اللہ میگھ دے ….


sabookh syedسبوخ سید

مجلس صوت الاسلام کے ادارے یونائیٹ کے زیر اہتمام عالمی بین المذاہب ہم آہنگی کانفرنس کا انعقاد کیا گیا جس میں 32 ممالک سے تقریبا تمام بڑے مذاہب کے علما اور مبلغین نے شر کت کی۔ کانفرنس میں مسلمان ، مسیحی ، یہودی ، ہندو، سکھ ، بدھ اور دیگر مذاہب کے علاوہ مسلمانوں کے بھی تمام مکاتب فکر کے علما شریک تھے۔ اس کانفرنس کا انعقاد نومبر کے مہینے میں کنونشن سنٹر اسلام آباد میں کیا۔

برادر مفتی ابو ہریرہ محی الدین صاحب اور جناب مفتی ابوبکر محی الدین نے اس کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی تھی تاہم میں ، اس کانفرنس میں شریک نہیں ہو سکا ، اس کی دو بنیادی وجوہات تھیں۔ ایک انہی ایام میں اسلام آباد میں ہی پاکستان میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے قیام کے لیے ادارہ امن و تعلیم کے زیر اہتمام تین روزہ ورکشاپ ہو رہی تھی جس میں تعلیم ، مذہب ، صحافت اور غیر سرکاری تنظیموں سے تعلق رکھنے والے پانچ پانچ افراد کو دعوت دی گئی تھی۔ یہ پہلے سے طے شدہ شدہ پروگرام تھا جو کئی حوالوں سے انتہائی مفید ثابت ہوا۔ اس کی تفصیلات برادرڈاکٹر محمد حسین صاحب ” میرا مسلک حق ہے ” کے عنوان سے قسط وار لکھ رہے ہیں جو آئی بی سی اردو کے صفحات پر شائع ہو رہی ہیں۔

دوسرا مسئلہ میری سوچ کا تھا۔

دنیا نے پچھلی دو صدیوں میں شاید ہی کو ئی عشرہ دیکھا ہو جس میں کہیں نہ کہیں نفرتوں نے جنگ کی آگ اور شعلے نہ بھڑکائے ہوں۔ لاکھوں معصوم نوجوان شوق شہادت میں جہاد برد ہو گئے۔ آج ان کے گھروں میں ان کے بوڑھے والدین کانپ رہے ہیں لیکن کوئی سہارا دینے والا نہیں۔ ہم نے جو بچپن دیکھا ہے اس میں جہاد کے لیے فنڈنگ ہوتی تھی۔ عالمی قوتیں مجاہدین کی پیٹھ پر تھپکی دیتی تھیں اور عالمی میڈیا مجاہدین اور جہاد کی اصطلاحات کو خوب استعمال کرتا تھا۔

وقت بدلا اور ماحول نے ایک نئی انگڑائی لی۔ آگ نے اپنا رخ ان گھروں کی جانب کر لیا جہاں سے ایندھن فراہم ہوتا تھا۔ جنگ خارجی قوتوں کے بجائے داخلی انتشار میں بدلی اور گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے۔ یہ اندھا دھند جنگ تھی جس میں مارنے اور مرنے والوں کو کچھ نہیں پتا تھا۔ مسلح جنگجو نے ہر اس شخص کو اسلام اور دین کا دشمن قرار دیا جو اس کی رائے سے رتی بھر اختلاف کرنے جسارت کرتا تھا۔ امیر کا اعلان گونجتا تھا اور مجمع عام کو صرف ایک ہی کلمہ کہنے کی اجازت تھی کہ ” سمعنا و اطعنا ” اس ماحول نے گل و گلزار گلیوں کو خون کی نالیوں میں بدل ڈالا اور پھر وقت نے دیکھا کہ کیا اپنے اور کیا بیگانے ، سب اس آگ میں جلنے لگے۔

