عورت۔۔۔ نعرے اور آزادی کے درمیان


sehrish usman یہ وہ معاشرہ ہے جہاں آبادی میں باون فیصد اکثریت رکھنے والی عورتوں میں سے صرف سولہ فیصد سکول اور نو فیصد کالج کا منہ دیکھ پاتی ہیں، ہے اور ان میں سے دو فیصد یونیورسٹی جا پاتی ہیں۔ اور وہ جو دو فیصد ہیں بد قسمتی سے برابری اور حقوق کے چکر میں آنکھوں پر آگہی کی پٹی باندھے بس دائروں ہی میں گھومے چلے جا رہی ہیں۔

محترم خواتین سے معذرت کے ساتھ عرض ہے کہ جب آپ دعویٰ کرتی ہیں کہ عورت ہونا بہت مشکل ہے، جب آپ اپنی کافی کے مگ سے سپ لگاتے ہوے، سوشل میڈیا پر باون فیصد کے حقوق کی جنگ لڑتے ہوے میرٹل ریپ، میوچل انڈرسٹینڈنگ، آفس اینوائرنمنٹ اور فری سوشلائزیشن جیسے منفرد سوفسٹی کیٹڈ مسائل پر بات کرتے ہوئے “عورت کے مسائل تم کیا سمجھو گے؟” جیسے جملوں پر اختتام کرتی ہیں۔ تو یقین جانیے یہ جملہ بے ساختہ میرے منہ سے نکل جاتا ہے کہ “آپ خواتین کے حقوق کی بات کرنے کی بجائے مزاحیہ سا تقابل پیش کرتی ہیں۔ اتنی بچیاں درندگی کا نشانہ بن گئیں، لڑکی ہونا جرم ہوگیا۔۔۔ گویا آپ چاہتی ہیں کہ بچیاں درندگی کا نشانہ بنی ہیں تو خدانخوستہ معاشرے کی دوسری اکائیاں بھی اذیت کا شکار ہوں۔ ویسے کیوں نہ یہ غلط فہمی بھی دور کر دی جائے آپ کی؟ تو سنیے انٹرنیشنل ری ہیبلی ٹیشن انسٹیٹوٹ فار ریپ وکٹمز والے کہتے ہیں پاکستان میں بچیوں کی نسبت بچوں سے جنسی زیادتی کے واقعات تین گنا زیادہ ہیں لیکن چونکہ آپ لوگوں کہ خیال میں وہ جرم نہیں تو اس پر بات نہیں ہو سکتی۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل انسانی حقوق کے ضمن میں کہتی ہے کہ پاکستان مردوں پر گھریلو تشدد میں اڑتیس ملکوں کی فہرست میں اکیسویں نمبر پر ہے اور اس تشدد کے خلاف آواز اٹھانے والے ملکوں میں کہیں نام نہیں ہمارا۔۔۔ اور یہ تو آپ معزز خواتین کو پتا ہی ہوگا کہ پاکستان میں مردوں میں ڈپریشن خواتین کی نسبت زیادہ ہوتا جا رہا ہے۔۔۔ وجوہات کے ضمن میں تجزیہ کرنے والے ظالم گھریلو ناچاقی کو سب سے اوپر لکھتے ہیں۔ خیر میرا مقصد یہ لایعنی تقابل پیش کرنا نہیں ہے۔ یہ تو صرف یہ بتانے کے لیے تھا کہ معاشرے میں عورت اور مرد ، دونوں اکایئاں اذیت سے دوچار ہیں۔ اوروہ اپنی جنس کی وجہ سے نہیں، کارل مارکس والا “مظلوم” طبقہ سے ہونے کی وجہ سے دکھ بھوگ رہی ہیں۔ استحصال کرنے والا جنس نہیں، اختیار کے بل پر استحصال کرتا ہے۔ ۔ ۔  لہذا حقوق کی جنگ لڑتے ہوے خود رحمی سے سے باہر آئیے۔ کمزور طبقے کے طور پر حقوق مت مانگیے کہ کوئی بھیک میں دے گا۔ معاشرے کی ایک باوقار، کارآمد اور اپنی ذات میں مکمل اکائی کی حیثیت سے حقوق کا تقاضا کیجیے۔ کیونکہ ہمدردی کی بنیاد پر مساوات اور برابری نہیں مانگی جاتی۔ اور ہاں باون فیصد کے مسائل سمجھیے۔۔۔ یقین کیجیے، عمر کوٹ میں گھڑے بھرتی، چمن میں بکریاں چراتی اور دیر میں لیمن گراس اگاتی اور چک بے جیم شمالی میں گندم کاٹتی کسی ثریا، کسی سکینہ اور کسی مریم کو ایکول سوشلائزیشن (Equal Socialisation) کا درد سر لاحق نہیں اور نہ انہیں میرٹل (ؐMarital) اور پوسٹ باٹم ڈپریشنز(postpartum depression) ہی ہوتے ہیں۔ ان کے  مسائل سمجھیے۔ انہیں روٹی چاہیے بچے کے لیے، اس کی پیدائش پہ میڈیکل اسسٹنٹ چاہیے، ڈیڑھ ماہ کی “چھٹی” چاہیے، انہیں اپنا نام لکھوانے کی حاجت سے چھٹکارا چاہیے۔۔۔ اور انہیں محنت کا مناسب معاوضہ چاہیے۔۔۔  آپ لوگوں کو پتا ہے جنوبی پنجاب اور سندھ میں فالسہ چنتی خواتین کی روزانہ کی اجرت کتنی ہے؟ نہیں کیسے پتا ہو گی؟ ان کی روزانہ کی اجرت فالسے کی ٹہنیاں ہیں، وہی ٹہنیاں جن سے بنے مہنگے ہینڈی کرافٹس آپ لوگ ڈرائنگ رومز میں سجا کر حقوق نسواں کے متعلق گفتگو کرتی ہیں۔


Comments

FB Login Required - comments

2 thoughts on “عورت۔۔۔ نعرے اور آزادی کے درمیان

  • 09-03-2016 at 5:16 am
    Permalink

    سحرش عثمان اپنی بات کو واضح کہنے کا ڈھنگ جانتی ہیں اور نہایت رواں لکھتی ہیں۔ یہ “ہم سب” کے قلمکاروں میں ایک بہترین اضافہ ہیں۔

  • 10-03-2016 at 1:26 pm
    Permalink

    سحرش عثمان کی تحریر ‘ہم سب’ کے صفحات پر دیکهی، حیرت ہوئی. شاباش سحرش.

Comments are closed.