ سکتے تھے۔ یا پھر بڑی سکرین پر کچھ کچھ دکھائی دے جاتا تھا مگر کوئی خاص نہیں کیونکہ بیشتر وقت اس پر میچ کی بجائے اشتہارات ہی چل رہے ہوتے تھے۔ حتی کہ ڈیسیژن ریویو تک اس پر نہیں دکھایا جاتا تھا۔

اسی بارے میں: ۔  انتہا پسندی، رد عمل کی نفسیات اور نفسیاتی پیچیدگیاں (3)

بہرحال کچھ دیر بعد بوریت شروع ہوئی تو تماشائیوں نے مختلف سرگرمیوں پر زور دینا شروع کیا جن میں آئس کریم، چپس، باجے، سیلفیاں اور نعرے بازی شامل تھے۔ سامنے کچھ نوجوان ناچ گا کر کیمرا مین کی توجہ حاصل کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ گاہے بگاہے سٹیڈیم ”گو نواز گو“ کے نعروں سے گونج اٹھتا تھا۔ ہمارے انکلوژر کے اطراف میں یہی نعرہ چل رہا تھا اور ”شیررررر“ یا ”رو عمران رو“ کا نعرہ کہیں نہیں تھا۔ دوسرے انکلوژر کے بارے میں ہم کچھ کہہ نہیں سکتے۔ سٹیڈیم میں تین سب سے مقبول نعرے ”سیلفی“، ”گو نواز گو“ اور ”آملہ“ تھے۔ جیسے ہی احمد شہزاد دکھائی دیتا تو ”سیلفی“ کا نعرہ لگتا، ہاشم آملہ کی چمک باؤنڈری تک پہنچتی تو ”آملہ“ کا نعرہ بلند ہوتا ورنہ کچھ اور نہ ہوتا تو پھر ”گو نواز گو“ ہی ہوتا۔

کچھ دیر بعد برخوردار خان اور فرمانبردار خان بھی اپنی سیٹوں سے اٹھ کر ناچنے گانے والے نوجوانوں میں شامل ہو گئے۔ کچھ دیر تک تو یہ سارا گروپ ناچتا رہا اور پھر اچانک ہر طرف ”گو نواز گو“ کے نعرے گونجنے لگے۔ پولیس نے دخل اندازی کی کوشش نہیں کی اور نوجوانوں کو یہ نعرے لگانے دیے۔ ہاں ان نعروں کی گونج کو دبانے کے لئے انتہائی بلند آواز میں موسیقی چلا دی جاتی جس کو سنتے ہی یہ نوجوان نعرے چھوڑ کر ناچنے گانے میں مشغول ہو جاتے۔

واپسی پر ہم نے برخوردار خان سے ”گو نواز گو“ کے نعرے لگانے کی وجہ دریافت کی اور کہا کہ نواز شریف تو پہلے ہی چلا گیا ہے، اب یہ نعرہ لگانے کا کیا فائدہ؟ اس کا جواب تھا کہ ”مزا آتا ہے“۔ برخوردار خان تو خیر کھیل کود اور ہنگامہ آرائی کا شوقین ہے، مگر فرمانبردار خان ایک نہایت سنجیدہ طبیعت مفکر ہے۔ اس سے پوچھا گیا۔ کہنے لگا کہ ”ہم ناچ رہے تھے تو زوہیب سے دس بار کہا کہ موسیقی چلواؤ۔ وہ سن ہی نہیں رہا تھا۔ پھر میں نے سب کو بتایا کہ جب بھی ’گو نواز گو‘ کا نعرہ لگایا جاتا ہے تو اونچی آواز میں موسیقی چلنے لگتی ہے۔ اس لئے موسیقی چاہیے تو یہ نعرے لگاؤ“۔ فرمانبردار خان کا یہ طریقہ نہایت کامیاب رہا اور نوجوان ناچنے گانے کے لئے حسب خواہش ”گو نواز گو“ کے نعرے لگا کر رقص کے لئے موسیقی کا بندوبست کرتے رہے۔ یعنی سٹیڈیم میں ”گو نواز گو“ کا وہی مقام ہے جو علی بابا کی کہانی میں ”کھل جا سم سم“ کا ہے۔

اسی بارے میں: ۔  ہسپتال کی وپچار کتائیں۔۔۔ نیز غریب آدمی بیمار نہ ہوا کرے

خود ہماری تحقیق یہ رہی کہ زوہیب وکٹ کی طرف پشت اور تماشائیوں کی طرف منہ کر کے کھڑا رہتا اور اس قسم کی کمنٹری کرتا ”شور مچاؤ شور۔ ان مہمانوں کو پتہ تو چلے کہ پاکستان کتنے پرجوش ہیں۔ پاکستان سے محبت کرنے والے شور مچائیں۔ مجھے شور کیوں سنائی نہیں دے رہا ہے۔ اب عمران خان انکلوژر شور مچائے۔ اچھا اب شور مچانے کی فضل محمود انکلوژر کی باری ہے“۔ اگر وہ دیکھتا کہ اس کے سامنے موجود تماشائی اچانک کھڑے ہو گئے ہیں اور چوکے یا چھکے کے پلے کارڈ بلند کر لئے ہیں تو کبھی کبھار وہ پلٹ کر وکٹ کی طرف بھی دیکھ لیتا، پھر کہتا ”چوکا لگا ہے، شور مچاؤ شور“۔ یا ”بدری آؤٹ ہو گئے ہیں اور ہاشم آملہ وکٹ پر آئے ہیں۔ شور مچاؤ شور“۔ اس کے علاوہ انہوں نے کرکٹ، میچ یا کھلاڑی کے بارے میں کچھ نہیں کہا۔ ہاں چار گھنٹے میں کوئی آٹھ سو مرتبہ ”شور“ مچانے کا مطالبہ انہوں نے ضرور کیا۔ اب اگر نوجوانوں کے کسی گروہ سے شور مچانے کا مطالبہ کیا جائے تو ان کا فیورٹ شور تو ”گو نواز گو“ ہی ہے۔ سو کسی پروفیشنل کمنٹیٹر کی بجائے زوہیب کو منتخب کرنے والے کرکٹ بورڈ کی مہربانی سے خوب ”گو نواز گو“ ہوا۔ جب میرٹ پر تقرری نہیں ہو گی تو پھر ”گو نواز گو“ ہی ہو گا۔

بہرحال تحریک انصاف کے اس شو کو کامیاب بنانے پر پاکستان کرکٹ بورڈ اور حکومت پنجاب کو جتنی داد دی جائے وہ کم ہے۔ امید ہے کہ اگلے میچ میں بھی کسی پروفیشنل کمنٹیٹر کی بجائے کسی چیئر لیڈر کو ہی موقع دیا جائے گا تاکہ میدان ”گو نواز گو“ سے ایک مرتبہ پھر گونج اٹھے۔

 


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 728 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar