محصول چونگی والے بھائیوں کے لئے معافی نامہ


ejaz awanاب جب کہ عام معافی دینے کی روایت چل نکلی ہے تو ایک معافی ہم بھی دینا چاہتے ہیں۔ بات ذرا پرانی ہے۔ کالج میں پڑھتے تھے۔ اس وقت تفریح یہی ہوا کرتی تھی کہ دن کے وقت اگر پاکستان ٹیم کہیں میچ کھیل رہی ہے اور میچ براہ راست دکھایا جا رہا ہے تو وہ دیکھ لیا جائے۔ چاہے کالج کے کتنے ہی اہم پیریڈ مس کیوں نہ کرنا پڑیں۔ لیکن ہوٹل میں بیٹھیں گے۔ چائے پیئیں گے۔ کچھ نہ کچھ کھائیں گے بھی اور میچ بھی دیکھیں گے۔ عمران خان اور میاں داد کے عروج کا زمانہ تھا۔ ہم نے وہ میچ بھی دیکھا تھا جب عمران خان کی اپیل پر ایمپائر نے کپیل دیو کو ایل بی ڈبلیو آؤٹ دے دیا اور پویلین کی طرف جاتے ہوئے اس نے ناراضی کا اظہار کیا تو عمران خان نے اس کو واپس بلا لیا۔ کپیل دیو بھی اس وقت جانے مانے سٹار تھے. وہ واپس کریز پر لوٹ آئے اور اگلی ہی بال پر عمران خان نے اس کو کلین بولڈ کر دیا۔ یہ ایک ایسا آؤٹ تھا جس پر ہم عمران خان کے کمال کے اسیر ہی ہو کر رہ گئے تھے۔

خیر ہمارا لکھنے کا یہ مقصد ہر گز نہیں کہ عمران خان کی فتوحات گنوائی جائیں۔ ہم تو اپنی تفریحات کے بارے میں عرض کرنا چاہ رہے ہیں۔ دیگر تفریحات میں جاسوس و سسپنس ڈائجسٹ کا باقاعدگی سے مطالعہ تھا۔ جبار توقیر کی گمراہ نے ہمیں اپنا اسیر کر رکھا تھا۔ ہمارے ہی ماحول سے وابستہ وہ کہانی جس میں ہمارے معاشرے کے عام سے کردار تھے۔ غلام جیلانی، اسلم آبی۔ امیربننے کی خواہش رکھنے والی ماجدہ۔ ڈھلوں صاحب کا کردار بہت جاندار تھا جس نے غلام جیلانی کو اپنے سیاسی مخالفین کو قتل کرنے پر مجبور کیا۔ بعد میں وارث ڈرامہ دیکھا تو چوہدری حشمت اور ڈھلوں صاحب ایک جیسے کردار دکھائی دیئے۔ گمراہ نے بہت سوں کو اپنا دیوانہ بنا رکھا تھا۔

لیکن۔۔۔ کرکٹ سیریز روز نہیں ہوتی تھیں اور جاسوس و سسپنس مہینے میں ایک بار ہی چھپتے تھے۔ تو ہم مزید تفریحات کی تلاش میں سرگرداں رہتے۔ ان دنوں زور ہوا وی سی آر پر فلمیں دیکھنے کا۔ کلر ٹی وی ہر گھر میں نہیں ہوا کرتے تھے اور نہ وی سی آر گھروں میں عام تھے۔ ٹی وی کی تو گنجائش بن چکی تھی لیکن وی سی آر گھر میں لانا ایک انتہائی غیر اخلاقی کام سمجھا جاتا تھا۔ یار لوگ چادر میں چھپا کر رات کے اندھیرے میں وی سی آر کرائے پر لاتے۔ صبح چھپ چھپا کر واپس کرنے کی کوشش کی جاتی۔

ایک بار ہمارے ایک دوست کی فیملی کہیں گئی تو دوستوں کا پروگرام بنا کہ وی سی آر لا کر فلمیں دیکھی جائیں اور رت جگا منایا جائے۔ مقامی دکان سے وی سی آر و کلر ٹی وی لینے گئے تو اس نے بتایا کہ اس کے پاس دو سیٹ ہیں اور دونوں کرائے پر جا چکے۔ ہم پر اتنا جنون سوار تھا کہ ہم خوشاب جانے والی بس پر بیٹھ کر خوشاب چلے گئے۔ وہاں اپنا سٹوڈنٹ کارڈ رکھ کر وی سی آر اور کلر ٹی وی مع چار بھارتی فلمیں کرایہ پر لیں اور خوشی خوشی دوست کے گھر پہنچ گئے کہ بڑا معرکہ سر کیا ہے۔ اپنے گھر سے بہانہ بنا کر غائب ہوئے۔ رات کو فلمیں دیکھیں، میں نے امیتابھ بچن کی فلم نصیب دیکھی۔ فلم بہت اچھی لگی۔ خاص طورپرجب ہیما مالنی شترو گھن سنہا کو چھوڑ کر امیتابھ کے ساتھ چلی جاتی ہے اور پس منظر میں یہ گانا دوبارہ پلے ہوا کہ دل کی گلی سے بچ کر گزرنا، یہ سوچ لینا پھر پیار کرنا عاشقی امتحان لیتی ہے۔۔۔ پہلی بار امیتابھ بچن جیسے لیجنڈ کی فلم دیکھی تھی۔ پھر بہت عرصے تک جب بھی وی سی آر پر فلم دیکھنے کا موقع ملا امیتابھ ھی پہلی چوائس رہا۔ خیر جب صبح ہوئی اور وی سی آر اور ٹی وی واپس کرنے کا وقت آیا تو ہماری اور ایک دوسرے دوست کی ڈیوٹی لگی کہ جا کر واپس کر آو۔ بسوں میں سفر کرنا کوئی مسئلہ نہیں تھا کہ بھٹو صاحب کی مہربانی سے ہم مفت میں ہی لمبے لمبے سفر کر آتے تھے۔ ہم خوشاب اڈا پر اترے۔ اپنی دھن میں مگن اور میرے نصیب میں تو ہے کہ نہیں پر ہیما مالنی کے رقص کو یاد کر رھے تھے کہ اچانک ایک بندے نے آواز دی۔ باو جی زرا رکنا۔ رک گئے۔ پوچھتا ہے، کہاں سے آ رہے ہو ؟ اپنے شہر کا نام بتایا۔ اس نے پوچھا پرچی لی ہے ؟ ہم نے پوچھا کون سی پرچی ؟ وہ پیچھے مڑ کر آواز لگاتا ہے۔ اوئے شیرے اوئے بگے۔ ایدھر آؤ اوئے۔ ایک دم سے ہمارے آس پاس تین چار مشٹنڈے قسم کے لوگ آ گئے۔ اس بندے نے ان کو بتایا کہ ٹی وی اور وی سی آر لے کر آ رھے ھیں اور پرچی نہیں لی۔۔۔ مشٹنڈوں کے چہرے پر خوشی کے رنگ آ گئے۔ ایک نے سنجیدہ منہ بنا کر کہا، کوئی بات نہیں، لڑکے ہیں پتا نہیں چلا ہو گا۔ دوسرے سے کہتا کہ کتاب نکال اور پرچی بنا دے یاراں گنا کی (گیارہ گنا کی)۔ اس نے فوراً ایک مڑی تڑی سی رسید بک نکالی۔ کان سے پنسل اتاری اور بلند آواز سے حساب کرنے لگا۔ ٹی وی کے دس روپے کی پرچی تھی۔ یاراں گنا ہو گیا 110 روپے، وی سی آر کے بھی ہوئے 110 روپے۔ لو جی باو جی، 220 روپے ھو گئے۔ مشٹنڈا ہمیں کہتا ہے اس کو 220 روپے دے دو۔ ہم اتنے پیسے کہاں سے لاتے؟ ہم نے تو بیس بیس روپے ڈال کر اسی روپے میں وی سی آر اور ٹی وی کرائے پر لیا تھا۔ ہم ایک دوسرے کا منہ دیکھ رہے۔ ایک نے بہت آرام سے میری بغل سے وی سی آر نکال لیا۔ پوچھتا ہے پیسے نہیں ھیں؟ میں نے کہا نہیں ہیں۔ اس نے کہا، کوئی بات نہیں گھر جاو اور لے آو۔ ہم یہیں ہوں گے واپسی پر اپنا سامان لے لینا۔ یہ کہہ کر وہ پرے کو چل دیا۔ وی سی آر کو یوں جاتے دیکھ کر ہمارے ہاتھوں کے تمام طوطے اڑ گئے۔ ہیما مالنی کا خمار ہوا ہو گیا۔ ہم اس کے پیچھے لپکے۔ یار تیری مہربانی گل تے سن، وہ کہے بھائی میں تو ملازم ھوں، وہ مینیجر ہے ٹھیکیدار کا، اس سے بات کرو، ہم کبھی ایک کے پاس جائیں کبھی دوسرے کے پاس۔ بات نہ بن پائی۔ آخر کسی کو رحم آیا، اس نے ہلکی سی سرگوشی کی کہ یار ان کے ہاتھ پر سو پچاس رکھ دو، کہاں ذلیل ہوتے پھرو گے۔ پھر ہم نے وی سی آر والے بندے سے کہا یار اپنے پاس پیسے تھوڑے سے ہیں مہربانی کر دو، اس نے پوچھا کتنے ہیں، میری جیب میں سے تیس روپے برآمد ہوئے، اس نے کہا نہ بھئی، میری نوکری چلی جائے گی، 220 روپے پورے دو، دوست سے پوچھا، اس کے پاس سے 35 روپے نکلے۔ ہم نے وہ پیسے ان کو دیئے۔ کافی منت سماجت کے بعد انہوں نے وہ پیسے پکڑے اور نصیحت کی کہ آئندہ چونگی سے پرچی لے کر آنا۔

