ماہرِ نفسیات کی ڈائری۔ مسلسل ناکامیوں کا حل کیا؟


میری ایک دیرینہ دوست سے برسوں بعد اتفاقاٌ ٹورانٹو کی ایک محفل میں ملاقات ہو گئی۔ پہلے تو میں نے انہیں پہچانا ہی نہیں۔ نہ چہرے پر مسکراہٹ نہ آنکھوں میں چمک، چاروں طرف اداسی ہی اداسی۔ جو محفل کی جان ہوا کرتے تھے دکھی دکھائی دے رہے تھے۔ چند لمحوں کے بعد کہنے لگے ’’ ڈاکٹر سہیل! میں آپ سے تفصیلی ملاقات کرنا چاہتا ہوں، میں نے کہا ’’کسی شام تشریف لے آئیں جی بھر کر باتیں کریں گے‘‘ ۔ میں نے انہیں اپنا فون نمبر اور ای میل ایڈریس دے دیا۔

دو ہفتوں کے بعد ان کا فون آیا اور پھر ہم دونوں ڈنر پر ملے۔ اپنی درد بھری کہانی سناتے ہوئے مجھے بتایا کہ کس طرح انہوں نے اپنی خاندانی مشکلات سے پریشان ہو کر پشاور سے ٹورانٹو ہجرت کی۔ ان کا خواب تھا کہ وہ کینیڈا میں اپنی زندگی کا نیا باب شروع کریں گے اور ایک پرسکون اور خوشحال زندگی گزاریں گے۔ بدقسمتی سے ان کا سہانا خواب ڈراؤنا خواب بن گیا۔ ان کی ڈاکٹری کی ڈگری کینیڈا میں قبول نہ کی گئی۔ کچھ عرصہ پریشان رہنے کے بعد وہ دوبارہ یونیورسٹی گئے اور فارمسسٹ بن گئے۔ پھر ان کی چند ڈاکٹروں سے ملاقات ہوئی جنہوں نے انہیں ایک کاروبار میں شریک ہونے کی دعوت دی۔ میرے دوست نے اپنی ساری جمع پونجی بھی اور دوستوں سے قرض لے کر بھاری رقم بھی اس کاروبار میں لگا دی۔ ان ڈاکٹروں نے بہت سے پولی کلینک تو بنا لیے لیکن میرے دوست کو جلد ہی اندازہ ہو گیا کہ ان کے ساتھ دھوکہ ہو گیا ہے۔ اس دھوکے کی وجہ سے وہ قرضوں کے بوجھ تلے دبتے چلے گئے۔ کہانی سنانے کے آخر میں ان کی آنکھوں میں آنسو آ گئے اور کہنے لگے ’’ڈاکٹر سہیل! میرے اندر کرواہٹ بھر گئی ہے۔ میں EMOTIONAL BANKRUPTSY کا شکار ہو گیا ہوں۔ میں جتنا قرضہ کم کرنے کی کوشش کرتا ہوں وہ اتنا ہی بڑھتا چلا جاتا ہے۔ آپ ایک ماہرِ نفسیات ہیں آپ کی میرے مسئلے کے بارے میں کیا رائے ہے، کیا تشخیص ہے، کیا علاج ہے؟ ‘‘

میں نے کہا ’’آپ میرے دیرینہ دوست ہیں مریض نہیں۔ مجھے آپ کی کہانی سن کر بہت دکھ ہوا ہے۔ آپ نے جس کڑواہٹ کا ذکر کیا ہے وہ آپ کی اپنی نہیں ماحول کی کرواہٹ ہے جو آپ نے جذب کر لی ہے۔ آپ ایک نیک انسان ہیں لیکن قدرے سادہ لوح ہیں۔ آپ نے ان لوگوں پر اعتبار کیا جو قابلِ اعتبار انسان نہیں ہیں۔ وہ بے ضمیر انسان ہیں۔ انہوں نے آپ کو پھنسایا اور آپ کا نقصان کروایا۔ آپ مجھے ایک IDEALIST دکھائی دیتے ہیں جو سب کو اپنے جیسا سمجھتا ہے۔ انسانی نفسیات ہمیں سکھاتی ہے کہ انسانوں کی شخصیت کا ایک تاریک رخ بھی ہوتا ہے جس سے ہمیں محتاط رہنا چاہیے۔ آپ سب پر آنکھیں بند کر کے اعتبار کر لیتے ہیں۔‘‘

کہنے لگے’’ میری بیوی بھی یہی کہتی ہیں کہ میں نے نجانے کتنوں پر اعتبار کیا اور کتنوں نے مجھے دھوکہ دیا۔ آپ کا کیا مشورہ ہے اب مجھے کیا کرنا چاہیے؟‘‘
میں نے کہا’’ یہ تو آپ کو خود فیصلہ کرنا ہوگا۔ میں صرف یہ کہہ سکتا ہوں کہ چونکہ آپ سونا ہیں اس لیے آپ کو سناروں کے ساتھ رہنا چاہیے۔ آپ نجانے کیوں لوہاروں میں پھنس گئے ہیں۔ لوہاروں کو سونے کی قدر نہیں ہوتی‘‘

’’لیکن ڈاکٹر سہیل میں کافی عرصے سے اس دلدل میں پھنس چکا ہوں۔ میں نے بہت کوشش کی لیکن کامیاب نہیں ہوا۔ میں حالات کو جتنا بہتر بنانے کی کوشش کرتا ہوں وہ اتنے ہی بدتر ہوتے چلے جاتے ہیں۔ میں نے ڈاکٹروں سے بہت سی میٹنگز کی ہیں لیکن ان کا کوئی فائدہ نہیں ہوا۔‘‘

میں نے اپنے دوست سے کہا کہ میں آپ کو ایک کہانی سناتا ہوں جو بچپن میں میرے والد نے مجھے سنائی تھی۔ وہ دانائی کی کہانی ہے۔

ایک بچہ اپنی والدہ سے ایک روپیہ لے کر گلی میں تیزی سے بھاگا تا کہ چاکلیٹ خریدے لیکن اسے ٹھوکر لگی اور اس کا روپیہ کیچڑ میں گر گیا۔ وہ رونے لگا۔ اس کے دوست جمع ہو گئے اور پوچھنے لگے کہ تم رو کیوں رہے ہو۔ وہ کہنے لگا میرا روپیہ کیچڑ میں گر گیا ہے۔ وہ سب اپنے اپنے گھروں سے پانی کی بالٹیاں لے کر آئے اور روپے پر انڈیلنے لگے۔ جب تک وہ پانی بہاتے وہ روپیہ صاف نظر آتا اور پھر کیچڑ میں لت پت ہو جاتا۔ جب اس بچے کے والد نے رونے کی آواز سنی تو وہ باہر آئے۔ جب بیٹے نے کیچڑ میں لت پت روپیہ اپنے والد کو دکھایا تو وہ کہنے لگے ’’بیٹا ایک پانی کا گلاس لے کر آؤ۔ ، جب وہ بچہ پانی کا گلاس لا رہا تھا تو سوچ رہا تھا کہ جب اتنی بالٹیوں نے مسئلہ حل نہیں کیا تو ایک گلاس کیسے حل کرے گا۔ جب بچہ پانی کا گلاس لے کر آیا تو بچے کے والد نیچے جھکے اور انہوں نے اپنے انگوٹھے اور انگشتِ شہادت سے کیچڑ میں سے روپیہ نکالا، پانی کے گلاس سے دھویا اور اپنے بیٹے کو واپس کر دیا تا کہ وہ بازار جا کر چاکلیٹ خرید سکے۔
روپیہ لینے کے بعد بچے کے چہرے پر دوبارہ مسکراہٹ پھیل گئیْ۔

میں نے اپنے دوست سے کہا کہ جب ہم اپنے ماحول کے کیچڑ میں پھنس جائیں تو اس سے نبٹنے کے دو طریقے ہیں۔ عام انسانوں کا طریقہ اور عظیم انسانوں کا طریقہ۔ میں نے کہا آپ ایک عام انسان ہیں اس لیے آپ اس کیچڑ سے باہر نکل جائیں جیسے بچے کے والد نے اس روپیے کو کیچڑ سے باہر نکالا تھا۔
’’اور عظیم انسانوں کا کیا طریقہ ہے؟‘‘ میرا دوست متجسس تھا۔

’’وہ عبدالستار ایدھی اور مدر ٹریسا کی طرح ایک کنول کا پھول بن جاتے ہیں اور کیچڑ میں رہ کر بھی اس سے اوپر اٹھ جاتے ہیں۔ پھر کیچڑ ان کے دامن کو گندا نہیں کرتی۔ لیکن یہ عام انسانوں کے بس کی بات نہیں۔ وہ کیچڑ میں لت پت ہو جاتے ہیں۔ وہ جتنا مسئلے کو حل کرنے کی کوشش کرتے ہیں وہ اتنا ہی اندر دھنستے چلے جاتے ہیں‘‘ ۔

میری بات سن کر میرے دوست کی آنکھوں میں چمک پیدا ہوئی۔ کہنے لگے
’’میں نے اسی دم فیصلہ کر لیا ہے کہ میں FINANCIAL BANKRUPTSY DECLARE کر دوں، ان ڈاکٹروں کو خدا حافظ کہوں، اپنی ایک علیحدہ فارمیسی بناؤں اور اپنی زندگی کا نیا باب شروع کروں‘‘۔
’’یہ تو آپ کا ذاتی فیصلہ ہے، میں نے کہا ’’ جس میں آپ کا وکیل یا اکاؤنٹنٹ آپ کی مدد کر سکتا ہے۔ میں تو آپ کا دوست ہوں اس لیے صرف دوستانہ مشورہ دے سکتا ہوں‘‘۔
جب میرے دوست رخصت ہو رہے تھے تو ان کے چہرے پر ویسی ہی مسکراہٹ تھی جیسے اس بچے کے چہرے پر تھی جسے اس کا روپیہ مل گیا تھا۔

 


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