دوسری عورت اور تین طلاق کا مسئلہ


بہت پہلے کی بات ہے،عزیزہ میرے گھر میں کھانا بنانے اور دیگر کام کاج کے لئے آتی تھی۔ مضبوط کاٹھی کی دلکش سرائیکی عور ت اپنے کام سے کام رکھتی تھی، نہ کبھی تنخواہ کے علاوہ کچھ مانگا نہ کبھی کوئی فضول بات کی۔پائی پائی جوڑ کر اس نے ’خدا کی بستی ‘میں پلاٹ خرید کر اپنا گھر بنایا اور وہاں منتقل ہو گئی۔یوں ہمارا ساتھ چھٹ گیا۔بہت عرصہ بیت گیااور پھر گزشتہ اتوار اچانک وہ ملنے آگئی۔وہ نانی دادی بن چکی تھی لیکن کہیں سے بوڑھی نہیں لگتی تھی۔’’باجی، میرا شوہرکسی عورت کے چکر میں پڑگیا ہے‘‘اس نے کوئی تمہید باندھے بغیر اپنا مسئلہ بیان کر دیا۔’’رات کو اس کا فون آتا ہے ،تو فوراً اپنا موبائل لے کر باہر چلا جاتا ہے اور گھنٹوں اس سے باتیں کرتا رہتا ہے۔میں جھگڑا کرتی ہوں تو مجھے مارتا ہے۔جوان بیٹے پر بھی ہاتھ اٹھا چکا ہے۔مکان بھی اس کے نام ہے، ہم سب کو گھر سے نکالنے کی دھمکیاں دیتا ہے۔باجی،آپ کو تو پتا ہے ،اس گھر میں میری بھی محنت کی کمائی شامل ہے‘‘۔

وہ بڑی امیدوں کے ساتھ میرے پاس آئی تھی اور میں سوچ رہی تھی کہ میں اس کے لئے کیاکر سکتی ہوں۔ اگر اس کا شوہر اسے طلاق دینا چاہتا ہے تو کیا میرے کہنے سے وہ اپنا ارادہ بدل دے گا۔اگر وہ دوسری شادی کرنا چاہتا ہے تو کیا میرے کہنے سے رک جائے گا۔عورت کے لئے سب سے زیادہ تکلیف دہ بات یہ ہوتی ہے کہ وہ جس آدمی کا گھر بسانے اور بچے پالنے میں اپنی جوانی صرف کر ڈالتی ہے،وہ بڑھاپے میں طلاق کے تین لفظ ادا کر کے اسے اپنے گھر سے بے دخل کر سکتا ہے۔سماج اور قانون اس عورت کو کیا تحفظ فراہم کرتا ہے؟

خواتین کے حقوق سے دلچسپی رکھنے والوں کو ہندوستان کی شاہ بانو کاکفالت کیس تو یاد ہو گا۔اسے مسلمان عورتوں کے حقوق کے تحفظ کی جنگ کا قانونی سنگ میل سمجھا جاتا ہے۔سپریم کورٹ نے اس کیس میں مطلقہ عورت کے نان نفقہ کے حق کو برقرار رکھا تھا لیکن اس کیس کی وجہ سے ہندوستان میں ایک نئی سیاسی جنگ چھڑ گئی تھی اور یہ تنازع بھی اٹھ کھڑا ہوا تھا کہ عدالتیں کس حد تک مسلم پرسنل لا میں مداخلت کر سکتی ہیں۔اس کیس نے باقاعدہ عدالتوں میں مسلمان عورتوں کے شادی اور طلاق کے جھگڑوں میں مساوی حقوق کی بنیاد ڈالی۔

اس کی حالیہ مثال شاعرہ بانو کیس ہے جس میں عدالت نے ایک ساتھ تین طلاق دینے کے رواج کو مسترد کر دیا ہے۔ 62 سا لہ مطلقہ شاہ بانو نے اپریل1978میں نان نفقہ کے حصول کے لئے اپنے شوہر کے خلاف عدالت میں درخواست دائر کی تھی۔اس کا شوہر محمد احمد خان اندور مدھیہ پردیش کا مشہور وکیل تھا۔دونوں کی شادی 1932میں ہوئی تھی اور ان کے پانچ بچے تھے۔شوہر نے پہلے تو اس سے اور بچوں سے علیحدگی اختیار کی اور پھر طلاق دے دی۔ شاہ بانو کا موقف تھا کہ اگر عورت اپنا خرچہ خود نہیں اٹھا سکتی تو شوہر کو طلاق کے بعد بھی اس کی کفالت کرنی چاہئیے۔اس کے شوہر کا کہنا تھا کہ مسلم پرسنل لا کے مطابق طلاق کے بعد شوہر صرف عدت کے دوران بیوی کا خرچہ اٹھانے کا پابند ہے۔آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ بھی اس معاملے میں شوہر کا ساتھ دے رہا تھا۔

بورڈ کا موقف تھا کہ مسلم پرسنل لا کے تحت آنے والے امور میں عدالت کو دخل دینے کا حق نہیں ہے۔بورڈ کا کہنا تھا کہ طلاق، کفالت اور دیگر عائلی امور سے متعلق عدالتوں کو شریعت کے مطابق فیصلے دینے ہوں گے۔کافی بحث و مباحثہ کے بعد 1985میں سپریم کورٹ نے ہائی کورٹ کے فیصلے کو نہ صرف برقرار رکھا بلکہ نان نفقہ کی رقم میں اضافہ بھی کر دیا۔لیکن 1986میں تحفظ برائے طلاق ایکٹ کے منظور ہونے سے بازی ایک بار پھر پلٹ گئی۔اور دوبارہ وہی موقف اختیار کیا گیا کہ شوہر صرف عدت کے دوران مطلقہ بیوی کی کفالت کرے گا۔نئے قانون میں کہا گیا تھا کہ اگر کوئی عورت خود اپنی کفالت نہیں کر سکتی تو مجسٹریٹ کے پاس یہ اختیار ہے کہ وہ اسے اور اس کے بچوں کو وقف بورڈ سے گزارا الاؤنس دلوا سکتا ہے۔شاہ بانو کے وکیل دانیال لطیفی نے اس ایکٹ کے آئینی جواز کو چیلنج کیا۔

عدالت عالیہ نے نئے قانون کو درست قرار دیتے ہوئے یہ بھی کہاکہ کفالت کو صرف عدت کے عرصے تک محدود نہیں کیا جا سکتا۔اس فیصلے کی جو بات اسے دوسرے مقدمات سے ممتاز کرتی ہے کہ اس میں عورت کے عزت اور مساوات کے ساتھ زندہ رہنے کے دعوے کو تسلیم کیا گیا۔مگر آخر میں ہوا یہ کہ شاہ بانو نے اپنی نان نفقہ کی درخواست واپس لے لی۔آپ سمجھ تو گئے ہوں گے کیوں؟بہرحال اس کیس کے تین عشروں بعد شاعرہ بانو کا کیس سامنے آیا ہے جس کے نتیجے میں اب ایک ساتھ یا ایک ہی سانس میں تین طلاقیں نہیں دی جا سکیں گی۔

سماجی اور عائلی زندگی میں خواتین کو تحفظ فراہم کرنے کے لئے ضروری ہے کہ طلاق کے نتیجے میں شادی کے بعد بنائے جانے والی جائیداد میں میاں بیوی دونوں کو برابر کا حصہ ملے اور شوہر کو مطلقہ بیوی اور بچوں کی کفالت کا پابند کیا جائے۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