سپریم کورٹ نے نواز شریف کو فارغ کر دیا


سپریم کورٹ نے پاناما لیکس کے فیصلے سے متعلق سابق وزیر اعظم اور ان کے بچوں کی طرف سے دائر کی گئی نظرثانی کی درخواستوں کو مسترد کر دیا ہے۔
جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ نے پاناما لیکس کے فیصلے کے خلاف سابق وزیر اعظم میاں نواز اور ان کے بچوں کے علاوہ وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار کی طرف سے دائر کی گئی نطرثانی کی درخواستوں کی سماعت کی۔

جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ نے جمعہ کو سماعت کے دوران دلائل مکمل ہونے پر فیصلہ محفوظ کیا تھا۔
بینچ کے سربراہ نے کہا تھا کہ بینچ مشاورت کے بعد فیصلہ سنائے گی۔

فیصلہ سناتے ہوئے جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ نظرثانی کی درخواستیں مسترد کرنے کی وجوہات بعد میں بتائی جائیں گی۔
خیال رہے کہ پاناما لیکس کے فیصلے کے بعد پاکستان کے چیف جسٹس نے جسٹس اعجاز الاحسن کو محمد نواز شریف اور ان کے بچوں کے خلاف احتساب عدالتوں میں دائر کیے گئے ریفرنس میں ہونے والی پیش رفت سے متعلق نگراں جج بھی مقرر کر رکھا ہے۔
سپریم کورٹ نے پاناما لیکس کا فیصلہ آئین کے آرٹیکل 184 کے سب سیکشن 3 کے تحت ہی کیا تھا اس لیے اس میں کیے گئے فیصلوں کے خلاف اپیلیں دائر نہیں کی جاسکتیں تاہم اس فیصلے پر نظرثانی کے بارے میں درخواستیں دی جاسکتی ہیں۔

قانونی ماہرین کے مطابق آئین کے اس آرٹیکل کے تحت دیے گئے فیصلوں میں نظرثانی کی درخواستیں دائر کرنے والوں کو ریلیف ملنے کے امکانات بہت کم ہوتے ہیں۔
اس سے قبل پاناما لیکس کے مقدمے کے خلاف نظرثانی کی درخواستوں کی سماعت تین رکنی بینچ تشکیل دیا گیا تھا۔
مریم نواز کے وکیل سلمان اکرم راجہ نے دلائل دیتے ہوئے کہا تھا کہ لارجر بینچ کے فیصلے کے خلاف علیحدہ درخواست دائر کی گئی تھی۔ انھوں نے استدعا کی تھی کہ پانچ رکنی بینچ کے فیصلے کو بھی اسی درخواست کے ساتھ سنا جائے۔

اس کے بعد ⁠⁠⁠⁠⁠سپریم کورٹ نے پاناما لیکس کیس میں نا اہل قرار دیے جانے والے وزیراعظم نوازشریف اور ان کے بچوں کی عدالتی حکم کے خلاف نظرثانی کی درخواستیں یکجا کر کے پانچ رکنی بینچ تشکیل دیا تھا۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 474 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp