فرہنگ آصفیہ کے نئے کمپیوٹرائزڈ ایڈیشن کا معرکہ


پبلشر: الفیصل ناشران، اردو بازار لاہور
تعداد صفحات: 3720قیمت: 4500 روپے
مؤلِّف: سید احمد دہلویتہذیب و تزئین: یاسر جواد/ تصحیح اشعار: رفاقت راضی
ابتدائیہ از ڈاکٹر علی محمد خاں (پروفیسر آف اردو، ایف سی کالج (یونیورسٹی)

آج اردو زبان دنیا کی چند بڑی بڑی زبانوں میں سے ایک ہے اور دنیا کا کوئی ملک ایسا نہیں جہاں اِس کے بولنے، پڑھنے اور لکھنے والے موجود نہ ہوں۔ جن لوگوں نے اپنے خونِ جگر سے اردو کے پودے کی آبیاری کی، اِسے سینچا، پروان چڑھایا، ثمربار کیا اور وقار بخشا، ان لوگوں میں سے ایک بڑا نام سیّد احمد دہلوی (1886ء تا 1918ء) کا ہے۔ ایک اعلیٰ درجے کی مستند لغات کے بغیر کسی بھی زبان کو مکمل نہیں سمجھا جاتا اور ’’فرہنگِ آصفیہ‘‘ کو چند معمولی تسامحات کے باوجود اردو کی مستند ترین فرہنگ سمجھا جاتا ہے جس کے مؤلِّف سیّد احمد دہلوی ہیں جنھوں نے اس کی تکمیل میں نصف صدی کا عرصہ صرف کیا۔ جب ان کا انتقال ہوا تو اِس کی جلد اوّل ہی چھپی تھی، باقی تین جلدیں ان کے انتقال کے بعد چھپیں۔

ہر چند ’’فرہنگِ آصفیہ‘‘ سے قبل بھی اردو کی فرہنگیں تو ضرور چھپیں لیکن اِتنی ضخیم فرہنگ، جس میں کم و بیش پچپن ہزار الفاظ و تراکیب و محاورات اور ضرب الامثال کا ذخیرہ تشریح و تحقیق اور سند و حوالہ کے ساتھ موجود ہو، اِس سے قبل ناپید تھی۔ ’’فرہنگِ آصفیہ‘‘ کو قبل ازیں تالیف کردہ فرہنگوں پر اِس لیے بھی سبقت حاصل ہے کہ ان کتابوں میں مؤلفین نے الفاظ و محاورات کے اپنے فہم کے مطابق جو معانی بھی لکھ دیے، سو لکھ دیے، کسی کی سند نہ تھی اور سوائے معدودے چند کے کسی کے حوالے بھی درج نہ تھے۔ ’’فرہنگِ آصفیہ‘‘ کو یہ شرف حاصل ہے کہ اِس میں وہ سب میٹریل موجود تھا جو ایک اچھی اور مستند لغات کا خاصہ ہے۔ لطف کی بات یہ ہے کہ اِس کے بعد جو لغات بھی زیورِ طبع سے آراستہ ہوئیں انھوں نے ’’فرہنگِ آصفیہ‘‘ کی خوشہ چینی ضرور کی۔ بعد کی چھپنے والی لغات میں نور اللّغات، فیروز اللّغات، لغاتِ کشوری، نسیم اللّغات، فرہنگِ عامرہ، علمی اردو لغت شامل ہیں۔ بلاشبہ فیڈرل گورنمنٹ کی سرپرستی میں ’’اردو لغت بورڈ‘‘ نے تالیفِ فرہنگ کے سلسلے میں بڑا اہم کارنامہ انجام دیا ہے جس کے پلیٹ فارم سے تادمِ تحریر تئیس جلدوں پر مبنی ’’اردو لغت‘‘ چھپ چکی ہے اور یہ سلسلہ جاری و ساری ہے، مگر ’’اردو لغت‘‘ پر فرہنگِ آصفیہ کے اثرات موجود ہیں۔

