نظریہ، انسانیت اور نظریاتی ریاست (1)


shadab murtazaیہ محض اتفاق ہے لاعلمی ہے یا دانستگی کہ بعض اوقات ہم اپنے ملک کے سیاسی، سماجی اور اقتصادی مسائل کے حل کے لیے تاریخ سے رجوع کرتے وقت بری مثالوں کو اچھائی کی تصویر کشی کے لیے اور اچھی مثالوں کو برائی کی صورت گری کے لیے پیش کرتے ہیں؟ آزادی اظہار اور اختلافِ رائے کا احترام، رواداری و ہم آہنگی، برابری و مساوات، امن و امان،علمی و تہذیبی ترقی، جمہوریت و سیکولرازم وغیرہ کے عنوان پر ہمارے غیر مذہبی بیانیے میں موجود مشوروں اور تجویزوں میں مشرقی جرمنی کی دیوارِ برلن جبرواستبداد کا استعارہ اور یوں باالفاظِ دگر مغربی جرمنی مظلومی و مجبوری کی علامت بن جاتے ہیں۔ آزادی اظہار و افکار، برابری و مساوات، علمی و تہذیبی ترقی اور جمہوریت اور فرد کے حقوق کی ذیل میں ہمارے بیانیے میں سوویت یونین ایک عفریت کی طرح نمایاں ہوتا ہے اور ہٹلر کی فسطائیت، مغربی جرمنی، امریکہ اور یورپ کا آمرانہ و غاصبانہ ملکی اور بین الاقوامی کردار یا تو فراموش رہتا ہے یا تعریف و توصیف سے مزین قابلِ تقلید مثالوں کا درجہ پاتا ہے۔ چونکہ ایک مخصوص غیر مذہبی مکتبہِ فکر، لبرل ازم، کے حلقے میں کمیونزم کے افکار و اعمال کو جمہوریت، سیکولرازم اور فرد کی آزادی کے منافی سمجھا جاتا ہے اور اس کی روش کو آمرانہ و جابرانہ خیال کیا جاتا ہے اس لیے کمیونسٹ افکار پر قائم ہونے والی ریاستوں، نظریاتی ریاستوں، میں ہمیں فرد کی آزادی اور یکساں حقوق کی پامالی فرض کر لینے میں اس لیے مشکل نہیں ہوتی کہ ہم اس عقیدے پر یقین رکھتے ہیں کہ نظریاتی ریاست میں ریاست کے نکتہ نظر سے اختلاف ناقابلِ برداشت ہوتا ہے اور اختلافِ رائے کے جرم کا ارتکاب کرنے والوں کی زبانیں کھینچ لی جاتی ہیں۔ چونکہ کمیونزم کے افکار پر تشکیل دی گئی نظریاتی ریاستوں میں ریاستی بیانیے سے اختلاف کی گنجائش نہیں ہوتی اس لیے علمی و تہذیبی ترقی، فنون و ثقافت، نشست و برخاست، لباس و پوشاک، الغرض فرد کی زندگی کے ہر پہلو کا تعین ریاست کرتی ہے جس میں فرد کی رائے،ذوق، مذاق اور خواہشات کو عمل دخل کی قطعی کوئی اجازت نہیں ہوتی۔

کمیونزم کے افکار پر قائم ریاستوں کو اس نکتہ نظر سے دیکھنے کے نتیجے میں سوشلسٹ ریاستیں بشمول مشرقی جرمنی اور باالخصوص سوویت یونین ہمیں اپنی ریاست کی ہیئت و تشکیل کے لیے غیرموزوں، مضر اور خطرناک معلوم ہوتے ہیں اور اس لیے ہم ریاستی پالیسی اور ترجیحات میں ہونے والی بنیادی تبدیلیوں کے اشاروں کے زیرِ اثر اربابِ اقتدار کو اور باشعور عوام کو ایک نظریاتی ریاست، مذہبی ریاست، سے دوسری قسم کی نظریاتی ریاست، سوشلسٹ ریاست، کی جانب پیش قدمی سےباز رہنے کی تلقین و تاکید کرتے ہیں اگرچہ ہماری یہ مستقبل بینی  ایسے مستقبل کے بارے میں ہے جسے فی الوقت مستقبل بعید سمجھنا بھی بعید از قیاس ہے۔ تاہم، چونکہ ہماری ریاست پڑوسی ملک چین کی سرمایہ کاری پر بڑی حد تک انحصار کرچکی ہے اور چین کمیونزم کے نظریے پر قائم ریاست کے طور پر جانا پہچانا جاتا ہے، اس لیے ریاستی معاملات میں نظریاتی دخل اندازی سے دور رہنے کی تجویز کچھ ایسی مبہم بھی نہیں، ہر چند کہ تجویز دیتے وقت ہم اس بات کا شاید واضح ادراک نہیں رکھتے۔ لیکن ہمارے لیے فی الوقت یہ قضیہ زیادہ اہم ہے جس پر نظریاتی ریاست کی مخالفت کے لبرل بیانیے کا دارومدار ہے یعنی یہ کہ نظریاتی ریاست لازمی طور پر فرد کی آزادی کی راہ میں رکاوٹ کا باعث ہوتی ہے۔ چونکہ مختلف افراد مختلف افکار، نکتہ نظر، میلان، رجحان، ذوق و خواہشات رکھتے ہیں لہذا تمام شہریوں کا ریاست کے نظریے سے متفق ہونا ممکن نہیں۔ یہ تضاد ریاست کو اختلافِ رائے رکھنے والے شہریوں کے انفرادی حقوق کی حق تلفی کی جانب لے جاتا ہے جو کہ انسانی برابری اور مساوات کے لبرل اقدار کے منافی ہے۔

