سید عطاءاللہ شاہ بخاری سے علامہ خادم حسین رضوی تک۔ آخری کہانی سے ذرا پہلے


چلیے اب آپ کو آخری سے پہلے کی ایک اور کہانی سناتے ہیں۔ یہ کہانی کسی ایک دن سے شروع نہیں ہوتی۔ یہ کسی ایک تاریخ سے عبارت نہیں ہے۔ اس کہانی میں بہت سے نام ہیں۔ اس کہانی میں بہت سے موڑ ہیں۔ اب لڑائی غیر مذہب یا لادین سے نہیں ہے، اب تو دین کی تفہیم پر جھگڑا ہے۔ کل جن کے ساتھ کندھے جوڑے کھڑے تھے آج وہ سامنے صف بند ہیں۔ ادھر دستار والے قلب گرماتے ہیں تو ادھر جبہ پوش لہو کھولاتے ہیں۔ گستاخی کے پودے کی بیل اب فصیل جاں کے ہر کونے پر چڑھ چکی ہے۔ اب ہر لفظ قابل گرفت ہے، منبر سے پکڑا گیا ہو یا محفل سے اچکا گیا ہو۔ اس کہانی میں سے جس کردار کو چاہے چن لیجیے، سب کا ایک ہی اسکرپٹ ہے پر مکالمہ بولنے کا فن جیسا شیخ الحدیث علامہ خادم حسین رضوی کے پاس ہے وہ کسی کو ان کی ہمسری کے قابل نہیں چھوڑتا۔ ایک کے بعد ایک تقریر ہے۔ یو ٹیوب کھول لیجیے، فیس بک پر اشارہ کیجیے۔ حجام کی دکان پر کان دھر لیجیے، بسوں میں لگے ٹیلی ویژن سیٹ پر نظر کر لیجیے۔ ہر طرف علامہ صاحب کے الفاظ کا سفینہ رواں ہے۔

علامہ خادم حسین رضوی کہہ رہے ہیں ” او کون کہتا ہے کہ اسلام امن کا دین ہے۔ اسے کتاب الجہاد سناؤں اسے صلاح الدین ایوبی کا قول سناؤں کہ اسلام کی حفاظت صرف تلوار ہی سے ممکن ہے۔ اوئے۔ ۔ ۔ ، ۔ ۔ ۔ ، ۔ ۔ ۔ ، یہ امن امن کرنے والے۔ ۔ ۔ ، ۔ ۔ ۔ اور۔ ۔ ۔ ہیں۔ “

بات آگے بڑھتی ہے ” سنو، اقبال کہتا ہے کہ جب شیر بھیڑوں کی صحبت میں رہنے لگے تو وہ بھی گھاس کھانے لگتے ہیں۔ ایک بندہ گزرا کیا دیکھتا ہے کہ کچھ لوگ گھاس کھا رہے ہیں۔ پوچھا تم نے کب سے گھاس کھانی شروع کی تو کہنے لگے جب سے مولانا طارق جمیل سے ملاقات ہوئی ہے“

“ یہ جو بستروں والے ہیں، یہ دین سکھائیں گے ہمیں۔ جیسے ان کے مبلغ ہیں ویسی ان کی تبلیغ ہے۔ مجھے کسی نے کہا کہ طارق جمیل بڑی تقریر کرتا ہے۔ میں نے کہا کہ کیا تقریر کرتا ہے۔ وہ غاروں میں رویا، مزاروں میں رویا، یاروں میں رویا۔ اوئے۔ یہ کوئی تقریر ہے۔ اور اس کی جو تقریر ہے۔ وہ ہے میرے پاس۔ اگر میں آپ کو سنا دوں تو آپ مجھے بھی مار دیں۔ ایسی ایسی ۔ ۔ ۔ ۔ کرتا ہے۔ او جب ادب چلا گیا تو سب کچھ چلا گیا۔ اس ۔ ۔ ۔ ۔ کو دین سمجھ آ سکتا ہے“

“ او یہ جو طارق جمیل اینڈ کمپنی ہے۔ او یہ جو دین کے ساتھ ہو رہا ہے اس کی ہمیں کوئی فکر نہیں۔ اوئے ناموس رسالت کا پہرا کون دے گا“

“ ابھی یہ جو میرے جوان ہیں یہ غازی علم الدین ہین۔ یہ غازی ممتاز قادری ہیں۔ یہ ہر گستاخ کا منہ بند کر دیں گے۔ یہ ہر دریدہ دہن کی گردن اتار دیں گے۔ او یہ جو ۔ ۔ ۔ ۔ ہیں، ۔ ۔ ۔ ۔ ہیں۔ یہ ۔ ۔ ۔ ۔ کے بچے، یہ ۔ ۔ ۔ ۔ ، ان کو ہم چھوڑ دیں گے؟ او ہم ڈرنے والے نہیں ہیں۔ ہم تو ولیوں کے وارث ہیں۔ ہم تو پھانسی کا پھندہ چومنے والے ہیں“

چنیوٹ کے موضع عاصیاں کے اکرام اللہ ماچھی نے بھی یہی بصیرت افروز خطاب سنے ہیں۔ بچپن کی درسی کتب نے غازی علم الدین اور نوجوانی کے خطیبان شہر نے غازی ممتاز قادری کے روپ میں اس کو دو ہیرو عطا کیے ہیں۔ اس کی زندگی میں عشق رسول سے بڑھ کر کچھ نہیں ہے۔ غازی ممتاز قادری اور غازی علم الدین ہی کی طرح تعلیم سے اس کا کبھی کوئی گہرا رابطہ نہیں رہا۔ تحقیق اور علم کی دنیا نے اسے کبھی اپنی جانب نہیں کھینچا ہے۔ اسے مسئلوں کا حل ڈھونڈنا نہیں سکھایا گیا ہے، مسئلوں کا حل پوچھنا سکھایا گیا ہے۔ اور یہ بھی بتا دیا گیا ہے کہ یہ حل صرف اس کے مسلک کے حامل جبہ و دستار کے پاس ہے۔ باقی سب جھوٹ ہے۔

ادھر مخالف مسلک کے ولی الرحمان اور عبداللہ کراچی سے خدا کی راہ میں نکل پڑے ہیں۔ ان کا ایمان ہے کہ خدا کی بہترین خدمت اور مخلوق کی بہترین فلاح سہ روزہ، ہفت روزہ یا چالیس روزہ چلے میں چھپی ہے۔ وہ اپنے بستر اٹھاتے ہیں اور نکل پڑتے ہیں۔ اس دفعہ قرعہ چنیوٹ کے نام نکلا ہے۔ ساتھ نو دس اور بھی لوگ ہیں۔ تبلیغ ان کا نصب العین ہے، فضائل الاعمال ان کا توشہ سفر ہے اور مولانا عبدالوہاب اور مولانا طارق جمیل کے خطبات ان کا منشور۔

22 اگست 2017 کو تبلیغی جماعت کا قافلہ عاصیاں کے گاؤں برجیاں میں اترتا ہے۔ دروازوں پر دستک دی جاتی ہے۔ دعوت اور تجدید ایمان کے نسخے نذر ہوتے ہیں۔ انہی دروازوں میں سے ایک دروازہ اکرام اللہ ماچھی اور عمران اللہ ماچھی کا ہے۔ اکرام دروازہ کھولتا ہے۔ اس کے سامنے وہ جماعت کھڑی ہے جس پر اس کے مسلک کے خطیب گستاخی اور بے ادبی کا فتوی روز لگاتے ہیں۔ اکرام اللہ کے ماتھے کی شکنیں گہری ہو جاتی ہیں۔ اسے دعوت نہیں سننی۔ اس کی اپنی شکایتیں ہیں۔ وہ ولی الرحمان سے عقیدے کے سوال لے کر الجھ پڑتا ہے۔ بات گنجل پڑتے پڑتے بشریت اور نورانیت کی گرہ میں پھنس جاتی ہے۔ دونوں اختلاف پر اتفاق کرنے کو راضی نہیں کہ بڑوں نے یہی سکھایا ہے۔ اختلاف بڑھتا ہے تو لوگ بیچ میں آ جاتے ہیں۔ تبلیغی جماعت قریب کی اپنی مسلکی مسجد کا رخ کرتے ہے تو اکرام اللہ ماچھی غصے میں بھرا اپنی مسلکی مسجد کی راہ چل پڑتا ہے۔ خطیب مسجد مسئلوں کی کنجی لیے فرو کش ہیں۔