اردو کے شہرہ آفاق مصنف جناب انتظار حسین (مرحوم) نے اپنے ایک انٹرویو میں بڑے پتے کی بات کی۔ انھوں نے فرمایا کہ اردو زبان میں مقامی لہجوں کی مجبوری کی وجہ سے جس طرح چاہیں گفت گو کریں لیکن سند کی ضرورت ہمیشہ قائم رہتی ہے اور سند کے لیے ہمارے پاس ’’فرہنگِ آصفیہ‘‘ سے بہتر کوئی سندموجود نہیں۔

فرہنگِ آصفیہ کے مؤلِّف سید احمد دہلوی:

فرہنگ آصفیہ اردو زبان کی پہلی باقاعدہ لغت ہونے کی وجہ سے خصوصی اہمیت کی حامل ہے۔ اس کے مؤلف مولوی سیّد احمد دہلوی 8 جنوری 1864ءکو دہلی میں پیدا ہوئے۔ رسمی تعلیم مختلف مشہور اساتذہ اور پھرنارمل سکول دہلی میں حاصل کی۔ اس کے بعداپنے فطری میلان اور مشاہیر اہلِ علم کی صحبت سے بہت کچھ فائدہ اٹھایا۔ ابتدا ہی سے تصنیف و تالیف کا شوق تھا، شعر کا بھی ذوق تھا، طالب علمی کے دور میں طویل فارسی نظم ”طفلی نامہ“ اور اِنشاءکی ایک کتاب ”تقویۃ الصبیان“ لکھی۔ 1868ءمیں انھیں اپنی عظیم الشان اور جلیل القدر کتاب ”فرہنگِ آصفیہ“ کی تالیف کا خیال پیدا ہوا اور اس کے مواد کی فراہمی شروع کر دی۔ اسی اثنا میں مسٹر فیلن نے انھیں بلا بھیجا۔ مولوی صاحب نے فیلن کی لغات سات برس کی محنت ِ شاقہ کے بعد ختم کیں مگر ساتھ ساتھ اپناکام بھی کرتے رہے، 1880ءمیں مہاراجۂ الور کا سفرنامہ مرتب کرنے کے بعد لاہور چلے آئے اور گورنمنٹ پنجاب بک ڈپومیں نائب مترجم مقرر ہوئے۔

سید احمد دہلوی صاحب نے لاہور، دہلی اور شملہ کے سکولوں میں سرکاری ملازمت کی اور پنشن پائی۔ حکومت نے ’خان صاحب‘ کا خطاب دیا۔ پنجاب یونیورسٹی کے فیلو اورممتحن بھی رہے۔ 11 مئی 1891ءکو دہلی میں انتقال کیا۔ ”رسومِ دہلی“ میں ان کی 36 تصانیف کی فہرست دی گئی ہے مگر ان کی شہرت اسی مایہ ناز لغت ”فرہنگِ آصفیہ“ ہی کی رہینِ منت ہے جس پر انھوں نے اپنی زندگی کے پچاس سال صرف کیے۔

پہلے کمپیوٹرائزڈ اور جدید ایڈیشن کے تہذیب و تزئین کار یاسر جواد کے مطابق ’’اس تاریخی لغت کو جوں کا توں رکھتے ہوئے اور اس کی روح کو متاثر کیے بغیر جدید پڑھنے والوں کے لیے دیدہ زیب اور درست انداز میں پیش کرنا اور کچھ غیر مضر مگر ضروری تصحیحات کے ساتھ متوازن کرنا بلاشبہ جان جوکھوں کا کام تھا۔ ہمارا مقصد بیسویں صدی کے آغاز میں مرتب کردہ اس لغت کو اکیسویں صدی کے پڑھنے والوں کے لیے زیادہ سے زیادہ قابل فہم، معتبر، قابل رسائی اور یکساں معیاری املا کا حامل بنانا اور ساتھ ساتھ کسی انحراف سے بچنا بھی ہے۔ ‘‘
مولوی صاحب نے دیباچے میں بیان کیا ہے کہ اِس کی تدوین کے پچیس تیس برس میں ان پر کیا کیا مصائب ٹوٹے، کیا کیا مشکلات پیش آئیں، کون کون سے حادثات اور واقعات نے انھیں متاثر کیا۔ کئی برسوں یا عشروں پر محیط طویل کام میں (بالخصوص ایسا کام جس کی کوئی ٹھوس روایت بھی پیچھے موجود نہ ہو) آپ سارے عمل کے دوران سیکھتے بھی ہیں اور چیزوں میں ترامیم و اضافے بھی کرتے جاتے ہیں۔ اس زمانے میں تو کتابت اور کاتبوں کی سست روی اور تکنیکی تحدیدات کی وجہ سے بے شمار اضافی مسائل بھی درپیش تھے۔

اردو ٹائپنگ کی تکنیکی سہولیات اور اعراب وغیرہ:

اکثر تکنیکی سہولیات کی فراہمی بھی املا اور تدوین کے نئے اصول وضع ہونے کا محرک بنتی ہے۔ مثلاً 1990ء کی دہائی کے اوائل میں DOS کے اردو ٹائپنگ پروگرام کی بدولت جہاں کتب کی تیزی سے تیاری ممکن ہو سکی، وہاں متعدد مسائل بھی پیش آئے اور اسی کی مناسبت سے ترجیحات بھی طے ہوئیں۔ چونکہ اس پروگرام میں سادہ ترین اعراب دینے کی سہولت بھی نہیں تھی، اس لیے پبلشرز اور قارئین نے اس پر اصرار کرنا چھوڑ دیا۔ پھر اِن پیج سافٹ ویئر کی بدولت بہت سے عناصر کو کتب میں شامل کرنا دوبارہ سے ممکن ہو گیا، مثلاً جَدوَل اور بنیادی اعراب۔ لہٰذا ایک مرتبہ پھر اعراب پر توجہ دی جانے لگی، لیکن نثری کتب عموماً اس قسم کی توجہ سے محروم ہی رہیں۔ اب یونی کوڈ کے دور کی ابتدا ہوئی ہے اور بہت کچھ ایسا کرنا ممکن ہو گیا ہے جو پہلے کبھی ممکن نہیں تھا اور جس کا شاید آج سے ایک یا نصف صدی قبل کسی نے خواب بھی نہیں دیکھا ہو گا۔ اِس کی بدولت ہم اردو زبان کی کتب کو اپنے جانے پہچانے فونٹ اور انگلش کتب کے ہم پلہ انداز میں چھاپنے کے قابل ہو گئے ہیں۔

اسی بارے میں: ۔  خدا کی بہار اور خلیفہ کے افکار

پروف ریڈنگ:

فرہنگ آصفیہ جیسی لغات کی تیاری تکنیکی اور علمی اعتبار سے کئی تقاضے رکھتی ہے۔ مثلاً ضروری تھا کہ اس کی فارمیٹنگ اور ایڈیٹنگ اور پروف ریڈنگ کرنے والے افراد سنجیدہ شوق رکھنے کے ساتھ ساتھ بھرپور فنی قابلیت، عربی فارسی اور ہندی و سنسکرت سے واقفیت رکھتے ہوں، نیز وہ شاعری کی عروض اور اوزان کا بھی درک رکھتے ہوں کیونکہ شعری مثالیں اِس لغات کا خصوصی اور نمایاں جزو ہیں۔ اتفاق کہیے یا خوش قسمتی، یاسر جواد اس قسم کی ایک ٹیم بنانے میں کامیاب ہو گئے۔ وہ خود گورمکھی، ہندی اور کچھ حد تک سنسکرت سے بھی واقفیت رکھتے ہیں، جبکہ فارسی و عربی سے شناسائی کی ضرورت رفاقت راضی نے پوری کی جو اشعار کے تکنیکی پہلوؤں میں بھی دسترس رکھتے ہیں۔ نیز پروفیسر ڈاکٹر علی محمد خان، عارف وقار اور کچھ دیگر ماہرین کی آرا سے بھی استفادے کا موقع ملا جن کا شکریہ اس دیباچہ کے آخر میں ادا کیا گیا ہے۔

رفاقت راضی کے مطابق:

’’اس پروجیکٹ میں سب سے صعوبت بھرا مرحلہ تصحیحِ اشعار کاتھا۔ وہ اس لحاظ سے کہ لغت میں موجود ہزاروں اشعار میں سے بہت سے اشعار غیر متداول شعرا کے ہیں۔ جن کے نہ دواوین کا کہیں پتا چلتا ہے اور نہ ہی تذکروں میں ان کا مفصل ذکر ملتا ہے اور اسی طرح کچھ مشہور شعرا کے دواوین ایک سے زائد مرتبہ طبع نہیں ہوئے اور ان کا کھوج لگا کر ان کے ساتھ شعروں کا موازنہ کرنا ایک پیچیدہ عمل تھا۔ جن شعرا کی دیوان متداول ہیں ان میں میر، انیس، مصحفی وغیرہ کے دواوین کی تعداد اتنی زیادہ ہے کہ اس میں سے کسی شعر کی تعیین جوئے شِیر لانے کے مترادف تھا اور یہ پہاڑ یوں سر ہوا کہ بہت سے بزرگوں اور دوستوں نے کتابوں کی فراہمی میں مدد کی اور قیمتی مشوروں سے نوازا۔ ‘‘
اگرچہ اس سے پہلے تصویری شکل میں فرہنگ آصفیہ مدون کرنے والوں نے اشعار کی تصحیح اور اغلاط ناموں کو شامل کرنے کا دعویٰ کیا ہے لیکن ان نسخوں کے تتبع سے معلوم ہوتا ہے کہ کچھ اشعار کے علاوہ سینکڑوں اشعار کو بعینہٖ رہنے دیا گیا ہے اور بہت سے لفظوں کو درست نہیں کیا گیا۔ جس کی وجہ سے اس مستند لغت سے کماحقہ استفادہ ممکن نہیں تھا۔ تمام اشعار کی تفصیل یہاں بیان کرنا ممکن نہیں۔ اشارے کے طور پر اتنا کہاں جا سکتا ہے کہ کہیں غالب کے شعر کو مومن کا اور کہیں پیام کے شعر کو میر تقی میر کا قرار دیا گیا ہے اور کاتب کے سہو یا مؤلف کے تسامح سے بہت سے اشعار بے وزن درج ہو گئے۔ اگرچہ اتنی بڑی فرہنگ کی تالیف میں اس قدر تسامحات کچھ معنی نہیں رکھتے لیکن بعد کے مدونین کو اپنی ذمہ داری نبھاتے ہوئے اصل شاعر اور شعروں سے موازنہ کرنا ضروری تھا۔

یاسر جواد دو قسم کی ٹھوس اور متصادم آرا کے ساتھ نمٹنا پڑا۔ اول، یہ لغات ایک تاریخی حیثیت رکھتی ہے اور اس کو کسی تبدیلی یا اضافے کے بغیر ’’جوں کا توں‘‘ ہی رکھنا چاہیے۔ دوسری رائے کے مطابق اس کے نقائص کو دور کرنا لازم ہے تاکہ جدید قاری کے ساتھ اس کا تعلق مؤثر طور پر بن سکے۔ ان کی نظر میں یہ دونوں ہی خیال اپنی اپنی جگہ درست ہیں، مگر ظاہر ہے دونوں پر بیک وقت عمل نہیں ہو سکتا تھا۔ اگر وہ اسے ’’جوں کا توں رکھتے‘‘ تو پھر اس نئے ایڈیشن کی ضرورت ہی نہیں ہونی چاہیے تھی، کیونکہ ’’جوں کا توں‘‘ شکل میں ایڈیشن پہلے سے چھپ چکے ہیں اور سکین شدہ پی ڈی ایف فائل میں انٹرنیٹ پر بلامعاوضہ دستیاب بھی ہیں۔ ان ایڈیشنز میں تو اس حد تک بے وجہ ایمان داری برتی گئی کہ پہلے ایڈیشن کے آخر میں منسلک کردہ اغلاط نامے بھی دوبارہ سے چھاپ دیے گئے اور ان میں نشان دہی کردہ غلطیاں درست نہ کی گئیں۔ نیز انھیں پڑھنا اگر ناممکن نہیں تو نہایت مشکل ضرور ہے۔ تقریباً سو سال پہلے کے ایڈیشن کی کتابت کو ہی 1974ء والے (مکتبۂ سہیل) اور پھر اردو سائنس بورڈ والے (اشفاق احمد کی زیر ِسربراہی) 1995ء کے ایڈیشن میں عکسی طور پر لیا گیا، اور چھپائی کا معیار مزید گر گیا۔ اِس کے برعکس اگر دوسری رائے پر عمل کرتے ہوئے ترامیم اور تبدیلیاں نیز اضافے کر دیے جاتے تو یہ فرہنگِ آصفیہ مولوی سید احمد کی نہ رہتی بلکہ نئے مرتبین کی بن جاتی۔ لہٰذا ضروری تھا کہ ہم مفصل بحث مباحثہ کے بعد اس کے لیے کچھ اصول اپنائیں جس میں دونوں آرا کو توازن کے ساتھ جگہ دی جا سکے۔ سو انھوں نے فیصلہ کیا کہ

متن میں کہیں بھی کوئی اضافہ یا تبدیلی نہ کی جائے۔
اغلاط نامے میں دی گئی غلطیوں کو دوبارہ سے فہرست کی شکل میں چھاپنے کی بجائے ٹھیک کر دیا جائے۔
دیے گئے حقائق اور معلومات کے ساتھ کسی قسم کی چھیڑ چھاڑ نہ کی جائے تاکہ مولوی صاحب کے ذہن اور علم کی بعینہٖ تفہیم ممکن سکے۔
اگر کسی جگہ پر کوئی بہت فاش غلطی ہے تو ایک اضافی نوٹ ’’ایڈیٹر‘‘ کی طرف سے شامل کر دیا جائے، البتہ ایسا درجن بھر سے زائد جگہوں پر نہیں ہوا۔
تاہم، املا کا ایک معیار اپنانے کی ہر ممکن کوشش کی جائے جو موجودہ قاری کے تقاضوں اور پڑھنے کی عادات کے مطابق ہو۔

یہ کہنا زائد از ضرورت ہو گا کہ کسی لغت میں املا کو بہت زیادہ اہمیت حاصل ہے۔ بالخصوص اردو جیسی زبان میں تو اس کی اہمیت اور بھی بڑھ جاتی ہے جہاں ہم مثلاً عربی الاصل الفاظ کو عربی کے اصولوں کے مطابق ہی پڑھنا درست جانتے اور ان کے عربی مادّے پر ہی توجہ دیتے ہیں۔ املا میں لفظ کی صحت، موزونیت، چلن کے علاوہ تکنیکی بندشوں کو بھی ملحوظ رکھا گیا ہے۔

اسی بارے میں: ۔  صنعتی شعبے میں انسانی جان کی بے توقیری

یاسر جواد کے مطابق:

’’یاد رہے کہ چاروں جلدوں کے مختلف کاتبوں نے اپنی اپنی اِملا برتی ہے۔ مثلاً تیسری جلد میں ڈیڑھ سو صفحات کے بعد کاتب کے بدل جانے سے کافی انحرافات سامنے آتے ہیں۔ مثلاً وہ لکہنا (لکھنا)، خطنہ (ختنہ)، دنگہ (دنگا)، طلاتم (تلاطم)، یوں ہیں (یونہیِں)، کچہہ (کچھ)، جگہھ (جگہ) اور دود (ددودھ) وغیرہ جیسی املا پیش کرتا ہے جو اسی جلد کے ابتدائی صفحات اور پہلی دو جلدوں سے مختلف ہے۔ چنانچہ ہمارے لیے ضروری اور معقول تھا کہ ان کی درستی کی جائے۔ مگر اسے تحریف یا تبدیلی پر محمول کرنے کی بجائے اس طرح لینا چاہیے کہ ہم نے اس املا کو ترجیحاً منتخب کر کے بطور معیار لاگو کیا ہے جو ہمارے مروجہ اِملا کے قریب تر ہے۔ چنانچہ ’’چلن‘‘ کے اصول کے پیش نظر کہیں کہیں ہمیں خود اپنے ہی اصول سے انحراف کرنا پڑا۔ ‘‘