ہر شہری کے انفرادی حقوق کا تحفظ ریاست کی ذمہ داری ہے۔ اب دو باتیں ہیں۔ ایک یہ کہ اس قضیے میں ایک تو یہ فرض کر لیا گیا ہے کہ ایسا کوئی نظریہ نہیں جو نظریاتی اختلاف کو برداشت کر سکے اور اختلافِ رائے کے باوجود ہر فرد کے جمہوری اور انسانی حقوق کے تحفظ پر یقین بھی رکھتا ہو۔ اور پھر اسی بنیاد پر یہ بھی فرض کر لیا گیا ہے کہ چونکہ ایسا کوئی نظریہ ہے ہی نہیں اس لیے کسی بھی ریاست کے لیے یہ ممکن نہیں کہ وہ کسی ایسے نظریے پر قائم ہو جس میں ریاستی نظریے سے اختلاف کو برداشت کیا جا سکے اور اختلاف رائے کے باوجود شہری کے حقوق پر آنچ نہ آنے دی جائی۔ ان دونوں مفروضات سے مل کر یہ قضیہ بنا ہے کہ نظریاتی ریاست اختلافِ رائے کو برداشت نہیں کرسکتی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ نظریاتی ریاست کی مخالفت کے ساتھ ساتھ ریاست سے اختلافِ رائے کو برداشت کرنے کا یہ لبرل ( اور قطعی جائز) مطالبہ بھی ساتھ ساتھ جاری رہتا ہے حالانکہ چونکہ سیکولرازم اور جمہوریت بھی سیاسی نظریات ہیں لہذا ان کی حامل ریاست بھی غیر نظریاتی ریاست نہیں ہو سکتی جس سے پتہ چلتا ہے کہ ریاست کوئی بھی ہو نظریاتی ریاست ہی ہوتی ہے۔ فرق صرف یہ ہوتا ہے کہ وہ نظریہ یا نظریات جنہیں ریاست نے اپنایا ہے وہ اچھے اور انسان دوست نظریات ہیں یا برے اور انسان دشمن نظریات۔ ان سے ریاست کے شہریوں کی مجموعی فلاح و بہبود مقصود ہے یا ایک اقلیتی گروہ کی فلاح و ترقی ان کا مطمعِ نظر ہے۔ سیکولرازم اور جمہوریت چونکہ انسانیت پرور نظریات ہیں لہذا انسان دوست افراد ریاست سے انہیں اپنانے کا مطالبہ کرتے ہیں اور ان کی بنیاد پر بنائے گئے ریاستی قوانین اور نظام کو مکمل اور جامع انداز سے نافذکیے جانے کی خواہش رکھتے ہیں۔ سیکولرازم اور جمہوریت، کمیونزم کے نظریے کے بنیادی اراکین بھی ہیں اور اس نظریے پر قائم ہر ریاست کا لازم و ملزوم حصہ رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مذہبی یا قوم پرستانہ نظریات کی بنیاد  پر قائم ریاستوں میں کمیونزم کے نظریے اور اس کے حامل افراد کو سختی کے ساتھ کچلنے کے واقعات سے تاریخ بھری پڑی ہے جن سے پاکستان بھی خالی نہیں۔ انیس سو انچاس سے پاکستانی ریاست میں سیکولرازم اور جمہوریت کے آدرشوں کے لیے پابجولاں کمیونسٹ قید و بند اور جلاوطنی کی صعوبتیں اٹھاتے رہے ہیں اور قتل گاہوں کی زینت بھی بنے ہیں بلکہ کفر کے تمغوں سے بھی نوازے جاتے رہے ہیں۔ اس حقیقت سے انکار کرنا قطعی زیادتی ہو گی۔ تاہم اس ذکر کو پھر کسی مناسب وقت کے لیے موخر کرتے ہوئے لبرل ازم کے نکتہ نظر کی جانب آتے ہیں جس سے انسانی آزادی، مساوات اور برابری، جمہوریت اور سیکولرازم کے نظریات پروان چڑھے۔