پالیسی بدلی تو عسکریت پسند مزاج نے نیا میدان نہ ملنے پر اس سنگ و خشت سے خود اپنے لیے ایک نیا جہاں آباد کیا۔ افغانستان اور کشمیر میں بیرونی قوتوں اور دراندازی کے خلاف لڑنے والوں کو پالیسی کی تبدیلی سے آگاہ کیا گیا لیکن ان کی سوچ کی تبدیلی کا عالیشان دماغوں کے پاس نہ تو کوئی متبادل تھا اور نا ہی کوئی راستہ۔ ایک نیا بیانیہ تشکیل پانے لگا جس میں فرقہ وارانہ تعصبات مزید الجھنے لگے اور دوسرے مذاہب کے ماننے والے ایک دوسرے کے لیے موت کا پیغام بننے لگے۔

اس فضا نے معاشرے میں ایک نئی سوچ کا تقاضا کیا کیونکہ مذہب کے نام پر تشکیل پانے والی جنگ گلی کوچوں میں ایسا ماحول برپا کر سکتی ہے جس کا اختتام دیکھنا ایک خواب سے کم نہیں۔ اس لیے ضرورت تھی معاشرے میں بین المذاہب نفرتوں کا خاتمہ کر کے بین المذاہب ہم آہنگی کا ماحول قائم کیا جائے۔

جب ہم بین المذاہب ہم آہنگی کی بات کر تے ہیں تو ہمارا ہر گز مقصد یہ نہیں ہوتا کہ کوئی شخص اپنا مذہب چھوڑ کر ہمارا مذہب قبول کر لے بلکہ در اصل ہم یہ کہنا چاہ رہے ہوتے ہیں کہ آپ کا مذہب آپ کی سوچ فہم کا نتیجہ ہے جبکہ ہم اپنی سوچ اور سمجھ کے مطابق اپنے مذہب پر عمل کر رہے ہیں۔ دنیا میں سارے انسان ایک جیسا نہیں سوچ سکتے تو ایک جیسا سمجھ بھی نہیں سکتے۔ یہ سوچ اور افکار کی رنگا رنگی بدصورتی نہیں بلکہ اس کائنات کا اصل حسن ہے جسے بنانے والے نے اپنی سکیم میں مرکزی نکتے کے طور پر رکھا ہے۔
تو ہم بات کر رہے تھے کہ مذہبی ہم آہنگی کیوں ضروری ہے کیونکہ جب تک آپ معاشرے کو کچھ بنیادی اصولوں پر ذہنی اور فکری بنیادوں پر ہم آہنگ نہیں کر یں گے تب تک معاشرہ ترقی نہیں کرے گا۔

تہذیبوں کی تاریخ کا مطالعہ کرنے سے ہمیں معلوم ہو تا ہے کہ ترقی فقط ان تہذیبوں اور معاشروں کے حصے میں آئی جہاں سوچنے ، سمجھنے اور بات کر نے کی مکمل آزادی تھی۔ جہاں مختلف خیالات رکھنے کی وجہ سے کسی وجود کو یر غمال نہیں بنایا جا سکتا تھا۔ جہاں انسانی ذہن کو خوف اور جبر کی فضا سے آزاد رکھنا زندگی کا پہلا کلمہ تسلیم کیا گیا تھا۔ ملوکیت کی لٹکتی تلوار کے جبر نے ہمارے معاشروں سے تخلیق کا حسن چھین لیا اور آج ہم جس معاشرے کا حصہ ہیں اس میں ہر اس چیز سے نفرت کا مقدس درس جاری ہے جو خوبصورت ہے۔

ایک بار پھر بات کہیں اور جا نکلی ، میں بات کر رہا تھا کہ مذہبی ہم آہنگی کا قیام ہی ہماری معاشرت کو استحکام دے سکتا ہے لیکن پاکستان میں بین المذاہب ہم آہنگی کے حوالے سے کوئی بھی سنجیدہ نہیں دکھائی دیتا۔ بین المذاہب ہم آہنگی کے بارے میں لچھے دار گفت گو ایک فیشن بن چکی ہے جسے اہل مذہب کی نئی اندسٹری سمجھا جاتا ہے۔ اس عنوان پر آج کل ملکی اور غیر ملکی ادارے بڑی فنڈنگ بھی کر رہے ہیں۔ پہلے جو قوتیں جہاد کے لیے فنڈنگ کرتی تھیں ،اب بین المذاہب ہم آہنگی کے لیے فنڈنگ کرتی ہیں۔ میں نے سوچا یونائیٹ کی دو روزہ عالمی بین المذاہب کانفرنس بھی اسی دھندے کا حصہ ہے ، اس وجہ سے بھی میں کانفرنس میں شریک نہیں ہو سکا….

تاہم ہمارے دوست اور پاکستان مدرسہ ایجوکیشن بورڈ کے چئیرمین ڈاکٹر عامر طاسین صاحب، نیو ٹی وی کے اینکرپرسن علی شیر صاحب ، روزنامہ اوصاف میں سینئر صحافی مفتی عمر فاروق صاحب ، صحافی قدوس سید اور مفتی جمیل صاحب نے کانفرنس کی تفصیلات سے آگاہ کیا . میں نے سوچا کہ رائے بنانے سے پہلے دیکھ لینا چاہیے اور معاشرتی ہم آہنگی کا یہ بھی اصول بنا کر پلے باندھ لینا چاہیے کہ ہمیشہ رائے سن کر ،سمجھ کر اور دیکھ کر ہی بنانی چاہیے ورنہ انسان تو پہلے ہی خسارے میں ہے۔

میں نے یونائیٹ کے فیس بک پیج پر اندرون اور بیرون ملک سے آئے تمام معزز مہمانوں کی گفت گو سنی ، سب نے دلسوزی کے ساتھ ایک ہی بات کہہ رہے تھے۔

ایک یہودی کہہ رہا تھا کہ اپنے معاشروں کو بچانے کے لیے بھر پور جدوجہد کی ضرورت ہے۔ مسیحی کہہ رہا تھا کہ “مذہب تو انسان کے اخلاق اور کردار کی تشکیل کر تا ہے “۔

مسلمان کہہ رہا تھا کہ ” مذہب انسان کو تعصبات سے نکال کر وحدت کی لڑی میں پرو دیتا ہے”۔

ایک بہائی کے منہ سے میں سنا کہ ” یہ ہمیں مذہب ہی تو سکھاتا ہے کہ تمام انسان برابر ہیں اور سب نے اپنی اچھائیوں اور برائیوں کا بدلہ اگلے جہان میں پانا ہے۔

ایک سکھ کہہ رہا تھا کہ ” یہ مذہب ہی تو سکھاتا ہے کہ مذہب نہیں سکھاتا ہے ا?پس میں بیر رکھنا “۔

میں سوچ رہا تھا کہ جناح کنونشن سنٹر اسلام آباد کا ایک بڑا ہال ہے جسے حکومت پاکستان نے بنایا ہے۔

اس کی چھت تلے ہندو ، سکھ ، یہودی ، مسیحی ، مسلمان ، بہائی ، شیعہ ، سنی ، دیوبندی ، بریلوی ، اہل حدیث سب اکٹھے ہوسکتے ہیں۔
اپنی اپنی عبادت اپنے اپنے مذہب کے مطابق اپنے اپنے اوقات میں کر سکتے ہیں۔
اکٹھے بیٹھ کر کھانا کھا سکتے ہیں۔

آپس میں گپ شپ لگا سکتے ہیں۔

ایک دوسرے کے فون نمبر شئیر کر کے مستقبل میں ایک دوسرے کے ساتھ رابطے رکھنے کا عہد کر سکتے ہیں تو اللہ کی بنائی ہوئی اس نیلے چھت کے نیچے سب کیوں اکٹھے نہیں رہ سکتے۔

مفتی ابوہریرہ محی الدین نے ایک چھوٹی چھت تلے بڑا کام کیا کہ دنیا بھر میں باہم اختلاف کرنے والوں کو دو دن کے لیے اکٹھا کر دیا۔
کاش ہمارے دل میں بھی کبھی ایسی خواہش پیدا ہو کر میدان عمل میں ، می رقصم می رقصم کرے کہ ہم سب نیلے آسمان تلے باہمی محبتوں کا ایک سائباں بنا سکیں۔

کاش

کاش…. کبھی میرے خیال میں جھلکتی رم جھم برستی بارشوں میں جسم بن کر رقص کرے….


Comments

FB Login Required - comments