متعدد ایسی غلطیاں بھی تھیں جن کا اغلاط نامے میں ذکر نہیں تھا، اور جنھیں یاسر جواد نے بلاتردّد ٹھیک کر دینا موزوں جانا جیسے جلد اول صفحہ 393 پر ’’بِسات‘‘ کی تشریح میں ’’سترت‘‘ لکھا ہے اور ساتھ سنسکرت میں بھی درج ہے، جس کے مطابق اسے ’’وِسترت‘‘ کر دیا گیا کیونکہ یہی صحیح ہے۔ اسی طرح دو ایڈیشنز میں ’’پران‘‘ کے ضمن میں ایک پران کا نام ’’نارو‘‘ اور ’’ناڑو‘‘ لکھا ہے، حالانکہ یہ ’’نارد‘‘ ہے۔

کئی ایسے حاشیے بھی تھے جنھیں اِس ایڈیشن میں سمویا اور ختم کیا جا سکتا تھا۔ مثلاً جلد اوّل صفحہ 415 پر بیدید کا حاشیہ لکھ کر بتایا گیا ہے کہ یہ لفظ اصل میں بے دید ہے۔ چونکہ تہذیب کار نے ایسے تمام الفاظ کو الگ الگ کر دیا تھا، لہٰذا اِس حاشیہ کی ضرورت نہ رہی۔ یہ الفاظ کا الگ کر کے لکھنے کے ہمارے اصول کی تائید بھی کرتا ہے، کیونکہ باقی تقریباً سبھی جگہوں پر اس لفظ کو ملا کر لکھا گیا۔ ایسا ہی لفظ شہ سوار کے ساتھ بھی ہوا۔ ایسی بے شمار مثالیں ہیں۔

بالخصوص اشعار میں ایک اور اِک کی طرح میرا/مِرا، تیرا/تِرا، میری/مِری، تیری/تِری، میرے/مِرے، تیرے/تِرے کا خیال رکھنا بہت ضروری تھا، مثلاً یہ مِصرع دیکھیں: ’’میری طرح سے ان کو مِری چاہ ہو گئی۔ ‘‘ رفاقت راضی نے اپنی خصوصی مہارت کے ذریعے یہ تصحیح کی۔

دیوناگری رسم الخط اور سنسکرت کے الفاظ:

کچھ جگہوں پر خالصتاً ہندی لفظ کے سامنے دیوناگری سکرپٹ نہیں تھا، مگر خالی جگہ چھوڑی گئی تھی، یاسر جواد نے وہاں دیوناگری میں بھی لکھ دیا ہے۔ اس کے علاوہ چند ایک جگہوں پر واضح کرنے کے لیے دیوناگری کا اضافہ کیا، جیسے جلد سوم صفحہ 138 پر لفظ ’’سہائے کے آگے सहाय لکھا ہے۔
متن میں سنسکرت کے الفاظ کو بہتر اور درست انداز میں شامل کرنے کی ایک مثال یہ ہے:

سوَر (س स्वर) اِسمِ مذکّر: (1) آواز، سر (2) حروفِ عِلّت یا ان کی آواز، واول، حروفِ اعراب جو بقول بعض تیرہ بعض کے کہنے موافِق سولہ ہیں (حَرفِ عِلّت زبانِ سنسکرت میں تین قسم پر تقسیم کیے گئے ہیں: اوّل پلت سوَر पुलत स्वर جن کے تلفّظ میں ہر سہ سوَر کے تلفّظ سے سہ چند وقفہ لگتا ہے، جیسے اے ए، آئی इ، او ओ، اَو औ؛ دوسرے دِیرگ سوَر جن کی آواز لمبی اور دراز ہو، جیسے آ आ، اِی ई، او ऊ؛ اور تیسرے ہرسوا سوَر جِن کی آواز نہایت مختصر ہونے کے سبب جلدی سے نکلے، جیسے اَ۔ अ، اِ۔ इ، ا۔ उ، رِ۔ ऋ۔ )

یہ بھی ذکر کرتے چلیں کہ فرہنگ آصفیہ کے کاتب کو غالباً دیوناگری رسم الخط نہیں آتا تھا اور اس نے محض حروف کی اشکال ہی نقل کیں، چنانچہ ان میں کافی نقائص پائے جاتے ہیں۔ اوپر دی گئی ’’سوَر‘‘ کی مثال دی جا سکتی ہے جس کی اصل کتابت کا عکس سامنے دیا گیا ہے۔ مؤلف نے Platts کی لغات سے بھی تصدیق کر کے اس میں فحش اغلاط کو درست کیا۔ ایسا ہی اور بھی متعدد جگہوں پر کرنا پڑا۔

اصل متن کو پڑھنا بھی ایک معرکے سے کم نہیں ہو گا۔ سامنے جلد سوم صفحہ 150 کی کچھ سطروں کا عکس دیا جا رہا ہے جس سے اندازہ کیا جا سکے گا کہ اصل کتابت میں کیا کیا مسائل تھے جنھیں مکتبہ سہیل اور اردو سائنس بورڈ ایڈیشنز میں ٹھیک کرنے کی ہرگز کوئی کوشش نہ کی گئی۔
لہٰذا اگر کوئی شخص یہ دعویٰ کرے کہ اس نے موجودہ نئے ایڈیشن سے قبل فرہنگ آصفیہ کو بخوبی پڑھا اور دیکھا ہے تو اس پر شک کرنا بجا ہو گا۔

اس فرہنگ کی تہذیب و تزئین کے دوران یاسر جواد کو مختلف شعبوں میں دوستوں کی خصوصی اور انمول معاونت شامل رہی۔ تمام جلدیں مائیکروسافٹ ورڈ (یونی کوڈ) میں تیار کی گئی ہیں، کیونکہ ان پیج میں بہت سی سہولیات کا فقدان ہے۔ ان کے بقول یاور ماجد کی خصوصی ہمدردانہ رہنمائی کے بغیر یونی کوڈ میں یہ کارنامہ انجام نہ دیا جا سکتا۔ کچھ سینئر دوستوں نے عملاً رہنمائی کرتے ہوئے متن کی تہذیب کے اصولوں اور تزئین کے کام کا بغور جائزہ لیا اور اپنی مبسوط آرا سے نوازا۔ ان میں پروفیسر علی محمد خاں سرِ فہرست تھے جن کی زیرِ رہنمائی املا کے ان اصولوں کو حتمی شکل دی جو اپنے دیباچے میں تفصیلاً واضح کیے ہیں۔ عارف وقار نے تقریباً پچاس صفحات کو باریک بینی سے پڑھا اور مفید مشورے دیے۔ نیز پروف ریڈنگ میں معاون اور عربی و فارسی پر دسترس رکھنے والے رفاقت راضی کی محنت کے بغیر بھی یہ کام احسن طریقے سے انجام نہ پا سکتا۔

بیس لاکھ سے زائد الفاظ (بشمول 20 ہزار اشعار) پر مشتمل اِس فرہنگ میں چند ایک اغلاط رہ جانا کوئی بڑی بات نہ ہو گی۔
الفیصل ناشران کے ناظمِ اعلیٰ محمد فیصل کو داد دینا پڑے گی کہ انھوں نے وہ کام کروایا جو بڑے بڑے سرکاری ادارے بھی ایک صدی سے زائد عرصہ میں نہیں کروا سکے تھے۔ (ختم شد)


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