عیار سیاستدانوں کی شفاف عدلیہ کے خلاف ممکنہ جوابی چالیں


صد شکر کہ ہماری عظیم سپریم کورٹ نے روایتی سیاستدانوں کو نکیل ڈال دی ہے۔ خواہ آصف زرداری ہوں یا نواز شریف، سب شدید پریشانی کا شکار ہو چکے ہیں۔ پاک افواج نے تو خیر ان کا یہ بے جا شکوہ دور کرنے کے لئے کہ ”ملکی تاریخ کی آدھی مدت فوج نے براہ راست اور بقیہ مدت بالواسطہ حکومت کی ہے، تو تباہی کا الزام سیاستدانوں پر کیوں“، سیاست دانوں کو کھلی چھوٹ دے رکھی ہے، مگر تاریخ کے اس نازک موڑ پر ہماری عدلیہ نے سیاست دانوں کو بتا دیا ہے کہ ملکی مفاد ابھی بھی سب سے بالاتر ہے۔

ہم نے اپنی محدود عقل دوڑائی تو کئی خوفناک امکانات دکھائی دیے۔ سیاست دان نہایت عیار ہوتے ہیں۔ نواز شریف کو کئی مرتبہ پہلے بھی نااہل کیا جا چکا ہے مگر وہ دوبارہ آ جاتے ہیں۔ اس عدالتی فیصلے کے خلاف سیاستدان پھر کوئی جوابی چال چل جائیں گے۔ یہ کئی قسم کی جوابی چالیں ہو سکتی ہیں۔ مثلاً وہ ایک آئینی ترمیم لا سکتے ہیں جس کی رو سے اعلی عدلیہ کے معزز جج صاحبان کی ریٹائرمنٹ کی عمر 65 برس سے کم کر کے 60 برس کر دی جائے۔ آخر پہلے بھی تو یہ سترہویں آئینی ترمیم کے ذریعے ججوں کی ریٹائرمنٹ کی عمر 68 سے کم کر کے 65 کی گئی تھی۔ یوں تقریباً تمام سپریم کورٹ فارغ کر کے گھر بھیج دیا جائے گا اور اپنے من پسند جج مقرر کر دیے جائیں گے۔

یا پھر وہ پاکستان بار کونسل کے کاندھے پر رکھ کر بندوق چلا سکتے ہیں۔ 1973 کے لیگل پریکٹیشنرز اینڈ بار کونسلز ایکٹ میں کوئی من مانی تبدیلی کی جا سکتی ہے۔ ابھی بھی اٹارنی جنرل آف پاکستان اس کا چیئرمین ہوتا ہے۔ اٹارنی جنرل کو حکومت مقرر کرتی ہے۔ اب اگر ایکٹ میں ترمیم کر کے اٹارنی جنرل کو بے تحاشا اختیارات دے دیے جائیں تو سیاستدان اسی طرح کسی بھی جج کو نا اہل کر سکتے ہیں جیسے عدالتوں سے وزیراعظم ہوتے رہے ہیں۔ یعنی وزیراعظم کو سزا دے کر اسے 62۔ 63 کے تحت اسمبلی کی بنیادی رکنیت سے نا اہل کر دیا جاتا ہے اور یوں وہ اسمبلی کا ممبر نہ رہنے کی وجہ سے خود بخود وزیراعظم کے عہدے سے الگ ہو جاتا ہے۔ اگر کسی معزز جج صاحب کی بار کونسل کی رکنیت کالعدم قرار دے دی جائے تو اسی طرح اسے ٹارگیٹ کر کے سیاسی چالبازی کے ذریعے ہٹایا جا سکتا ہے۔

یہ بھی ممکن ہے کہ نئی آئینی ترمیم لے آئی جائے جو شق 239 میں مزید دو چار ذیلی شقیں ڈال دے تو کیا ہو گا؟ شق 239 آئین میں ترمیم کے متعلق ہے اور اس کی ذیلی شق پانچ کہتی ہے کہ کسی بھی بنیاد پر آئین میں کوئی بھی ترمیم کسی بھی عدالت میں چیلنج نہیں کی جا سکتی ہے۔ ذیلی شق چھے مزید کہتی ہے کہ شک کے خاتمے کے لئے، یہ واضح کیا جاتا ہے پارلیمنٹ کی آئین کی کسی بھی شق کو تبدیل کرنے کا اختیار لامحدود ہے۔ اب ذیلی شق نمبر سات وغیرہ ڈال کر یہ قرار دیا جا سکتا ہے کہ آئین کا کوئی بنیادی ڈھانچہ نہیں ہے اور قانون سازی کے لئے عوام کی منتخب نمائندہ پارلیمان عدالتی اختیارات کو ویسے ہی محدود کر سکتی ہے جیسے برطانوی پارلیمان نے کیا ہوا ہے۔ اس ترمیم کی منظوری کے بعد عدالتی اختیارات سلب کیے جا سکتے ہیں۔

بعض دوسرے ممالک کی طرح ججز کی تقرری کا مکمل اختیار پارلیمان کو دیا جا سکتا ہے اور موجودہ عدلیہ سے مشاورت کا طریقہ جو سابقہ چیف جسٹس افتخار چوہدری کی وجہ سے آئین میں آیا ہے، ختم کیا جا سکتا ہے۔ اسی طرح ججوں کے احتساب اور اختیارات سے تجاوز کے معاملات بھی پارلیمان کے سپرد کیے جا سکتے ہیں اور سپریم جوڈیشل کونسل ختم کی جا سکتی ہے۔

وزیراعظم کو استثنی بھی دیا جا سکتا ہے کہ ان کو کسی بھی قسم کی عدالتی پیشی سے مکمل استثنی حاصل ہے۔ اس کے علاوہ انہیں ایسی مزید طاقتیں بھی دی جا سکتی ہیں جن سے وہ بے خطر ہو کر اپے فرائض سرانجام دے سکیں۔

یا پھر سڑکوں پر شدید احتجاج کر کے ملکی نظم و نسق معطل کیا جا سکتا ہے اور یوں ایمرجنسی لگا کر عدلیہ کی طاقت کو ختم کیا جا سکتا ہے۔ کئی عظیم ممالک میں تو بیس تیس سال بھی ایمرجنسی لگی رہی ہے۔ کہیں ادھر بھی ایسی کوئی شرارت نہ کر دی جائے۔ ایمرجنسی کے دوران حکومت کے پاس اختیار ہوتا ہے کہ آئین کے کچھ حصے معطل کر سکے۔ حتی کہ بنیادی انسانی حقوق بھی معطل کیے جا سکتے ہیں۔ جنگ اور وسیع ہنگامہ آرائی کی صورت میں ایمرجنسی لگائی جا سکتی ہے۔ بلکہ یاد آیا، یہ دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ جس میں ستر ہزار افراد قتل کیے گئے ہیں، ایمرجنسی لگانے کی ایک معقول وجہ قرار پا سکتی ہے۔

اب ہم جیسا سادہ اور لاعلم شخص یہ سارے امکانات دیکھ دیکھ کر خوفزدہ ہو رہا ہے کہ کہیں عوامی نمائندے اپنے دستوری اختیارات کے تحت پوری حکومت حاصل نہ کر لیں، تو یہ سوچیں کہ عیار سیاستدانوں کے ذہن میں کیا کیا کھچڑی پک رہی ہو گی؟ مارچ 2018 کے بعد سیاستدان اپنا اصل رنگ دکھاتے نظر آ رہے ہیں۔

 


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 665 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar