محبت کے نیلے رنگ والا کہانی گو


اس میں کوئی شک نہیں کہ تاریخِ عالم میں انسان نے سب سے زیادہ فیض کتاب سے حاصل کیا ہے۔ اکتساب کے اس سلسلے کا آغاز الہامی کتابوں سے ہوا اوررہتی دنیا تک جاری و ساری رہے گا۔ بدلتی دنیا کے اثرات خواہ کتنے ہی قابلِ ذکر کیوں نہ ہوں، قلم، حرف، لفظ، تحریر اور کتاب کی اپنی ہی ایک اہمیت ہے۔ جو لوگ اس کے عشق میں گرفتار ہیں، کتاب ان کے لیے ایک نشے کے مانند ہے۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ یہ نشہ ان کو سراسر مثبت خوشگواری دیتا ہے۔

گذشتہ دو دہائیوں میں دیکھتے ہی دیکھتے دنیا گلوبل ولیج کا درجہ اختیار کر گئی، انٹر نیٹ اور اس سے وابستہ دل چسپیوں نے موجودہ نسل کے رجحانات کو قدرے تبدیل کر دیا ہے۔ تاہم تیزی سے تبدیل ہوتے ہوئے معاشرے میں قلم قبیلے سے وابستہ افراد کی دلچسپیاں اور خاص رجحانات اب بھی مشترک ہیں۔ ایسے میں خیالا ت ورجحانات پر مشتمل مکالمہ، کتب کا تبادلہ، مختلف اصناف کا مطالعہ، ان دلچسپیوں کو مزید تحریک دیتا ہے۔ بسا اوقات تحاریر کی مدد سے ہی کسی شخصیت کی متعدد پرتیں سامنے آتی ہیں۔ گذشتہ دنوں ایسی ہی دو کتب کے مطالعے سے عمار مسعود کی شخصیت اور فن کو مزید جاننے کا موقع ملا۔

عمار مسعود کی شخصیت کسی تعارف کی محتاج نہیں۔ انور مسعود جیسی قد آور ادبی ہستی کا فرزند ہونا بجائے خود ایک قابلِ فخر حوالہ ہے۔ علاوہ ازیں صحافت اور ٹیلی ویژن پر قابلِ ذکر کردار ادا کرنے کی وجہ سے وہ ایک جانی پہچانی شخصیت ہیں۔ نابیناؤ ں کی بہبود کے متعدد اداروں میں ان کی دلچسپی اور کاوشیں بھی ڈھکی چھپی نہیں۔ موسیقی کی محافل میں باقاعدگی سے شرکت اور اپنے گھر میں دوستوں کی جمگھٹا کرنے والی شخصیت کے طور پر بھی وہ جانے پہچانے جاتے ہیں۔ تاہم زیرِ نظر تحریر ان کی دو تصانیف ” آپ ” اور ”محبت کا نیلا رنگ ” کا احاطہ کرتی ہے۔

“محبت کا نیلا رنگ ” ان کے افسانوں، جب کہ ”آپ ”ان کے شائع شدہ کالموں کا مجموعہ ہے۔ افسانوں کا مجموعہ 2012 ء میں، جب کہ کالموں کا مجموعہ 2017ء کی اشاعت ہے۔ دونوں کتب بہ ظاہر بالکل مختلف ہیں۔ زمانی اعتبار سے، اصناف کے لحاظ سے، طرزِ تحریر میں بھی اور موضوعات کے چناؤ میں بھی۔ تاہم دونوں کتب کو پڑھ کر مجموعی تاثر ایک ہی بنتا ہے اور وہ یہ کہ عمار مسعود بنیادی طور پر ایک کہانی گو ہے۔ اس کی نظریں چہار سمت کسی غیر معمولی کہانی کی تلاش میں رہتی ہیں۔ آپ کی موضوعاتی تقسیم میں ہی مصنف خود ایک طرح سے اس امر کا اعتراف کرتا ہے جب وہ عنوان ”آپ ” کی تشریح سیاست، ثقافت، اور سماج، میری نظر میں ”کرتا ہے“۔

بہ ظاہر تو یہ کالم ہیں لیکن تمام کالم اپنے اندر سماج کے مختلف رنگوں کی کہانیاں لیے ہوئے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مرو جہ کالموں کے برعکس آپ ہر کالم کو پڑھ کر آگے کا سفر اختیار نہیں کر سکتے۔ کالم کی کہانی آپ کو وہیں روک کر، ٹھہر کر، سوچنے پر مجبور کرتی ہے۔ آپ ایک طویل عرصہ کسی بھی کالم کے زیرِ اثر رہ سکتے ہیں۔ یہی نہیں، پھر اس کالم کے کرداروں سے ایک وابستگی، آپ کا مقدر بن جاتی ہے۔ آپ راول پنڈی اسلام آباد کے سفر میں کے سفر میں عمار مسعود کے کالم ”بند مٹھی میں جگنو ” کے کردار وں سے ملنا چاہتے ہیں۔ ٹیلی ویژن کی خبریں ”الحمد اللہ۔ صرف چورانوے بچے اغوا ہوئے ہیں ” کی باز گشت سنا کر روزانہ آپ کو چڑاتی ہیں، ”دہشت گردو، پھر آنا ” کی صدا آپ روز دہرانا چاہتے ہیں۔ کسی بھی فوجی کی وردی دیکھ کر آپ کو ”دھڑکتے دل کا فون ” یاد آنے لگتا ہے۔ غیر قانونی ڈراموں کی تکرار آپ کو ”ایان والا ڈرامہ“ کی جھلکیاں دکھاتی ہے۔ عوام کا دکھ درد اور حکمرانوں کی بے حسی ”شہزادی شہرزاد اور کے پی کے کا شہزادہ ” کی علامتی کہانی سنائے گی۔

