پاناما کیس کی اپیل مسترد کرنے کا مختصر تحریری فیصلہ جاری


سپریم کورٹ نے پاناما فیصلے کے خلاف نظر ثانی درخواستوں پر مختصر فیصلہ سنا دیا، عدالت نے سابق وزیر اعظم نواز شریف، ان کے بچوں، کیپٹن صفدر اور اسحاق ڈار کی درخواستیں مسترد کرتے ہوئے 28 جولائی کے فیصلے کو برقرار رکھا ہے۔ جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں 5 رکنی لارجر بینچ نے پاناما فیصلے کے خلاف نظر ثانی درخواستوں پر سماعت کی۔

سابق وزیراعظم کے بچوں کے وکیل سلمان اکرم راجا نے دلائل دیتے ہوئے کہا میں خواجہ حارث کے دلائل کو اختیار کرتا ہوں، اپنے مزید دلائل بھی دونگا۔ سلمان اکرم راجا نے کہا عدالت نے لندن فلیٹس سے متعلق کیپٹن صفدر کے خلاف ریفرنس کا حکم دیا، مگر لندن فلیٹس سے کیپٹن صفدر کا کوئی تعلق نہیں اور نہ ہی جے آئی ٹی رپورٹ میں کیپٹن صفدر کا فلیٹ سے تعلق سامنے آیا ہے، انہوں نے بطور گواہ ٹرسٹ ڈیڈ پر دستخط کیے۔ جس پر جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا جے آئی ٹی کے مطابق مریم نواز آف شور کمپنی کی بینیفیشل مالک ہیں، مریم نواز نے پہلے لندن فلیٹس سے تعلق کا انکار کیا تھا، معاملے کی تحقیقات ہونی چاہیے۔ جسٹس اعجاز افضل نے کہا برٹش ورجن آئی لینڈ نے مریم نواز کو مالک قرار دیا، یہ کہنا مناسب نہیں کہ کیپٹن صفدر کا فلیٹس سے تعلق نہیں۔

سلمان اکرم راجا نے دلائل دیتے ہوئے کہا ریفرنس دائر ہونے سے کیپٹن صفدر کے بینادی حقوق متاثر ہوں گے۔ جس پر جسٹس عظمت سعید نے کہا ملزمان کے فیئر ٹرائل اور بنیادی حقوق پر سمجھوتا نہیں ہوگا، گزشتہ روز بھی کہا کہ ٹرائل کورٹ اپنی کارروائی میں آزاد ہے، ہماری کوئی آبزور ویشن ٹرائل کورٹ کے راستے میں نہیں آئے گی۔ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا جعلی دستاویزات کا الزام لگا مگر عدالت نے کوئی آبزرویشن نہیں دی۔ جسٹس عظمت سعید نے کہا ہمارا اعتبار کیوں نہیں کرتے، بار بار کہہ رہے ہیں کہ ہماری آبزرویشن سے ٹرائل متاثر نہیں ہوگا، آئین اور بنیادی حقوق کے تحفظ کا حلف اٹھا رکھا ہے، کیا وضاحت کے لیے ججز اپنا بیان حلفی آپکے پاس جمع کرا دیں، ٹرائل میں غیر شفافیت بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کی اجازت نہیں دیں گے۔ جسٹس عجاز افضل نے کہا ٹرائل کورٹ اپنا نتیجہ اخذ کرنے میں آزاد ہے، جسٹس عظمت سعید نے کہا آپ گواہان پر جرح کرنے میں بھی آزاد ہیں، آپ سے ہم محتاط ہیں، جو آپ مانگ رہے ہیں ہم اس سے بھی ایک قدم آگے کھڑے ہیں۔

سلمام اکرن راجا کے دلائل ختم ہونے کے بعد شیخ رشید کی درخواست پر سماعت شروع ہوئی، جس پر شیخ رشید نے اپنے دلائل دہتے ہوئے کہا کہ ایڈیشنل پراسیکیوٹر نیب نے 7 روز میں اپیل دائرکرنے کی یقین دہانی کرائی تھی اور پراسیکیوٹر نے عدالت میں بغیر کسی دباؤ کے جواب دیا تھا۔ جس پر جسٹس عظمت سعید نے کہا ادارہ یقین دہانی کرا دے تو حکم ہوجاتا ہے۔ شیخ رشید نے کہا نیب سے متعلق خبریں ہیں کہ اپیل دائر نہیں کرنا چاہتا، اگر یقین دہانی کروا کر کوئی مکر جائے تو ملک اللہ کے حوالے ہے، نیب، ایف آئی اے، ایس ای سی پی اور پیمرا میں اپنے درباریوں کو لایا جاتا ہے۔ شیخ رشید نے کہا یہ ادارے ٹھیک ہوجائیں تو ادھا ملک ٹھیک ہوجائے، 8 اداروں کے سربراہ اپنے درباری لگائے جاتے ہیں۔ عدالت نے پراسیکیوٹر نیب کو فوری طلب کر لیا۔

شیخ رشید نے اپنے دلائل میں مزید کہا ایسے ریفرنس دائر ہوں گے جو لولے اور لنگڑے ہوں گے، حدیبیہ کیس تمام کرپشن کیسز کی ماں ہے۔ جس پر عدالتی بینج نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا ایسے الزامات نہ لگائیں اپنے مقدمے پر فوکس کریں۔ ایڈیشنل پراسیکیوٹر نے کہا چیئرمین نیب نے اپیل دائر کرنے کی منظوری دے دی، جو مختصر وقت میں دائر ہوجائے گی۔ وقاص ڈار نے کہا اپیل ایک سے دو روز میں دائر ہوجائے گی۔ جس پر جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا ہم حکم میں آئندہ ہفتے اپیل دائر ہونے کا لکھ دیں، وقاص ڈار نے کہا یقین دلاتا ہوں کے آئندہ ہفتے اپیل دائر ہوجائے گی، چیئرمین نیب سے گزشتہ روز منظوری پر دستخطکیے، نیب کی یقین دہانی پر شیخ رشید کی درخواست نمٹا دی گئی۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