جہالت کا جن اور لیلا وتی


پارٹیشن سے پہلے سندھ میں شہر کی تعریف یہ تھی کہ اتنے خیراتی شفاخانے اور تعلیمی ادارے ہوں کہ کسی کو مایوس نہ لوٹنا پڑے۔ اس کام کے لیے سرکار کا انتظار نہ کیا جائے بلکہ جس کے پاس بھی دردِ دل اور پیسہ ہے آگے بڑھے تاکہ دوسرے بھی اس کی مدد سے آگے بڑھ سکیں۔

اس تعریف پر تین چار شہر ہی پورے اترتے تھے۔ شکار پور جہاں رائے بہادر اودھے داس تارہ چند اسپتال سب کے لیے تھا۔عاجزی کی حد یہ تھی کہ رائے بہادر نے اپنا نام اسپتال کی سیڑھی پر کچھ یوں کندہ کروایا کہ اس پر قدم رکھے بغیر اسپتال میں داخل ہونا محال تھا۔عورتوں کے لیے ہیرانند گنگا بائی لیڈیز اسپتال الگ سے تھا۔سندھ میں لڑکیوں کے لیے پہلا ایشوریا گرلز ہائی اسکول، قاضی ملاح  (نادر وارا) بوائز اسکول اور پہلا کالج چیلا سنگھ سیتل داس کے نام سے شکار پور میں قائم ہوا۔

ساٹھ فیصد شکارپوری مسلمانوں اور چالیس فیصد ہندوؤں کے لیے یہ سب فلاحی ادارے بھائی بند تاجر ہندوؤں نے اس دور میں قائم کیے جب کارپوریٹ سوشل ریسپانسبلٹی کی اصطلاح ایجاد بھی نہیں ہوئی تھی۔

یہی حال کراچی کا تھا جہاں ہندو اور پارسی مخیروں نے تعلیمی ادارے اور اسپتال اسی جذبے سے قائم کیے۔ حیدرآباد میں یہی کام عامل ہندو کمیونٹی نے کیا۔اگر چہ سندھ میں مسلمان اکثریت میں تھے مگر فلاحی کاموں میں غیر مسلم آگے تھے۔موٹی وجوہات یہ تھیں کہ زیادہ تر مسلم آبادی دیہی اور غیر مسلم آبادی شہری تھی۔تجارت اور شہری ملازمتوں کے اعتبار سے پیسہ اور زیادہ شرحِ خواندگی کے سبب مسائل اور ان کے حل پر ان کی توجہ زیادہ تھی۔فضول خرچی اور دکھاوے سے بچتے ہوئے کمیونٹی کے بڑے اپنے بچوں کی تربیت بھی اجتماعی بہتری کی سوچ کے ساتھ کرتے تھے لہذا مستقبل اور ترقی کے تناظر میں ان کی سوچ اور نگاہ زیادہ عمیق تھی۔

جہاں تک مسلمانوں کا معاملہ ہے تو بعض اوقات کسی قوم کے لیے عددی اکثریت سے حاصل ہونے والا احساسِ تحفظ بھی اپنے یا دوسروں کے بارے میں کچھ بڑا سوچنے کی رفتار سست کر دیتا ہے اور اگر سیاسی طاقت بھی اپنے پاس ہونے کا احساس ہو تو حساسیت اور کم ہو جاتی ہے۔ کچھ کسر وہ ملا حضرات بھی پوری کرتے رہے جو سیاق و سباق کو سمجھے بغیر ان پڑھ مسلمانوں کو بتاتے رہے کہ تعلیم بس اتنی کافی ہے کہ قرآن پاک پڑھا جا سکے اور دنیا تو محض  عارضی پڑاؤ ہے اصل سرمایہ کاری تو آخرت کے لیے ہے۔ تعلیم، بالخصوص عورتوں کی تعلیم کے بارے میں یہ نظریہ راسخ تھا کہ اسکول بھیجو گے تو لڑکیوں میں اخلاقی خرابیاں پیدا ہوں گی مگر وہ شائد یہ بتانا بھول گئے کہ اسلام میں  انسانیت کی فلاح، صحت و صفائی، کم حیثیت اور مستحقین کی فکر پر کس قدر زور دیا گیا ہے کیونکہ دنیا سنوارے بغیر عاقبت نہیں سدھر سکتی۔

 

لہذا جن چند مسلمانوں کی سمجھ میں فلاحِ انسانیت کے پیغام کے معنی اور اہمیت اجاگر ہوئی انھوں نے اس کا ثبوت بھی دیا۔مثلاً ٹنڈو باگو میں میر غلام محمد تالپور کا گرلز اسکول، میٹرنٹی ہوم اور دائی ٹریننگ سینٹر، حیدرآباد میں نور محمد ہائی اسکول، خان بہادر محمد صدیق میمن کا مدرستہ البنات ہائی اسکول، سردار بہادر محمد بخش شیخ کوجھی کا حمائتِ اسلام گرلز اسکول، ویمن ہیلتھ سینٹر، میٹرنٹی ہوم اور کراچی میں حسن علی آفندی کا سندھ مدرستہ السلام وغیرہ۔

