جنسی تشدد کا شکار روہنگیا خواتین


میانمار سے بنگلہ دیش نقل مکانی کرنے والی چند روہنگیا خواتین کا کہنا ہے کہ وہ جنسی حملوں کا نشانہ بنی ہیں۔ نقل مکانی کرنے والے کچھ روہنگیا خاندانوں کا یہ الزام بھی ہے کچھ خواتین کو ریپ کرنے کے بعد قتل بھی کیا گیا ہے۔ بنگلہ دیش میں ڈاکٹروں کا کہنا ہے بہت ساری روہنگیا خواتین شرم کی وجہ سے اپنے علاج کروانے میں بھی کتراتی ہیں۔

بی بی سی بنگلہ سروس کی فرحانہ پروین نے ان کے حالت زار پر رپورٹ کیا ہے۔ اس رپورٹ میں متاثرہ افراد کے اصل نام استعمال نہیں کیے گئے۔

تین دن ہوئے ہیں کہ ہاجرہ بیگم نے بنگلہ دیش کے جنوبی مشرقی ضلعے کوکس بازار کے علاقے اکھیا سے سرحدعبور کی تھی۔ وہ کہتی ہیں کہ میانمار کی فوج نے ان کے گھروں کا محاصرہ کیا اور جو بھاگنے میں کامیاب ہوگئے وہ بچ گئے۔ جو نہیں بھاگ سکے یا تو وہ مر چکے ہیں یا انھوں نے ان کی طرح جنسی تشدد کا سامنا کیا ہے۔

وہ کہتی ہیں: ‘ریپ کے بعد میں اپنے آپ کو بچانے میں کامیاب رہی لیکن وہاں بہت ساری لڑکیاں ہیں جن کا ریپ کے بعد قتل کیا گیا۔’

ہاجرہ بیگم کا کہنا تھا کہ انھوں نے ریپ کے بعد فوج سے طبی امداد کا مطالبہ کیا تو انھوں نے انکار کر دیا۔

انھوں نے بی بی سی کو بتاتا: ‘میری جیسی بہت سی خواتین نے فوج سے علاج کے لیے کہا، ہم نے خاص طور پر وہ دوا مانگی جس سے ہم حاملہ نہ ہو سکیں۔ لیکن ہمیں نہیں دی گئی۔’

اسی بارے میں: ۔  خارجہ پالیسی بنتی کہاں ہے؟

خیال رہے کہ 25 اگست کے بعد بڑی تعداد میں روہنگیا خواتین اور بچے بنگلہ دیش داخل ہوئے ہیں۔ ان کا الزام ہے کہ مردوں کو قتل کیا گیا اور خواتین کو جنسی تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔

ریحانہ بیگم نے اپنے نومولود بچے کے ساتھ سرحد پار کی تھی لیکن وہ اپنی 15 سالہ بیٹی کو ڈھونڈنے کے ناکام رہی ہیں۔

وہ کہتی ہیں کہ ‘مجھے ڈر ہے کہ اسے فوج نے پکڑ لیا ہوگا۔ میں نے اب تک اس کے بارے میں کوئی خبر نہیں سنی۔’

محمد الیاس نے دو ہفتے قبل میانمار چھوڑا تھا، وہ روہنگیا خواتین کے ساتھ جنسی تشدد کو بیان کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ انھوں نے ‘ایک خاتون پر تشدد ہوتے دیکھا۔ اس کی گود میں ایک بچہ تھا۔ بعد میں میں نے ایک اس کا آدھا جلا ہوا جسم پانچ اور لاشوں کے ساتھ دیکھا۔’

بنگلہ دیش کے ضلع کوکس بازار میں اب بنگلہ دیشی ڈاکٹر اور کئی بین الاقوامی تنظیمیں روہنگیا خواتین اور بچوں کو طبی امداد فراہم کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ بہت ساری خواتین انھیں جنسی تشدد کے بارے میں خوف اور بدنامی کے ڈر کی وجہ سے بتانے سے کتراتی ہیں۔ جس کے نتیجے میں انھیں ضروری علاج فراہم نہیں ہو سکتا۔

اکھیا میں ایک بنگلہ دیشی ڈاکٹر مصباح الدین احمد کہتے ہیں انھوں نے 18 ریپ کیسز کے بارے میں سنا ہے۔ لیکن انھیں یقین ہے کہ اصل تعداد سے کہیں زیادہ ہے البتہ مصدقہ تعداد جاننا خاصا مشکل ہے۔

وہ کہتے ہیں: میں نے کل چھ ماؤں سے بات کی، تمام کے گود میں شیرخوار بچے تھے۔ ان کے مطابق انھوں نے برمی فوج کے جبر کا سامنا کیا۔ ان کے چہروں پر درد اور خوف کے آثار تھے۔’

اسی بارے میں: ۔  کشمیر: بی ایس ایف کیمپ پر حملہ، تصادم جاری

ان کا کہنا تھا کہ انھیں طبی کارکنوں کی جانب سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق ریپ کیسز قابل ذکر نہیں ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ‘اسی وجہ سے مجھے زیادہ خرابی کا ڈر ہے۔’

اب بنگلہ دیشی طبی عملے کے کارکنان کیمپوں میں جا کر پوچھ گچھ کر رہے ہیں تاکہ خواتین کو ضروری علاج فراہم کیا جا سکے۔ طبی امداد کے علاوہ جنسی تشدد کا نشانہ بننے والی خواتین کو کونسلنگ بھی فراہم کی جا رہی ہے۔

طبی کارکنوں کا کہنا ہے کہ اگر متاثرہ خواتین کی نشاندہی اور طبی سہولیات فراہم نہ کی گئیں تو ان کی صحت پر طویل المدت اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ تاہم فی الوقت اس مسئلے کی شدت کا اندازہ لگانا بھی ایک مشکل کام دکھائی دے رہا ہے۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 852 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp