گلوبل وارمنگ کا خطرناک بم


ماحول اور انسانی صحت انسانی صحت کے لیے کھلی فضا اور صاف ہوا میں سانس لینا بہت ضروری ہے لیکن اس ترقی یافتہ اور سائنٹیفک دور میں انسان کو نہ صاف ہوا میسر ہے اور نہ ہی کھلی فضا۔ اس جدید ترین دور میں انسان آلودہ زندگی گزارنے پر مجبور ہے۔ اس آلودہ زندگی سے انسان نہ صرف بے شمار بیماریوں کا شکار ہو رہا ہے بلکہ ایک فعال زندگی گزارنے کی بجائے ذہنی کوفت میں مبتلا ہو رہا ہے۔ بڑھتی ہوئی ماحولیاتی آلودگی کی سب سے بڑی وجہ فضائی آلودگی ہے جو ایک صحت مند معاشرہ تشکیل دینے میں بڑی رکاوٹ بن رہی ہے۔

کیمیائی طور پر تیار کی گئیں اشیا اور دیگر مختلف قسم کے کچرے کو جب جلایا جاتا ہے تو اس سے نکلنے والا دھواں فضائی آلودگی کا باعث بنتا ہے اور اس سے نکلنے والی زہریلی گیس اور ذرات فضا میں شامل ہو جاتے ہیں۔ ان سے انسانی صحت پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں اور کینسر، پھیپھڑوں کے علاوہ گلے کی پیچیدہ بیماریوں کا باعث بنتے ہیں۔ ماہرین ماحولیات نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ترقی پذیر ممالک کی بڑی آبادی کوڑے کرکٹ کے ڈھیر کے پاس رہتی ہے اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو ان ممالک میں مختلف اقسام کی جسمانی اور ذہنی بیماریاں جنم لیں گی جو کسی بھی صحت مند معاشرے کے لیے مسائل کا انبار ہے۔

تحقیقات کے مطابق کچرے کے ڈھیروں سے بے شمار زہریلی گیسوں کا اخراج ہوتا ہے۔ بھارت، پاکستان اور انڈونیشیا کے ممالک جو دنیا کا تقریباً پانچواں حصہ بنتا ہے جو اس سے متاثر ہو رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق زہریلا مادہ خون میں جذب ہونے سے رحم مادر میں پرورش پانے والے بچوں کو مسائل پیش آ سکتے ہیں جو بچوں کی ذہنی نشوونما کے لیے خطرہ ہیں۔ میسا چوسٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی سے وابستہ سٹیون بیرٹ کا کہنا ہے کہ گزشتہ 5 سے10 برسوں کے اعداد و شمار سے ثابت ہوا ہے کہ فضائی آلودگی سے شرح اموات میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔

سڑکوں پر رواں دواں دھواں اڑاتی ہوئی گاڑیاں فضائی آلودگی میں اضافہ کا باعث ہیں۔ ہمارے یہاں روش چل پڑی ہے کہ ہر معاملے میں گاڑی کا استعمال کیا جاتا ہے جب کہ ان سڑکوں کے ارد گرد اور درمیان میں سبزہ اور ماحول دوست پودوں کی کمی ہوتی ہے۔ علاوہ ازیں گاڑیوں کی موزوں مینٹیننس کا نہ ہونا بھی ماحول کی خرابی کا سبب ہے۔

بجلی کی پیداوار کے لیے استعمال کیے جانے والے ذرائع بھی فضائی آلودگی میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں جو لوگوں کو وقت سے پہلے ہی موت کی جانب دھکیل رہے ہیں۔ لہٰذا ضرورت اس امر کی ہے کہ بجلی کی پیداوار کے لیے قدرتی ذرائع استعمال کیے جائیں تا کہ ماحولیاتی آلودگی میں کمی واقع ہو۔ دنیا کے دیگر ممالک کی طرح پاکستان میں بھی اس حوالے سے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ سندھ میں جھمپیر کے مقام پر ہوا کے ذریعے بجلی حاصل کرنے کے لیے امریکی ادارے اوپیک کے تعاون سے منصوبہ پر کام کیا جا رہا ہے اور پاکستان کے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں گومل زام ڈیم کے ذریعے بجلی کی پیداوار کے لیے غور کیا جا رہا ہے جو ماحول دوست اقدامات کی کڑی ہے۔

عام تاثر ہے کہ جوہری بم سے کئی گنا خطرناک گلوبل وارمنگ کا بم ہے جس کے اثرات سے کرۂ ارض خطرات میں گھیرا ہوا ہے۔ ماضی کی نسبت اب گرمی کی عمومی صورتحال شدید ہو رہی ہے اور گرمی شدت سے بڑھ رہی ہے جب کہ سردیوں کا موسم سکڑتا جا رہا ہے۔ موسمی تغیر کے باعث مختلف ممالک میں طوفانی بارشوں، سیلابی ریلوں، سمندری طوفان سے ہونے والے نقصانات میں اضافہ ہو رہا ہے اور کہیں قحط اور خشک سالی کی صورتحال دکھائی دے رہی ہے۔ یہ سب در اصل گلوبل وارمنگ ہی کا نتیجہ ہے۔ آب و ہوا کی تبدیلی کی وجہ سے زراعت متاثر ہو رہی ہے اور خوراک کی قلت بھی بڑھ رہی ہے۔ دوسری جانب صنعتی پیداوار بھی متاثر ہو رہی ہے کیوں کہ اکثر اشیا کی تیاری میں خام مال زرعی شعبے سے حاصل ہوتا ہے۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق آب و ہوا کی تبدیلی سے دنیا کی مجموعی اقتصادی پیداوار میں 1.6 کی کمی واقع ہوئی ہے۔

ہم سمجھتے ہیں کہ کرۂ ارض کے تمام مسائل اور مشکلات کا سب سے بڑا سبب یہاں بسنے والے انسان ہیں۔ سڑکوں پر دھواں اڑاتی گاڑیاں، کارخانوں کی دھواں اگلتی چمنیاں، کیمیکل پلانٹس سے خارج ہوتا زہریلا پانی گرین ہائوس گیسوں کے خاتمے کی وجہ سے بن رہا ہے۔ علاوہ ازیں بڑے پیمانوں پر جنگلات کی کٹائی کرۂ ارض کے توازن میں بگاڑ کا باعث ہے جب کہ یہی درخت فضا میں موجود کار بن گیسوں کو دوبارہ زندگی بخش آکسیجن میں تبدیل کرتے ہیں۔ اب ہمارا بنیادی اور اہم فریضہ ہے کہ ہر شخص اپنی سہولت کے مطابق ایک پودا لگائے جو صدقہ جاریہ کے ساتھ ساتھ فضائی خوشگواری کا ذریعہ بھی ہے۔ پولی تھین بیگز کا استعمال کم سے کم اور ری سائیکلنگ اشیا کا استعمال کیا جائے تا کہ کچرا بننے کے امکانات کم سے کم ہوں۔ ماحول دوست بنئے دشمن نہں۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