لاہور کے ضمنی انتخاب کا ایک پوسٹر


اگر کوئی تصویر یا تصویری ڈیزائن ایک کالم کا عنوان بن سکتا تو آج کے کالم کے لئے میرے پاس ایک پوسٹر موجود ہے۔ اس پر میری نظر این اے 120کے حلقے میں لاہور میں پڑی۔ میں تو کراچی کا گرفتار ہوں لیکن اتوار اور پیر کی درمیانی رات لاہور میں گزری جہاں میں ایک میٹنگ میں شرکت کے لئے گیا تھا۔ اتوار کی شام کافی دیر تک اس علاقے میں تنہا ٹہلتا رہا کہ جس کے شہری کل ایک دھماکہ خیز ضمنی الیکشن میں پاکستان کی موجودہ سیاست میں ایک نیا باب رقم کریں گے۔ ایک طرح سے یہ اس جنگ کا ایک محاذ ہے جو ان قوتوں کے درمیان لڑی جا رہی ہے جو جانی پہچانی بھی ہیں اور انجانی بھی۔ اور میدان کارزار ایک ایسی دھند میں لپٹا ہے کہ ٹھیک سے دکھائی نہیں دیتا کہ کون کدھر سے لڑ رہا ہے۔ ہاں، این اے 120 کے اکھاڑے میں چہرے پہچانے جا سکتے ہیں۔ اس الیکشن کی اہمیت سے تو انکار نہیں کیا جا سکتا لیکن اعلیٰ عدالتوں کے فیصلے بھی حالات کا رخ متعین کرنے کی ایک خصوصی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ویسے تو یہ ضمنی الیکشن خود سپریم کورٹ کے ایک تاریخ ساز فیصلے کا نتیجہ ہے۔ گویا عدالت کی رائے اور عوام کی رائے کے درمیان ایک ٹکرائو کی سی کیفیت ہے۔ اور اگر اس ٹکرانے سے ایک بحران پیدا ہو سکتا ہے تو پوری صورتحال یوں بھی ایک بھونچال کی شکل اختیار کرچکی ہے۔ یعنی عوام اور عدلیہ اور سیاسی رہنمائوں کے علاوہ ریاست کو بھی قومی سلامتی کے بارے میں کئی اہم فیصلے کرنا ہیں۔ وہ گھسے پٹے جملے کہ پاکستان ایک دوراہے پرکھڑا ہے یا ایک نازک صورتحال سے دوچار ہے اب ایک متبادل اظہار کے مستحق ہیں، یہ بات کس طرح کہی جائے کہ یہ راستہ کوئی اور ہے۔ امریکہ کے صدر نے ایک بات کہی، ’برکس‘ کے بیان میں

اسے ایک دوسرے انداز میں دہرایا گیا اور اب ہم اپنی خارجہ پالیسی کو ایک نیارخ دینے کی تیاری کر رہے ہیں۔  اس سارے پس منظر میں میری تشویش یہ ہے کہ ہم پاکستانی معاشرے کی ہیبت ناک بدحالی کی طرف توجہ ہی نہیں دیتے۔

اس معذرت کے ساتھ کہ میں اپنے موضوع سے ہٹ رہا ہوں، میں کراچی کے ایک ایسے واقعہ کا ذکر کرنا چاہتا ہوں جو ایک دوسرے محاذ پر ہماری شرمناک پسپائی کی علامت ہے۔ خبر آپ نے شاید پڑھی یا سنی ہو۔ غیرت کے نام پر جو قتل آئے دن ہوتے رہتے ہیں ان میں ایک نئی اور کسی حد تک مختلف داستان کا اضافہ ہوا ہے۔ ایک 15سالہ لڑکی اور 17سالہ لڑکے کو ان کے اپنے خاندان نے بجلی کا کرنٹ لگا کر اور تشدد کے ذریعے ہلاک کر دیا ان کا جرم آپ سمجھ گئے۔ وہ ایک دوسرے سے محبت کرتے تھے اور گھر سے بھاگ کر شادی کرنا چاہتے تھے ۔ اب شرم اور حیرت کی بات یہ ہے کہ ان کے قتل کا حکم کراچی کے ایک علاقے میں ایک جرگہ نے دیا کہ جس کا تعلق ایک قبائلی فرقے سے ہے۔ ابھی جس مردم شماری کے ابتدائی نتائج کا اعلان ہوا ہے اس پر شہری اور دیہی آبادی کے فرق کے بارے میں کافی گفتگو ہو رہی ہے۔ لیکن کراچی تو واقعی ایک ایسا شہر ہے جس کی زندگی جدید دنیا میں سوچ کی حد تک کافی مطابقت رکھتی ہے۔ سمجھا یہ جاتا ہےکہ دیہات سے کراچی کا فاصلہ اس سے زیادہ ہے جتنا لاہور یا اسلام آباد کا۔اب یہ دیکھئے کہ اس کراچی کے چند محلوں میں قبائلی جرگوں کی حکمرانی ہے۔

اسی بارے میں: ۔  کینیڈا میں شاہراہ بہشت

 

