ولائتی شراب سے دیسی ٹھر ے تک


 شراب نوشی انسانی زندگی، صحت، مذہبی، سماجی و معاشی معاملات کی تباہی کا سب سے بڑا سبب سمجھا جاتا ہے۔ مرزا غالب کی ولائتی شراب کا چرچا پورے برصغیر میں مشہور ہے۔ افسانوں،شعروں، فلموں، ڈراموں، خبروں اور رقص و سرور کی محفلوں اور منٹو کےخطوط میں دیسی اور ولائتی شراب کا ذکر ملتا ہے۔ ہمارے ملک میں شراب پر پابندی عائد ہے مگر غیر مسلم ہونے پر آپ ایک عدد پرمٹ حکومت پاکستان سے حاصل کر کے پی اور پلا سکتے ہیں۔ پاکستان میں چند فیکڑیاں شراب بنانے کا کام کرتی ہیں۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق شراب پینے والوں کی تعداد میں روز بروز اضافہ ہوتا نظر آ رہا ہے اور شراب بنانے والی فیکٹریوں کی پیداوار کم پڑتی جا رہی ہے۔ پاکستان کی اکثریت مسلمانوں اور اقلیت غیر مسلموں کی ہے جن میں ہندو، سکھ، عیسائی اور دیگر اقلیتیں شامل ہیں۔ پینے کا لائیسنس اقلیتوں کے پاس ہے مگر بلیک میں حاصل کر کے پینے والوں میں اکثریت مسلمانوں کی ہے۔

کہا جاتا ہے کہ شراب کے کاروبار میں اربوں روپوں کی کمائی ہے۔ ایک تو شراب بنانے والی فیکٹریاں پیسہ کما رہی ہیں، دوسرا حکومت کو بھی ٹیکس کی مد میں شراب سے کافی سرمایہ اکٹھا ہو جاتاہے اور تیسرا بلیک میں بیچنے والوں کی چاندی ہے۔ اکثر میڈیا پر خبریں سننے میں ملتی ہیں کہ کچی یا زہریلی شراب پینے سے اتنے افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ کچھ لوگ ملک میں شراب پر پابندی سے  پورا پورا فائدہ حاصل کرتے ہیں اور دوگنی قیمت پر نقلی شراب دے کر لوگوں کو موت کے گھاٹ اتار دیتے ہیں۔ ان لوگوں نے اپنے گھروں میں شراب کی بھٹیاں بنا رکھی ہیں، صرف بوتل مری بروری کی، اندر دیسی شراب ڈال کر شرابیوں کو چونا لگاتے ہیں۔ کچھ لوگ جو بلیک میں پاکستانی فیکٹریوں کی شراب حاصل کرنے کی سکت نہیں رکھتے، وہ دیسی شراب، جسے ٹھرا یا  کپی کہا جاتا ہے، پی کر زندگی کا چراغ گل کر لیتے ہیں۔

میڈیکل سائنس کے مطابق شراب براہ راست انسان کے مرکزی اعصابی نظام پر حملہ آور ہوتی ہے۔ زیادہ شراب نوشی کرنے والا اپنے اور پرائے، چھوٹے اور بڑے اور اچھے اور برے کی تمیز نہیں کر پاتا اور آہستہ آہستہ بے شمارنفسیاتی اور گھریلو مسائل پیدا ہو جاتے ہیں۔

 اعصابی نظام کی تباہی کے ساتھ ساتھ شراب کے عادی افراد میں کینسر، فالج، بلڈ پریشر، دل کے ناکارہ ہو جانے اور جگر کی بیماریوں میں مبتلاہونے کی شرح بہت زیادہ ہو جاتی ہے۔

ایک تحقیق کے مطابق دنیا بھر میں ٹریفک کے حادثات  جھلسنے، ڈوبنے، بچوں سے زیادتی اور تشدد، خودکشی  کے واقعات اکثر و بیشتر شراب کے نشے کے زیرِ اثر ہو تے ہیں۔

پابندی کے باوجود سرعام ولائتی اور دیسی شراب کی خرید و فروخت جاری ہے۔ پارلیمنٹ لالجز، سرکاری دفاتر کی چھتوں، گلی محلوں میں خالی شراب کی بوتلیں نظر آتی رہتی ہیں۔  شراب کی غیر قانونی خرید و فروخت سے بہت سے سرکاری افسران اور مافیا کے گھر چل رہے ہیں۔  شراب کی بڑے پیمانے پر فروخت پولیس اور  ایکسائز کی ملی بھگت سے ہوتی ہے۔ اس لیے نہ ہی غیر قانونی شراب کی روک تھام ہو پاتی ہے نہ ہی دیسی شراب سے ہونی والی اموات کے مجرموں اور ان کے مدد گاروں کو قرار واقع سزائیں دی جاتی ہیں۔

کہنے والے تو کہتے ہیں کہ  پھر یہ کس قسم کی پابندی ہے جس میں پیسوں سے ہر چیز مل جاتی ہے چاہے وہ  ولائتی ہو یا دیسی۔  اس خرید و فروخت کا مالی فائدہ صرف انہی لوگوں کو ہوتا ہے جو اس کا غیر قانونی کاروبار کرتے ہیں اگر حکومت اس غیر قانونی کاروبار کو بند نہیں کر سکتی تو پھر حکومت کو چاہیے  کہ اس کی خرید فروخت کو قانونی بنا کے ٹیکس کی مد میں اربوں روپے اکٹھا کرے۔اسلام نے شراب کو حرام قرار دیا ہے لیکن ہمارے ملک  میں شراب پینے والوں کی بہت بڑی تعداد موجود ہے۔ کچھ شراب کو نشہ تو کچھ مشروب سمجھ کر پیتے ہیں۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