لبرل ازم آزادی کا فلسفہ ہے۔ اس کے مطابق تمام انسان برابر ہیں اور مساوی حقوق و سلوک کے مستحق ہیں۔ لبرل ازم کا بانی معروف  برطانوی فلسفی جان لاک کو قرار دیا جاتا ہے۔ اس کا دوسرا اہم مفکر بھی ایک مشہور برطانوی فلسفی جان اسٹوارٹ مل تھا۔ لبرل ازم کی ذیل میں یورپی اربابِ عقل و فہم میں یہ اتفاقِ رائے پایا جاتا ہے کہ لبرل ازم کا نظریہ یورپی استعماریت اور سامراجیت کی بنیاد بنا۔ اس نظریے کو بنیاد بنا کر برطانیہ، فرانس، اسپین وغیرہ نے دنیا کی پسماندہ قوموں کو مہذب بنانے کے عذر کے تحت ان پر بزور طاقت قبضہ کیا اور انہیں اپنی غلامی کا طوق پہنایا۔ مثلا لبرل ازم کے بانی جان لاک نے جب مقبوضہ کیرولینا کا آئین لکھا تو وہاں کے ہر “آزاد” باشندے کو “غلام” انسانوں پر مکمل اختیار دیا جس میں ان کی زندگی اور موت کا فیصلہ کرنے کا اختیار بھی شامل تھا اور غیرعیسائی مذہبی لوگوں کو کمتر حیثیت دی۔  اس کے ساتھ ساتھ وہ غلاموں کی تجارت کرنے والی برطانوی اجارہ داری، رائل افریکن کمپنی، میں بھی شامل رہا۔ جان اسٹوارٹ مل نے آزادی پر لکھے گئے اپنے مقالوں میں بزور طاقت “وحشی” قوموں کو مہذب بنانے کے انسانیت کش عمل کے دفاع میں فلسفیانہ جواز تراشے۔ وہ پینتیس سال ایسٹ انڈیا کمپنی میں اعلی ترین فیصلہ ساز اور انتظامی عہدوں پر فائز رہا۔ ایسٹ انڈیا کمپنی نے ہندوستان میں جوظالمانہ کردار ادا کیا اس سے ہم واقفیت رکھتے ہیں۔  چنانچہ لبرل ازم میں موجود انسانی برابری اور آذادی کا تصور فکری لحاظ سے یقینا قابلِ ستائش ہے لیکن حقیقت میں یعنی عملی طور پر لبرل ازم کی تحریک انسانوں کی کمتر اور برتر، آقا اور غلام، طاقتور اور کمزور کی تفریق کو قائم رکھنے اور اسے مضبوط کرنے کے منافقانہ جواز سے زیادہ کچھ نہیں رہی۔

یہی وجہ ہے کہ یورپ میں شدید ترین انسانی استحصال پر مبنی جاگیردارانہ نظام کے خاتمے کے باوجود نہ صرف یورپ میں انسانی آزادی، برابری، سیکولرازم اور جمہوریت کا وہ خواب پورا نہ ہو سکا جس کے ذریعے یورپ میں ابھرتے ہوئے سرمایہ دار طبقے نے لبرل ازم، سیکولرازم اور جمہوریت کے اعلیٰ آدرشوں کے نعروں کے ذریعے مظلوم عوام کی حمایت حاصل کر کے جاگیردار طبقے کی حاکمیت کا خاتمہ کیا تھا۔ اس کے برعکس لبرل ازم، سیکولرازم اور جمہوریت کا داعی سرمایہ دار طبقہ اپنی ریاستوں کے اقتدار کے ذریعے یورپ کے عوام اور دنیا کی کمزور اور پرامن قوموں کے انسانوں کی محکومی، نسل کشی اور حقوق کی ظالمانہ حق تلفی کا باعث بن گیا جب کہ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ جاگیردار طبقے کے اقتدار کے خاتمے کے ساتھ انسانی حقوق کی پامالی کا سلسلہ بھی ختم ہو جاتا لیکن چار سو سال گزرنے کے باوجود اس میں کوئی قابلِ ذکر کمی نہیں آئی خاتمہ تو بہت دور کی بات ہے۔ بلکہ اقوامِ عالم کی آزادی و خودمختاری کو سلب کرنے کے لیے لبرل سرمایہ دارانہ ریاستوں کے درمیان مخاصمت بڑھ کر عالمی جنگوں اور ایٹمی ہتھیاروں کی دوڑ اور ماحولیاتی تباہی تک پہنچ کر پوری انسانیت اور کرہِ ارض کے وجود کے لیے خطرہ بن چکی ہے۔

(جاری ہے )


Comments

FB Login Required - comments