اب جو یہ قتل کی کہانی ہے تو اس کی تصدیق بدھ کے دن دونوں نوجوانوں کی قبر کشائی سے ہوئی ۔ دیہی علاقوں سے شہروں کی جانب سفر کو ترقی کا نام بھی دیا جاتا ہے۔ لیکن یہاں تو شہروں کا فرسودہ اور وحشیانہ خیالات کے ضمن میں، دیہات کی طرف واپسی کا ایک اشارہ ہے۔ اور یہی نہیں، کئی سرخیاں ہر روز پاکستانی معاشرے کی ایک بھیانک تصویر بناتی دکھائی دیتی ہیں۔ اس تصویر کو ہم اس لئے نہیں دیکھتے کہ سیاست ہمارے اعصاب پر سوار ہے۔ سیاست بھی اور اس ہفتے کی حد تک کرکٹ بھی۔ لاہور میں، پیر کے دن ہی میں نے شہر کی زندگی میں کرکٹ کی مداخلت کا اندازہ کر لیا تھا۔ سیکورٹی تو واقعی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ کیونکہ لاہور کا ضمنی الیکشن ایک قومی الیکشن کی سی حیثیت اختیار کر چکا ہے اس لئے اس موقع پر لاہور میں کرکٹ کے میلے کے انعقاد کے بارے میں کئی سوال پیدا ہو سکتے ہیں۔یا شاید اس سے سیاسی کشمکش کے بخار کو ذرا کم کرنےکی ضرورت پوری ہوتی ہو، پھر بھی کرکٹ تو عمران خان کا کھیل ہے۔ اور دیکھنا یہ ہے کہ کل ایمپائر کی انگلی کس کے لئے اٹھتی ہے۔

ارے۔ ان تمام باتوں میں وہ پوسٹر تو رہ ہی گیا جسے میں نے اس کالم کا عنوان بنانے کے بارے میں سوچا تھا۔ توجی ہاں، اب مجھے اس پوسٹر کی رونمائی کرنا ہے۔ اور وضاحت میں پہلے کر دوں کہ اس پوسٹر کا کوئی تعلق نواز شریف یا عمران خان کی پارٹی سے نہیں ہے۔ مقابلہ تو انہیں دو جماعتوں کے درمیان ہے۔ اور ایک اندازہ ہے کہ یہ مقابلہ سخت بھی نہیں ہے۔ بس دیکھنا یہ ہے کہ دونوں امیدواروں کے درمیان کتنے ووٹوں کا فاصلہ رہے گا۔ یوں تو پیپلز پارٹی بھی زور وشور سے لاہور کے اکھاڑے میں اتری ہے لیکن سیاسی منظر نامہ حالیہ برسوں میں بہت تبدیل ہوا ہے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ اس حلقے میں امیدواروں کی ایک بھیڑ جمع ہے۔ ان کے بینر اور پوسٹر کئی چوراہوں کی شکل بگاڑ چکے ہیں۔ یہ سب اپنی مہم پر اتنی دولت کیوں لٹا رہے ہیں اس کی بھی کوئی وجہ ہو گی جو زیادہ سمجھ میں نہیں آتی ۔ شاید صرف اپنی مشہوری کا معاملہ ہے جو ایک نابالغ سیاست میں سب کو ملتا رہتا ہے۔ ٹیلی وژن کا ٹاک شو تو ہے نا۔ لیکن میں جس جماعت کے پوسٹر کی بات کر رہا ہوں اس کی ایک الگ حیثیت اور معنویت ہے۔ تو لیجئے میں پردہ اٹھاتا ہوں۔
اس پوسٹر پر حافظ سعید اور قائد اعظم کے چہرے ساتھ ساتھ ہیں۔ ظاہر ہے کہ ’’ملی مسلم لیگ‘‘ کے حمایت یافتہ امیدوار کی تصویر بھی ہے جو زیادہ نمایاں ہے۔ میں نے جب یہ پوسٹر پہلی بار دیکھا تو سوچ میں پڑ گیا۔ ایک لحاظ سے یہ پاکستان کے سیاسی سفر کی ایک تمثیل ہے۔ قائداعظم کے وژن کی تو ہم سب بات کرتے ہیں اور ان کی خالص سیکولر زندگی ہماری نظر میں رہتی ہے ۔ دوسری حافظ سعید اور ان کے نظریات اور ان کی جماعت اور ان کی حمایت کرنے والے یہ سب بھی ایک حقیقت ہیں۔ اب پاکستان جس مشکل میں ہے اس کاحقیقت پسندانہ تجزیہ بھی لازمی ہے۔میں نے اپنے انگریزی کے کالم میں گزشتہ ہفتے یہ لکھا تھا کہ اسٹیبلشمنٹ کے پاس ان افراد کی فہرست تو ضرور ہوگی جو ان کی شدید مخالفت کرتے ہیں۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ان مخالفین کو ایوان اقتدار میں مدعو کر کے ان کی بات سکون سے سنی جائے کیونکہ ہو تو وہی رہا ہے جس کی ان ناقدین نے پیش بینی کی تھی۔

اسی بارے میں: ۔  یہ سامان مشال خان کا نہیں ہے

Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