شہباز شریف کو فائدے نقصان کی سیاست لے ڈوبی


فائدہ ایک ایسا لفظ ہے جو سامنے رکھ کر آپ شہباز شریف کو بہتر سمجھ سکتے ہیں۔ آپ انہیں ان کے فائدے کی کوئی بات بتائیں۔ وہ آگے سے یہ پوچھیں گے کہ بات تو ٹھیک ہے، میرے فائدے کی ہے پر اس میں تمھارا کیا فائدہ ہے۔ ان کے کاروباری مزاج نے ان کو پکا کر دیا ہے کہ اپنے فائدے کے بغیر کوئی کسی کو فائدے کی بات نہیں بتاتا۔

فائدے پر فوکس رہنے کی وجہ سے ہی وہ سیاسی نقصان سے بچے رہتے ہیں۔ میرا تو ہے تیرا کی فائدہ ہی پوچھ پوچھ کر وہ بندے کو اس کی اصل اوقات پر رکھ کے ڈیل کرتے ہیں۔ فائدے نقصان کی اچھی پرکھ رکھنے کی وجہ سے ہی وہ پنڈی کے پسندیدہ سیاستدان ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ ان کی سیاست کو جب بھی گولہ لگا وہ پنڈی کی سوچ سے دور جانے پر ہی لگے گا۔ چوہدری نثار اپنے خاندان کے فوجی پس منظر کی وجہ سے پنڈی کے مزاج شناس ہیں۔ نثار شہباز کی پکی یاری کی وجہ یہی پنڈی پال سوچ بھی ہے۔

نوازشریف کو جب جب ہم نے ٹکر مارنے والی پوزیشن میں آتے دیکھا۔ نثار شہباز کو ہم نے معاملات سنبھلانے کے لیے سرگرم بھی ہوتے دیکھا۔ یہ دونوں نوازشریف کے سب سے قریب سمجھے جاتے ہیں۔ اصل حقیقت کا اندازہ لگانے کو بس اتنا جانیں کہ پرویز مشرف کو برطرف کرنے کے فیصلے کا علم ان دونوں کو نہیں تھا۔ دو ہزار تیرہ کے بعد بننے والی حکومت میں یہ دونوں ہی پنڈی کے ساتھ معاملات میں کافی حد تک باہر رکھے گئے۔ دونوں بڑی اچھی طرح بہت جلدی سمجھ گئے تھے کہ ان کی حکومت اس بار بھی نہیں چل سکے گی۔

شہباز شریف شاید ایک ہی وجہ اور ایک ہی طریقے سے بار بار حکومت گنوانے کے بے فائدہ کام سے پوری طرح اکتا چکے ہیں۔ نوازشریف کے بغیر مسلم لیگ نون کی حکومت پر انہوں نے کس وقت سنجیدگی سے سوچنا شروع کیا کچھ کہا نہیں جا سکتا۔ کپتان کا دھرنا شہباز شریف کی لاہور حکومت سے چل کر چوہدری نثار کی عملداری اسلام آباد تک پہنچا تھا۔ یہی وقت تھا جب ہم نے مریم نواز کو پہلے سرگرم ہوتے پھر زور پکڑتے دیکھنا شروع کیا۔

روایتی سے سیاستدان ووٹروں کو جھانسے دینے اقتدار کی مستقل قوتوں کے ساتھ پائدار تعلق سے ہی اپنی طاقت برقرار رکھنے کو زندگی کا مقصد اور حاصل سمجھتے ہیں۔ شہباز شریف، آصف زرداری اور چوہدری نثار نہیں جان سکتے کہ بے نظیر بھٹو، الطاف حسین اور نوازشریف کے لیے عوامی حمایت کا کیا مطلب ہے۔ یہ عوامی حمایت ان لیڈروں کی کیسی طاقت، کیسی مجبوری اور کیسی دولت ہے۔ یہ عوامی حمایت ہی تھی جس نے کینسر کے مریض بوڑھے بلوچ سردار کو لڑ کر مرنے اور ہمیشہ زندہ رہنے پر اکسایا۔ بے نظیر اچھی طرح جانتی تھیں کہ وہ مقتل کو جا رہی ہیں لیکن وہ گئیں اور انہوں نے جان دے کر بتایا کہ لیڈر کو ہر صورت نکلنا ہوتا ہے جب اس کے لوگ نعرے لگاتے میدان میں ہوں۔

مسلم لیگ نون کب کی تقسیم ہو چکی ہوتی اگر شہباز شریف فائدے نقصان کے حساب کتاب میں مصروف نہ رہ جاتے۔ چوہدری نثار اب بھی ترلے لے رہے ہیں کہ کسی طرح بات بن جائے۔ نواز شریف نے شاہد خاقان عباسی کو وزیر اعظم نامزد کیا۔ غیر متوقع طور پر نامزد وزیر اعظم کی کارکردگی بہت اچھی رہی ہے۔ وہ تمام آئینی اداروں کو فنکشنل کرتے چلے جا رہے ہیں۔ نینشل سیکیورٹی کونسل کے دو اجلاس ہم ہوتے دیکھ چکے ہیں۔ مشترکہ مفادات کونسل کا اجلاس ہو چکا۔ کابینہ اجلاس ہر ہفتے ہوتا ہے۔ وزرا اب نوازشریف دور کے برعکس زیادہ با اختیار ہیں۔

شاہد خاقان عباسی فیصلے کر رہے ہیں، رکی ہوئی فائلیں نکال رہے ہیں۔ اپنے ساتھیوں کو ہر وقت دستیاب ہیں۔ اب تک وہ ایک سو پچھتر ممبران قومی اسمبلی سے ملاقات کر چکے ہیں۔ شہباز شریف کے ہاتھ سے وقت تیزی کے ساتھ نکلتا جا رہا ہے اگر انہوں نے مسلم لیگ نون سنبھالنی تھی تو ان کی ٹرین شاید نکل چکی۔ شہباز شریف لندن سے واپس آ چکے ہیں۔ انہیں نوازشریف نے بتا دیا ہے کہ مسلم لیگ نون کے قائم مقام صدر سردار یعقوب خان ناصر ہی رہیں گے۔ وہ اس وقت نیا صدر نامزد کر کے ایسا کوئی تاثر نہیں دینا چاہتے کہ وہ سیاست کے میدان سے باہر ہو گئے ہیں یا وزیراعظم کے امیدوار نہیں ہیں۔ مریم نواز نے این اے ایک سو بیس پر ایک بھرپور مہم چلائی ہے۔ انہیں کارکن نے ویلکم کیا ہے۔ سب کا شک دور ہو گیا ہے کہ نوازشریف کی پبلک سپورٹ پوری طرح مریم نواز کو حاصل ہے اور وہی سیاسی وارث ہیں الیکشن کا نتیجہ جو بھی آئے۔

آپس کی بات ہے کہ نوازشریف کے جانے کے بعد شاہد خاقان عباسی نے واقعی متاثر کیا ہے۔ نوازشریف کی شخصی حکومت کے برعکس شاہد خاقان عباسی سسٹم پر یقین رکھنے والے اور اس کو جمہوری تقاضوں کے مطابق چلانے والے بندے کے طور پر سامنے آئے ہیں۔ نوازشریف کے برعکس شاہد خاقان عباسی زیادہ ایکٹو ہیں اور آسانی سے دستیاب ہیں۔ وہ اسمبلی جاتے ہیں، کابینہ کے اجلاس کرتے ہیں، اداروں سے ان پٹ لیتے ہیں اور محاذ آرائی کی بجائے اجتماعی پالیسی پر چلتے ہیں۔ شاہد خاقان عباسی ویسے ہیں جیسا کسی جمہوری وزیر اعظم کو ہونا چاہیے۔ وہ پنگے بھی کم کرتے ہیں۔

مسئلہ کیا ہے؟ صرف اتنا کہ شاہد خاقان عباسی کو وزیر اعظم بنے دو مہینے ہونے کو آئے۔ اب تک وہ نہ پنڈی گئے ہیں نہ آب پارہ یعنی انہیں سلامتی کے اداروں نے کوئی بریفنگ نہیں دی۔ عباسی صاحب پوٹھوہار کے وزیر اعظم ہیں، ان کے والد ائر وائس مارشل رہے ہیں اور سسر ڈی جی آئی ایس آئی۔ وزیر اعظم کے عہدے کی، ووٹر کی رائے کی کیا واقعی کوئی عزت ہے؟ بس اتنی سی بات ہے یہی بحال کرانی ہے۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

وسی بابا

وسی بابا نام رکھ لیا ایک کردار گھڑ لیا وہ سب کہنے کے لیے جس کے اظہار کی ویسے جرات نہیں تھی۔

wisi has 243 posts and counting.See all posts by wisi