جتنی دیر یہ ڈرامہ چلا، کسی بھی مسافر یا پولیس مین نے جو وہاں تین چار پھر رھے تھے ہمارا ساتھ نہیں دیا۔ یہ صدمہ ہمیں بہت عرصے تک یاد رہا۔ جیب سے یوں ناحق 65 روپے نکل جانا ہمیں ڈکیتی محسوس ہوتی تھی۔ پھر ہمیں ان لوگوں پر بھی بہت غصہ آتا تھا جو تماشا دیکھتے رہے لیکن ہماری مدد کو نہ آئے۔ دل ہی دل میں سوچتے تھے کہ اگر کبھی ہم پولیس میں بھرتی ہو گئے تو پھر ان لوگوں کو تھانے لے جا کر وہ سلوک کرنا ہے کہ۔۔۔۔ یہ تلخ یاد کافی عرصہ تک ہمارے ساتھ رہی۔ پھر کچھ عرصے بعد میاں نواز شریف نے محصول چونگی سسٹم ھی ختم کر دیا۔ تو دل کو کچھ سکون ہوا کہ اچھا ہوا ان لوگوں کی بدمعاشی ختم ھو گئی۔ وہ محصول چونگی کے ذریعے چند ارب اکٹھے کرنے کی بجائےہر چیز پر سیلز ٹیکس لگا کر کچھ زیادہ ہی رقم اکٹھا کرنا چاہتے تھے۔ ہم نے اخبار میں دیکھا کہ جس رات محصول چونگی ختم ھوئی، اس رات ڈرائیور حضرات چونگیوں کے سامنے کھڑے ہو کر بھنگڑے ڈالتے رہے اور خوشی کا اظہار کرتے رہے۔ سنا ہے کہ پنجاب حکومت نے پھر سے محصول چونگی کا نظام بحال کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ ایک بار پھر سے بدمعاشی کا دور دورہ شروع ہونے والا ہے تو ہم اپنے ان مجرموں کو معاف کرنے کا اعلان کرتے ہیں۔ کیا پتا کل کلاں کو ہم یا ہمارا بیٹا ان کے چنگل میں پھنسا ہوا ہو۔ تو شاید ہماری یہ نیکی ان کی بدمعاشی سے ہمیں محفوظ رکھے۔ ویسے ہمارا مشورہ یہ ہے کہ اب اگر آپ دوسرے شہر کو جائیں تو اگر آپ کے پاس کچھ سامان ہے تو محصول چونگی کی پرچی ضرور لے لیں۔


Comments

FB Login Required - comments

One thought on “محصول چونگی والے بھائیوں کے لئے معافی نامہ

  • 09-03-2016 at 8:05 pm
    Permalink

    Batsman Kapil nahi bulkay Srikant tha

Comments are closed.