سید عطاءاللہ شاہ بخاری سے علامہ خادم حسین رضوی تک۔ دوسری کہانی


(پہلا حصہ: سید عطاءاللہ شاہ بخاری سے علامہ خادم حسین رضوی تک۔ پہلی کہانی)
آئیے اب بیچ کی اور بہت سی ایسی چھوٹی موٹی کہانیوں سے صرف نظر کرتے ہوئے دوسری بڑی کہانی کی طرف چلتے ہیں۔ یہ راولپنڈی ہے۔ 2011 کے اوائل ہیں۔ سردی میں شدت آ چکی ہے پر رات کے وقت یہ سردی بھی ایک بڑے ہجوم کو اکٹھا ہونے سے روک نہیں سکی۔ یہ ہجوم صادق آباد میں دعوت اسلامی نامی ایک بریلوی فکر کی تنظیم کی جانب سے ایک اجتماع کے لیے اکٹھا ہوا ہے۔ ایک کے بعد ایک مقرر آ رہے ہیں پر یہ جو صاحب اب اسٹیج پر ہیں انہوں نے حشر بپا کر دیا ہے۔ ان کا نام ہے قاری حنیف قریشی۔ موضوع خطاب ہیں گورنر پنجاب سلمان تاثیر۔ یاد ہے پچھلی کہانی میں غازی علم الدین کے لیے چارپائی جن صاحب کے گھر سے آئی تھی ان کا نام تھا ایم ڈی تاثیر۔ یہ سلمان تاثیر انہی کے صاحبزادے ہیں۔ کچھ دن پہلے توہین رسالت کے الزام میں گرفتار آسیہ بی بی سے ملنے کا ”جرم“ کر بیٹھے ہیں۔ ساتھ ہی کچھ سوال انہوں نے متعلقہ قانون پر بھی اٹھائے۔

وہی قانون جو جناب ضیاءالحق کی ہدایت پر سید عطاء اللہ شاہ بخاری کی، پاکستان کو کافرستان اور قائداعظم محمد علی جناح کو کافر اعظم کہنے والی مجلس احرار کے سرگرم رکن اور مرد مومن کے پرانے دوست چوہدری عبدالرحمن کی صاحبزادی آپا نثار فاطمہ کی تحریک پر منظور ہوا تھا۔ انہی آپا نثار فاطمہ کے فرزند جناب احسن اقبال ایک دن مملکت پاکستان کے وزیر داخلہ بنیں گے۔ سلمان تاثیر نے نہ رسول اللہ کا ذکر کیا نہ ان کے فرمودات یا ارشادات پر کوئی کلام کیا ہاں وہ اس بات کے شاکی تھے کہ 295C کا غلط استعمال ہو رہا ہے اور آسیہ بی بی کے کیس میں کئی سوال ہیں جو اٹھائے جا سکتے ہیں۔ یہ بات ناموس رسالت کی ہر سال کانفرنس منعقد کرنے والے اذہان کو پسند نہیں آئی ہے اس لیے روز اس حوالے سے کوئی تقریر ہوتی ہے۔ رفتہ رفتہ سلمان تاثیر کے بیان پر ناراضی سے بڑھ کر بات وہاں آن پہنچی ہے جہاں انہیں بھی توہین رسالت کا مرتکب گردانا جا رہا ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ کوئی یہ نہیں بتاتا کہ وہ کون سے الفاظ تھے جن کی پاداش میں یہ الزام عائد ہوا ہے۔ اور تو اور کسی نے ابھی ایف آئی آر بھی درج کرانے کا نہیں سوچا۔ کوئی مقدمہ بھی قائم نہیں ہوا پر آتش بجاں مقررین گلی محلوں میں مقدمے بھی قائم کر رہے ہیں اور سزا بھی سنا رہے ہیں۔ گورنر اور انتظامیہ کے بیچ سیاسی جھگڑا زوروں پر ہے اس لیے پنجاب پولیس بھی کان لپیٹے سو رہی ہے۔ آج کے ہمارے مقرر بھی مروجہ لے اور لحن میں دیکھیے، کیا فرما رہے ہیں۔ سید عطاء اللہ شاہ بخاری والی بات تو نہیں ہے، کچھ بے ربطی بھی ہے پر جذبات کی کمی نہیں ہے

”او سن لو۔ ہم ہیں غازی علم الدین شہید کی فکر کے وارث۔ ہم ڈنکے کی چوٹ پر کہتے ہیں۔ ڈرتے نہیں ہیں ہم۔ اگر ہمارے ملک کے قانون 295C کی گستاخ رسول کی سزا موت کا قانون نہ ہو۔ اللہ نے ہمیں جرات عطا کی ہے۔ اپنے ہاتھوں سے ہم بندوق چلانا بھی جانتے ہیں۔ گولی مارنا بھی جانتے ہیں۔ اور گستاخ کا گلا بھی کاٹنا جانتے ہیں“

لوگوں کے نعروں کے شور سے جلسہ گاہ لرز اٹھی ہے۔ قاری حنیف قریشی فرط جذبات میں اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔ مائک کو ہاتھ مار کر گرا دیا ہے جسے فوراً ایک عقیدت مند نے دوبارہ کھڑا کر دیا ہے۔ پگڑی نوچ کر پھینک دی ہے۔ سر کے بال کھل گئے ہیں۔ نعروں کا شور مدھم پڑتا ہے تو اونچے آہنگ میں تقریر پھر شروع ہوتی ہے

“اوئے، اپنے اندر سے بزدلی نکالو۔ ہمیں اللہ نے اتنی توفیق اور جرات دی ہے کہ ہم گستاخ کا گلہ دبوچ سکتے ہیں۔ اس کی زبان کاٹ سکتے ہیں۔ اس کے جسم کو گولیوں سے چھلنی کر سکتے ہیں۔ کوئی قانون ہمیں نہیں روک سکتا۔ کوئی قانون ہمیں پکڑ نہیں سکتا۔ گستاخی رسول کی سزا موت ہے۔ نبیؐ کے گستاخ کو زندہ رہنے کا کوئی حق نہیں ہے”

ایک دفعہ پھر نعروں کے شور میں آواز گم ہو جاتی ہے۔ نعرے تھمتے ہیں تو ایم ڈی تاثیر کے فرزند سلمان تاثیر کا اب براہ راست ذکر ہے

“میں تو کہتا ہوں انتظامیہ سن رہی تو سنے۔ لکھو، پکے پیانو پین سے لکھنا۔ نکالو اس کتے کو۔ دیکھنا اگر اس کی لاش بھی پہچاننے کے قابل رہی تو بات کرنا۔ نکالو اسے جو رسولؐ کی بے ادبی کرے۔ پاکستان مین زندہ رہے؟ “

پیچھے نعرے لگاتا یہ باریش جوان ایک لمحے کو تھم گیا ہے۔ اسے اپنے آپ پر شرم آ رہی ہے۔ یہاں کوئی نہیں جانتا کہ اسے کے ذمے اسی سلمان تاثیر کی حفاظت کی ذمہ داری ہے جسے قاری صاحب نے قابل گردن زنی قرار دیا ہے۔ جسے زندہ رہنے کا حق نہیں، یہ بندوق اٹھا کر روز اس کی حفاظت کرتا ہے۔ جوان کا نام ممتاز قادری ہے۔ یہ ترکھان نہیں اعوان ہے پر اب ترکھانوں کے لڑکے غازی علم الدین کی راہ پر چلنا چاہتا ہے۔ جو چند ایک درسی کتب اس نے پڑھی ہیں اس میں بھی غازی علم الدین شہید کے بارے میں لکھے گئے سنہری لفظ اسے یہ باور کرا رہے ہیں کہ جنت کا رستہ یہی ہے۔ ممتاز قادری نے کبھی 295C کے الفاظ نہیں پڑھے۔ اس کو آسیہ بی بی کے کیس کے حقائق کا بھی پتہ نہیں ہے۔ گورنر پنجاب کی حفاظت تو وہ کرتا ہے پر اس نے گورنر پنجاب کی وہ ”گستاخانہ تقریر“ بھی نہیں سنی پر قاری صاحب کا جذبہ ایمانی اور ان کی آتش فشانی کو دیکھنے کے بعد اب ممتاز قادری کسی تحقیق کی ضرورت محسوس نہیں کرتا۔ بچپن سے ناموس رسالت سے جو محبت اس نے سیکھی ہے اب اس محبت کا قرض اتارنے کی باری ہے۔ تقریر کر کے قاری حنیف قریشی اب اسٹیج کے عقب میں ٹھنڈی بوتل کے ساتھ کھانا کھا رہے ہیں اور ادھر ممتاز قادری جلتا سینہ لے کر جلسہ گاہ سے رخصت ہو رہا ہے۔

