ہمارا معاشرہ اور عورت کی حیثیت


 Khalid mir معاشرے میں عورت کی حیثیت یا مقام کی جانب تو بنیا دی اشارہ اس بات سے ملتا ہے کہ معاشرہ لڑکی کی پیدائش کو کس طرح قبول کرتا ہے۔ اگر ایک عورت حاملہ ہو تو سب یہ دعا کرتے ہیں کہ خدا کرے بیٹا ہو، اگر بیٹی پیدا ہو تو عورت بد نصیب تصور کی جاتی ہے ۔ اور اگر بیٹا پید اہو تو سمجھو عید ہے ، فائرنگ بندوق کی، کڑکے کلاشنکوف کے اور مویشی ذبح کرنا بھی عام ہے،جبکہ بیٹی کی پیدائش پر ایسا کچھ بھی نہیں ہوتا۔ ہمارے معاشرے میں پیدائش ہی سے عورت کو مردسے کمتر سمجھا جاتا ہے ۔ اگر عورت کے حقوق کے حوالے سے بات کی جائے تو ان کا سب سے پہلا اور بنیادی حق تعلیم ہے لیکن ہمارے علاقوں میں (خاص کر دیہات میں) عورت کی تعلیم کو غیرت اور بلوچی روایات کے خلاف سمجھا جاتا ہے ۔

 پاکستان و ہندوستان اور ایران و افغانستان کے مشہور مُلا اور مولویوں نے ہمیشہ عورت کی تعلیم کو شک و خوف کی نگاہ سے دیکھا ہے سر سید احمد خان جیسے ”روشن خیال“اور علم دوست شخص نے بھی ہر وقت عورتوں کیلئے تعلیمی اداروں کے قیام کی مخالفت کی اور اپنی اس نصیحت پر زور دیا کہ لڑکی صرف اور صرف دینی کتابوں پر توجہ دے ۔ مولانا اشرف علی خان صاحب تھانوی اپنی کتاب ”بہشتی زیور“ میں فرماتے ہیں کہ” عورتیں اخبار بھی نہ پڑھیں” ۔ عورتیں کیونکہ ہمیشہ سے ہی مرد کی جائیداد رہی ہیں اس لئے اس کی ساری نشوونما ایک ایسے سیٹ اپ کے تحت ہوئی ہے جس نے اس کی اپنی شخصیت کے ارتقاءکے لئے کوئی گنجائش نہیں چھوڑی ، اس لئے کہ جب وہ بچی ہوتی ہے تو اس کا وارث کوئی ہوتا ہے ، اور جب جوان ہوتی ہے تو کسی دوسرے آقا کی جائیداد بن جاتی ہے ۔ ان مالکوں کے حکم کے تحت اس کی ذات، اس کی خواہشات اور ارمان اس طرح کچلے گئے کہ عورت کی حیثیت سے اس نے اپنا اصل وجود اپنی شناخت کھو ڈالی ہے۔ ہماری غیرت، رسم و رواج اور ہمارے ان پڑھ ملاﺅں نے مل کر عورت کی تعلیم کے سارے راستے تمام دروازے اور کھڑکیاں تک بند کر دیں، پھر بھی تعلیم کا سلسلہ کہیں چل رہاہے تو بہت ہی پسماندہ ہے۔ لڑکی کی پانچ جماعتیں تو سمجھیں پی ایچ ڈی کے برابر ہیں، اس کے بعد تو گویا ماں باپ نے اپنا تما م فرض پورا کر دیا۔ ’اتنی بڑی لڑکی کو بھلا کون پڑھوائے‘۔

لڑکیوں کوتعلیم سے دور رکھنے کے لئے کچھ لوگوں نے مذہب کا سہارا لیا اور صرف وہ آیتیں اور احادیث بیان کی گئیں جن میں عورت کو باپردہ گھر میں رہنے کا حکم دیا گیا ہے۔ مگر حضرت محمدﷺ نے یہ بھی کہا ہے کہ پنگھوڑے سے قبر تک علم حاصل کرو، علم طلب کرو چاہے تمہیں چین ہی جانا پڑے، اور تعلیم حاصل کرنا ہر مسلمان مرد عورت پر فرض ہے۔ لیکن ہمارے معاشرے میں ہمیشہ مرد کو عورت سے بالا تر سمجھا جاتا ہے ۔ اس سلسلے میں ایک مرتبہ ایک خاتون نے حضرت محمدﷺ سے دریافت کیا کہ کیا وجہ ہے کہ خدا نے مرد کو اتنا بڑامرتبہ دیا۔ عورت اتنا کم درجہ کہ آج تک دنیا میں جتنے بھی پیغمبر اور رسول آئے وہ سب مرد ہیں ان میںسے ایک بھی عورت نہیں؟ یہ سن کر حضرت محمد ﷺ نے فرمایا ۔یہ غلط تصور ہے کہ خدا نے مرد کو بلند درجہ عطا فرمایا، دنیا میں پیغمبروں کا بھی اگر کسی کے سامنے سر جھکا ہے تو وہ ہے ’ماں‘ اور ماں ’عورت‘ ہی ہے۔ اسلام نے عورت کو کیا مقام دیا۔ حضوراکرم ﷺ کی اس بات سے بالکل واضح ہو جاتا ہے اور ویسے بھی عورت کو مرد پر ایک ہی برتری حاصل ہے کہ مرد کبھی ’ماں‘ نہیں بن سکتا، اور نہ کبھی ماں کے پاک جذبات سے واقف ہو سکتا ہے جو قربانی، ہمدردی، محبت اور انسانیت کی بنیاد ہے۔

اس کے باوجود عورت محکوم ہے اور ہمارے ہاں اسے پیٹنے کے لئے بھی کسی سبب یا جواز کی ضرورت ہی نہیں ہوتی، پیٹنے والا خواہ شوہر ہو،بھائی ہو، سسر یا دیورہو یا چاہے بیٹا ہی کیوں نہ ہو، عورت کو پیٹنے کی اتھارٹی رکھتا ہے ۔ عورت پر تشدد ایک فرد کی ذاتی مرضی کی علامت نہیں، بلکہ ایسی سیاسی سماجی بیماری کی علامت ہے جس کی جڑیں گہری ہیں اور ہم اسے مذہب، قانون اور رواجوں کے تقدس کا لباس پہنا دیتے ہیں۔ ہمارے سماج میں آج تک کسی نے یہ نہیں سوچا کہ عورت بھی مرد کی طرح انسان ہے اور اس کے بھی حقوق مرد کے مساوی ہیں۔ لیکن ہمارے معاشرے کی عورتوں کا ’سیاہ کاری‘ جیسی فرسودہ رسم کی بھینٹ چڑھنا ہی مقدر بن ہوا ہے۔ ہمارے سماج میں دوسرے کی عزت کو گندا کرنے کاالزام لگے ہوئے مرد کو، یا اپنے نکاح والے شوہر کے علاوہ کسی اور سے جنسی تعلق رکھنے (یا ’مالک‘ کو اس طرح کے تعلق کاشک پڑنے ) والی عورت کو سیاہ یا سیاہ کار کہتے ہیں۔ سیاہ کاری یا غیرت کے نام پر قتل کی اس فرسودہ رسم نے جس طرح انسانیت اور انسانی حقوق کی دھجیاں بکھیری ہیں اس کی مثال کہیں نہیں ملتی۔ اس ناپاک رسم کے تحت جس طرح ملکیت ہتھیائی جا رہی ہے، پرانی دشمنیاں نبھائی جارہی ہیں، اور ماضی قریب میں اس گندی رسم نے جس طرح عورت کی بے بسی کو کچلا ہے ۔ اس کے بعد آج کے ’مہذب انسان ‘ کا حقیقی وحشیانہ روپ کچھ اور نکھر کر سامنے آیا ہے یہ ’مہذب انسان‘ جو معاشرے میں طاقتور مرد کی شناخت رکھتا ہے جب چاہے عزت اور غیرت کے نام پر عورت کی زندگی چھین سکتا ہے، کوئی روک ٹوک نہیں ہے ۔ ہمارے ہاں جو شخص سیاہ کاری کے نام پر جتنے زیادہ قتل کرے گا اسی مناسبت سے زیادہ بہادر اور غیرت مند تصور ہوگا۔21 صدی میں بھی ’ سیاہ کاری ، کارو کاری اور غیرت کے نام پر قتل‘ جیسی فرسودہ رسم و رواج پر عمل کرنا واقعی میں انسانیت کی توہین اور عورت پر ظلم و ستم کی انتہا ہے۔ مہاتما گوتم بدھ نے بہت پہلے کہا تھا کہ یہ دنیا دکھوںکا گھر ہے۔ مردوں کے لئے یہ دنیا چاہے کچھ بھی ہو، مگر ہمارا سماج عورتوں کے لئے یقیناً دکھوں کا گھر ہے۔

اگر ہم مختلف شعبہ ہائے زندگی میں انفرادی اور اجتماعی طور پر ترقی کرنا چاہتے ہیں تو مردوںکو چاہیے کہ عوروقں کے حقیقی وجود، انسانیت، آزادی، برابری اور دیگر حقوق کو تسلیم کریں اور یہ بات اپنے عمل سے ثابت کریں، اور حکومت کو چاہیے کہ شادی، آزادی، ازدواجی زندگی، طلاق۔ گواہی اور دیگر معاملات میں قانونی طور پر عورتوں کو مساوی درجہ دےا جائے اور انہیں تعلیم و روزگار کے زیادہ سے زیادہ مواقع فراہم کر کے مردوں کے برابر لانے کی کوشش کرے، اور خود عورتوں کو چاہیئے کہ وہ اپنے شعور کی سطح بڑھا کر اپنے جائز بنیادی انسانی حقوق کے متعلق آگہی حاصل کریں۔ جرات سے کام لے کر حکومت اور مردوں سے اپنے حقوق عملی طور پر منوانے کی بھر پور کوشش کریں اور اس مقصد کے لیے خواتین متحد اور منظم ہو کر باقاعدہ تحریک چلائیں، کیونکہ ہمارے معاشرے کے”روایتی مرد‘ یہ نہیں چاہتے کہ ایک عورت ان کے شانہ بشانہ کام کرے بلکہ ہمارے معاشرے میں عورت کو صرف لذت حاصل کرنے اور جنسی خواہشات کی تکمیل کا ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔


Comments

FB Login Required - comments