 

قبل از تقسیم سندھ اور برِصغیر کے دیگر علاقوں کی مجموعی سماجی تصویر یہ تھی کہ غیر مسلم شہری برادریوں میں لڑکے اور لڑکی کی تعلیم پر یکساں زور تھا اور مسلم برادریوں میں پرانی جاگیردارانہ و کہنہ سماجی اقدار کی مضبوطی کے سبب لڑکیوں کی تعلیم پر توجہ خاصی کم تھی۔لڑکیوں کو اعلی تعلیم دلانے کا تو عمومی سطح پر کوئی تصور ہی نہیں تھا۔

 

اس تناظر میں دادی لیلاوتی واسوانی سندھ کا آخری تہذیبی کردار ہیں جو چار روز پہلے ایک سو دو برس کی عمر میں رخصت ہوگئیں۔لیلاوتی نے بیس دسمبر انیس سو سولہ کو حیدرآباد کے ایک آسودہ حال عامل گھرانے میں دیوان ہوت چند تیرتھ داس وادھوانی کے ہاں جنم لیا۔کندن مل گرلز ہائی اسکول سے میٹرک کیا۔رواج کے مطابق بھجن گائیکی کی تعلیم چار سال کی عمر سے ہی استاد جوشی سے حاصل کی۔ان دنوں لڑکیوں کے لیے سرکاری ہائی اسکول کی سہولت میرپور خاص، حیدرآباد اور کراچی میں اور میٹرک سے اوپر کی پڑھائی و امتحانات کی سہولت صرف کراچی میں میسر تھی۔

 

انیس سو چالیس میں جس سلیکشن بورڈ نے لیلا وتی کو ٹریننگ اسکول فار ویمن کے لیے بطور میوزک ٹیچر منتخب کیا، اس  میں وزیرِ تعلیم جی ایم سید اور اسپیکر سندھ اسمبلی میراں محمد شاہ بھی شامل تھے۔زندگی درست ڈھرے پر چل رہی تھی کہ سات برس بعد تقسیم کا شور اٹھا اور آرپار نقل مکانی شروع ہوگئی۔لیلا وتی کے دونوں بھائی بھارت منتقل ہو گئے مگر لیلا وتی نے انکار کردیا۔ان کے گرو سادھو  ٹی ایل واسوانی سمجھتے تھے کہ نئے ملک کو ہماری ضرورت ہے۔ انھیں محمد علی جناح کی قیادت پر مکمل یقین تھا۔ جناح صاحب کا انتقال ہوا تو گروجی نے سوگ میں برت رکھا اور گیتا کی تلاوت کرتے رہے۔ کچھ ہی عرصے میں حالات اتنے تنگ ہوگئے کہ خود گرو کو بھی کوچ کرنا پڑا مگر وہ لیلا کو نصیحت کر گئے کہ تم پوری کوشش کرنا کہ مٹی سے جڑی رہو اور دھرتی کی خدمت کرتی رہو۔

 

لیلا وتی نے انیس سو باون میں کراچی کے این جے وی اسکول سے بیچلر آف ٹیچنگ (بی ٹی) کی ڈگری حاصل کی۔دورانِ تعلیم ریڈیو پاکستان میں کچھ عرصے گلوکاری بھی کرتی رہیں۔انیس سو چون میں سول سرجن ڈاکٹر ڈاکٹر تلسی داس ہرچندانی سے شادی ہوئی۔ ایک ہی بیٹا پردیپ کمار ہے۔

 

مگر جس لیلاوتی کو باقی سندھ ’’دادی لیلاں‘‘ کے نام سے جانتا ہے۔اس کا آدرشی سفر میرپور خاص سے شروع ہوا جب وہ گرلز ہائی اسکول کی ہیڈ مسٹریس مقرر ہوئیں۔انھوں نے دیکھا کہ اسکول میں زیادہ تر ہندو لڑکیاں ہیں۔میر پور خاص اور تھرپارکر میں گاؤں گاؤں سفر کر کے مسلمان خاندانوں کو قائل کرنے کی کوشش کی کہ اپنی بیٹیوں کو اعلی تعلیم دلوائیں۔بقول لیلاوتی ان گھرانوں کو سب سے بڑا خوف جس پر میں ہنسا کرتی تھی یہ تھا کہ اگر ان لڑکیوں نے لکھنا پڑھنا سیکھ لیا تو وہ پھر چھپ چھپ کے لڑکوں کو محبت نامے لکھیں گی اور ان پڑھ والدین کو خبر تک نہ ہوگی۔مگر جس جس خاندان کا یہ وہم لیلا وتی دور کرنے میں کامیاب رہیں اس نے لیلا وتی کی بے لوثی پر اعتبار کرتے ہوئے اپنی بیٹیوں کو اسکول بھیجنا شروع کردیا۔جب لیلاوتی کا تبادلہ ہوا تب تک ان کے ہائی اسکول میں پانچ سو مسلمان لڑکیاں داخل ہو چکی تھیں۔

 

ممتاز صحافی، لکھاری اور شاعر حسن مجتبیٰ کے ایک مضمون کے مطابق ایک گاؤں میں جب لیلاوتی گئیں تو کوئی ہوائی جہاز اوپر سے گزر گیا۔کچھ عورتیں ڈر گئیں اور جن آیا جن آیا کا شور مچانا شروع کردیا۔ لیلا وتی نے ایک نظم لکھی جس کا لبِ لباب یہ تھا کہ ’’ اری سندھ کی بیٹیو تم اتنی بے خبر اور ناخواندہ کیوں ہو۔ تعلیم حاصل کر کے جہالت کا جن کیوں نہیں بھگاتیں‘‘۔

 

ایک بار لیلاوتی ٹنڈو آدم ریلوے اسٹیشن پر ٹرین کا انتظار کر رہی تھیں۔ایک ان پڑھ عورت نے انھیں ٹکٹ دکھاتے ہوئے کہا کہ اس پر کیا قیمت لکھی ہوئی ہے؟ لیلا وتی کو پتہ چلا کہ بکنگ کلرک نے اس عورت سے زیادہ پیسے اینٹھ لیے ہیں۔چنانچہ انھوں نے کلرک کو پولیس کی دھمکی دے کر اضافی پیسے واپس کروائے اور عورت سے کہا کہ اگر تم پڑھ  سکتیں تو ایسے نہ ہوتا۔اپنی بچیوں کو اسکول بھیجو تاکہ ان کے ساتھ ایسے نہ ہو۔لیلاوتی اس عورت کے گاؤں گئیں اور اس کی بچیوں کو اسکول تک لانے میں کامیاب ہوگئیں۔

 

لیلاوتی ویمن ٹریننگ کالج حیدرآباد کی پرنسل بھی رہیں۔جب انسپکٹر آف گرلز اسکولزکے عہدے پر تھیں تو بقول ان کے ایک روز میہڑ کا ایک وڈیرہ کچھ مسلح افراد کے ساتھ ان کے دفتر میں گھس آیا اور دھمکی دی کہ اگر اس کے علاقے میں اسکول کھولا تو اچھا نہیں ہوگا۔میں نے ان سب سے کہا کہ تم لوگ اتنا لمبا سفر کر کے آئے ہو۔بیٹھو اور ٹھنڈا پانی پیو۔اس کے بعد میں انھیں سمجھانے میں کامیاب ہوگئی کہ وہ صرف تمہاری نہیں اس قوم کی بھی بیٹیاں ہیں اور ہمیں ان پڑھ بیٹیوں کے بوجھ کی نہیں تعلیم سے مالا مال نسل کی ضرورت ہے جو اپنی حفاظت خود کر سکے۔وڈیرے کو بات شائد سمجھ میں آ گئی اور وہ معذرت کرتا ہوا رخصت ہوا۔

 

انیس سو چھہتر میں لیلا وتی ڈپٹی ڈائریکٹر ایجوکیشن کے عہدے سے ریٹائر ہوگئیں۔مگر خالی بیٹھنے والی کہاں تھیں۔بطور ڈپٹی کمشنر گرلز گائیڈ تحریک کی طویل عرصے تک رہنمائی کرتی رہیں۔کمیونٹی سینٹر اور ویمن انڈسٹریل ہوم چلاتی رہیں۔بطور سماجی کارکن بھی ہمت نہ ہاری۔خواتین کی تنظیم ناری سبھا جاری رہی۔ہیرآباد میں چتربائی جوت سنگھ کی عطیہ کردہ خاندانی زمین پر قائم لیڈیز پارک کی زمین ایک بلڈر کی جانب سے ہتھیانے کی کوشش کے خلاف تحریک منظم کی۔انیس سو پچاسی میں سندھ اسمبلی کی رکن بنیں۔ان پر واحد الزام اسمبلی کے اقلیتی ارکان کی جانب سے یہ لگا کہ اپنے کوٹے کی زیادہ تر ملازمتیں ہندو نوجوانوں کے بجائے مسلمانوں میں بانٹ دیں۔ لیلا وتی کا جواب تھا مسلمانوں میں بیروزگاری زیادہ ہے اور جب عورتیں ننگے پیر اپنے بچوں کے لیے ملازمت مانگنے آتی ہیں تو میں کیسے انکار کردوں۔

 

آخری برسوں میں یادداشت کمزور ہوگئی مگر ہارمونیم پر گرو ٹی ایل داس اور بھٹائی کا کلام روزانہ گانا نہیں بھولا۔ تعلیم کے شعبے میں بڑھتی کرپشن نے انھیں افسردہ کردیا تھا۔کہتی تھیں میں تو آج تک اپنے باپ کے گھر میں رہتی ہوں مگر محکمہ تعلیم کے افسروں اور ٹیچروں نے کیسے راتوں رات محل کھڑے کر لیے اور تعلیم کی عمارت ڈھیتی جا رہی ہے۔

 

بقول دادی لیلاوتی ’’دنیا میں دل جو مطلب پورو تھئیو تاںچھا تھئیو‘‘ (صرف دل کی خواہشیں ہی پوری کیں تو پھر دنیا میں آ  کے کیا کیا ……


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