علامہ خادم حسین رضوی کے خطاب کا چراغ دونوں کے دلوں میں روشن ہے۔ اس روشنی میں کلید سے قفل کھلتا ہے تو آگے حجرہ گستاخی ہے۔ اکرام اللہ کے سامنے ناموس کی پہرے داری کا سوال ہے۔ فرض سے رو گردانی ممکن نہیں۔ غازی علم الدین اور غازی ممتاز قادری کے نورانی چہرے سوال پوچھ رہے ہیں۔ گھر پہنچتا ہے تو کدال کی صورت جواب سامنے صحن میں مل جاتا ہے۔ رات کے پچھلے پہر اکرام اللہ مسجد کی دیوار پھلانگتا ہے۔ تبلیغی جماعت محو خواب ہے اس لیے جواب گوش گذار کرنا ممکن نہیں ہے تو سر گذار کر دیا جاتا ہے۔ ستر سالہ ولی الرحمان وہیں دم دے دیتے ہیں۔ جوان سال عبداللہ کو دو دن بعد ہسپتال میں دم توڑنا ہے اور تیسرے بزرگ کا دم کوئی ہفتے کا مہمان ہے۔ اس سے پہلے کہ جواب سب کے سر کے بیچ ہو جاتا، باقی لوگ اٹھ بیٹھتے ہیں۔ اکرام اللہ ماچھی کو پکڑ کر ستون سے باندھ دیا جاتا ہے۔ پولیس آتی ہے۔ مقدمہ درج ہوتا ہے۔ اب کچھ دن کی بات ہے۔ عدالت میں کہانی کا اگلا باب لکھا جائے گا۔ پھانسی کا پھندہ اگلے بوسے کا منتظر ہے۔

مسئلہ یہ ہے کہ اس دفعہ موسم کے تیور کیا ہوں گے۔ کیا کوئی محمد اقبال اب بھی ماچھیوں کے لڑکے کے بازی لے جانے پر کچھ کہے گا۔ کیا اب بھی کسی ایم ڈی تاثیر کے گھر سے چارپائی آئے گی۔ کیا اب بھی کسی لیاقت باغ کی جنازگاہ میں سر ہی سر دکھائی دیں گے۔ وہ کیا ہے کہ مرنے والے بھی داڑھی رکھتے تھے اور مارنے والا بھی۔ وہ عشق کے پروانے تھے تو یہ ناموس کا رکھوالا۔ لبیک ان کے لبوں پر بھی تھا اور اس کے ہونٹوں پر بھی۔ منبر کی بات اور ہے پر سر بزم ان کے خطیب بھی اسی صوفے پر ملتے ہیں جس پر ان کے فقیہہ تشریف رکھتے ہیں۔ اب تقی عثمانی کیا پھر نیک نیتی کے عصا کے سہارے کار اکرمی کو جائز ٹھہرائیں گے۔ کیا جسٹس نذیر پھر سے توہین کے اسباب کا دفتر کھولیں گے۔ کیا طارق جمیل صاحب پھر سے چپ کا چلہ کھینچیں گے۔ اور سب سے محترم علامہ خادم حسین رضوی کیا رزم سیاست میں غازی ممتاز قادری کے مبینہ گناہ گار حکمرانوں کی حمایت سے فارغ ہو کر عدالت میں حاضر ہوں گے۔ کیا ٹرمپ اور مودی کو للکارنے والی آواز اکرام اللہ ماچھی کا آخری سہارا بنے گی۔ سوال بہت سے ہیں پر اس دفعہ بڑی گہری چپ ہے۔

یہ آخری کہانی نہیں ہے۔ جب تک جذبہ سلامت ہے، جب تک جستجو عنقا ہے، جب تک فقیہان حرم سریر آرائے بزم ہیں، جب تک عشق کی عدالت سر بازار لگی ہے، جب تک سیاست کی تفہیم خطیبان منبر کی آغوش میں ہے اور جب تک پاسبان عقل اور دل کا فراق مستقل ہے، یہ کہانیاں لکھی جاتی رہیں گی۔ آخری کہانی وہ ہو گی جو لکھی نہیں جائے گی۔ لکھنے کے لیے کوئی بچے گا جو نہیں۔
(آخری کہانی کی طرف سفر جاری ہے۔ چلے چلو کہ منزل ابھی نہیں آئی)۔

پہلی کہانی: سید عطاءاللہ شاہ بخاری سے علامہ خادم حسین رضوی تک۔ پہلی کہانی

دوسری کہانی: سید عطاءاللہ شاہ بخاری سے علامہ خادم حسین رضوی تک۔ دوسری کہانی

تیسری کہانی: سید عطاءاللہ شاہ بخاری سے علامہ خادم حسین رضوی تک۔ آخری کہانی سے ذرا پہلے

image_pdfimage_print

Comments - User is solely responsible for his/her words

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

حاشر ابن ارشاد

حاشر ابن ارشاد کو سوچنے کا مرض ہے۔ تاہم عمل سے پرہیز برتتے ہیں۔ کتاب، موسیقی، فلم اور بحث کے شوقین ہیں اور اس میں کسی خاص معیار کا لحاظ نہیں رکھتے۔ ان کا من پسند مشغلہ اس بات کی کھوج کرنا ہے کہ زندگی ان سے اور زندگی سے وہ آخر چاہتے کیا ہیں۔ تادم تحریر کھوج جاری ہے۔

hashir-irshad has 117 posts and counting.See all posts by hashir-irshad