محافظ سے بڑھ کر آسان موقعہ کس کو مل سکتا ہے۔ بس وہ موقعہ آتا ہے تو ممتاز قادری اپنی آٹومیٹک بندوق کی ستائیس گولیاں 4 جنوری 2011 کو لادین کہلانے والے سلمان تاثیر کے سینے میں اتار دیتے ہیں اور سکون سے گرفتاری دے دیتے ہیں۔ مقدمہ چلتا ہے۔ شواہد پیش ہوتے ہیں۔ موت کی سزا مل جاتی ہے۔ اس دفعہ پولیس بیچ میں کہیں قاری حنیف قریشی کو بھی پکڑ لاتی ہے۔ قاری صاحب ہنس کر پولیس کو بتاتے ہیں کہ وہ تو ممتاز قادری نامی کسی شخص کو جانتے تک نہیں۔ رہی ان کی تقریر تو اس کا مطلب ہر گز کسی کو اکسانا نہیں تھا۔ پولیس زیادہ اصرار کرتی ہے تو قاری صاحب ایک ایفیڈیوٹ دے دیتے ہیں کہ ان کا ممتاز قادری سے اور اس کے عمل سے دور کا کوئی ناطہ نہیں اور مقدمے سے بری الذمہ قرار پاتے ہیں۔ ہمارا حسن ظن یہ کہتا ہے کہ وہ اس سعادت میں شریک ضرور ہوتے اور سینہ ٹھونک کر ناموس رسالت کے تحفظ کے لیے اٹھائے گئے اس انتہائی اقدام کا تمغہ اپنے سینے پر سجاتے پر شاید انہوں نے سوچا کہ غازی ممتاز قادری کا مشن بھی تو کسی کو جاری رکھنا ہے اس لیے انہوں نے تقیہ کیا اور اپنے آپ کو ایک عظیم مقصد کے لیے وقف کرنے میں کامیاب رہے۔

غازی ممتاز قادری کی اسیری کے دن ہیں۔ ہر ہفتے اڈیالہ جیل کے باہر اب قاری صاحب کا درس ہوتا ہے۔ ناموس رسالت کے نئے پروانے تیار ہو رہے ہیں۔ قوم کو ممتاز قادری کا پیغام پہنچ رہا ہے پھر وہ دن آن پہنچتا ہے۔ 29 فروری 2016 کو غازی علم الدین کے بعد غازی ممتاز قادری بھی پھانسی کے پھندے کو چوم کر گلے میں ڈالتے ہیں۔ یکم مارچ 2016 کو جنازہ اٹھتا ہے۔ اس جنازے میں بھی لاکھوں لوگ امڈ آئے ہیں۔ قاری حنیف قریشی جنازے پر نوحہ کناں ہیں۔ انہیں شکوہ ہے کہ اعوانوں کا لڑکا ان سے بازی لے گیا ہے۔ اب قاری صاحب کی عمر بھر کی تقریریں غازی ممتاز قادری شہید کے نام ہیں۔ ان کی سی ڈیز ہاتھوں ہاتھ لی جاتی ہیں۔ ایک کے بعد ایک دعوت ملتی ہے۔ ادھر وہ غازی صاحب کے قصے سناتے ہیں ادھر عشاق ان پر نوٹ نچھاور کرتے ہیں۔ سفر ہنوز جاری ہے۔
(جاری ہے)


اسی بارے میں

پہلی کہانی: سید عطاءاللہ شاہ بخاری سے علامہ خادم حسین رضوی تک۔ پہلی کہانی

دوسری کہانی: سید عطاءاللہ شاہ بخاری سے علامہ خادم حسین رضوی تک۔ دوسری کہانی

تیسری کہانی: سید عطاءاللہ شاہ بخاری سے علامہ خادم حسین رضوی تک۔ آخری کہانی سے ذرا پہلے


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

حاشر ابن ارشاد

حاشر ابن ارشاد کو سوچنے کا مرض ہے۔ تاہم عمل سے پرہیز برتتے ہیں۔ کتاب، موسیقی، فلم اور بحث کے شوقین ہیں اور اس میں کسی خاص معیار کا لحاظ نہیں رکھتے۔ ان کا من پسند مشغلہ اس بات کی کھوج کرنا ہے کہ زندگی ان سے اور زندگی سے وہ آخر چاہتے کیا ہیں۔ تادم تحریر کھوج جاری ہے۔

hashir-irshad has 88 posts and counting.See all posts by hashir-irshad

One thought on “سید عطاءاللہ شاہ بخاری سے علامہ خادم حسین رضوی تک۔ دوسری کہانی

Comments are closed.