درج بالا چند مثالیں ہیں جو ان کالموں سے لی گئی ہیں۔ عمار کے تحریر کردہ نوے فی صد کالم ارد گرد کی دنیا کی کہانیاں لیے ہوئے ہیں۔ یہ عجیب سی بات ہے کہ انہیں خبر میں کہانی نظر آتی ہے۔ اس سے بھی کوئی فرق نہیں پڑتا کہ کہانی پس منظر میں ہے یا پیش منظر میں۔ بکھرتا ہوا سماج اور انسانی قدروں کی گم شدگی ان خبروں کا اصل المیہ ہے۔ مجموعے کے آغاز میں دیا گیا عنوان آپ اس اعتبار سے بامعنی ہے کہ وہ قاری کو مخاطب بھی کرتا ہے اور اسے اپنے موضوع سے بھی جوڑتا ہے۔ البتہ یہ مصنف کی کامیابی ہے کہ پیشہ وارانہ ذمہ داریوں کو ایک الگ روپ میں ادبی چاشنی سے ہم آہنگ کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عمار مسعود کے کالم پیشہ ورانہ صحافتی کالموں سے جدا ادب کی وہ خاصیت رکھتے ہیں، جسے آفاقیت کہا جا تا ہے۔ اِکا دکا کے علاوہ ان کا کوئی کالم ایسا نہیں جو کسی خاص زمانے تک محدود ہو۔ سیاست، ثقافت اور سماج کے متعدد رنگوں سے جڑی کہانیاں اور کردار تمام کالموں میں واضح ہیں۔

ایک اور خاصیت جو ان کالموں میں بین السطور ملتی ہے، وہ سماجی نا ہمواریوں کے خلاف احتجاج ہے۔ ہنستا کھیلتا عمار مسعود، سماجی نا انصافیوں کی نشان دہی کے دوران ایک پر احتجاج مصنف کا دو شالا اوڑھ لیتا ہے اور اس کے قارئین کو بھی اس دو شالے کی نکر میں کہیں نہ کہیں پناہ لینا ہی پڑتی ہے۔ وہ اس لیے کہ وہ نا انصافی، ناہمواری، دکھ، درد اور تکلیف سبھی کو یکساں متاثر کر رہی ہے۔ کسی ایک کہانی کا بیان دراصل صرف اسی کہانی کا بیان نہیں ہوتا، بلکہ یہ اس جیسی سینکڑوں کہانیوں کی تمثیل ہوتی ہے۔

ان کے اسی منفرد رویے نے مجیب الرحمٰن شامی کو یہ کہنے پر مجبور کر دیا کہ:
”وہ گلا پھاڑ کر اپنے وجود کا احساس دلانے پر یقین نہیں رکھتے۔
ان کی انفرادیت اپنے استدلال سے دلوں کو چھوتی ہی نہیں،
ان میں گھر بھی کر لیتی ہے“۔

موجودہ زمانے کی مروجہ صحافت میں یہ اندازقاری کو چونکا دیتا ہے کہ یہ کس قسم کا صحافیانہ رویہ ہے۔ اور سچ پوچھیے تو کبھی کبھی ان کے کالم پڑھ کر غصہ آنے لگتا ہے کہ ان کالموں کے اندر وہ چیخیں، وہ المیے کیوں ہیں جو ہمارے دل کو فگار کرنے لگتے ہیں۔ یہ سب تو صحافت میں نہیں ہوتا۔ یہی وہ مقام ہے، جب قاری سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ ایک صحافی کا کالم ہے یا ایک ادیب کا تخلیق کردہ ادب پارہ؟

اعلیٰ ادب کی تعلیم و ترویج کے مواقع عمار مسعود کو اپنے گھر میں ہی میسر آئے کیونکہ ان کے والدین ادب کے اساتذہ ہونے کے ساتھ ساتھ مطالعے کا بہترین ذوق رکھتے تھے۔ مطالعے کی یہ چھاپ عمار کی تحریروں میں یہ خوبی نظر آتی ہے۔

کالموں کے علاوہ اگر ”محبت کا نیلا رنگ ”میں موجود افسانوں پہ بات کی جائے تو رمز و ایما میں لپٹی ہوئی کہانیاں افسانے کی مخصوص ضرورت کو پورا کرتی ہیں۔ اس مجموعے میں روایتی نہیں بلکہ علامتی افسانے کثرت سے ملتے ہیں۔ پہلی قرات میں افسانے کی ایمائیت نہیں کھلتی۔ بسا اوقات یہ رمز قاری کو خودہی اخذ کرنی پڑتی ہے۔ جس کی بہترین مثال ان کا افسانہ ”محبت کا نیلا رنگ ” ہے۔

اس کے برعکس کہیں کہیں کہانی کے آخری جملے کو انتہائی معنی خیزی سے استعمال کرتے ہوئے وہ افسانوی پہیلی کا راز افشا کر دیتے ہیں۔ مثلاً
فرق صرف اتنا ہوتا ہے کہ پیرنٹ کارڈ سے ہی سپلیمنٹری کارڈ کی حد کا تعین ہوتا ہے

مذکورہ مجموعے کے افسانوں میں سوالیہ رنگ نمایاں ہے۔ تقریبا ہر افسانے میں الجھنوں، سوالات، اور پہیلیوں کی موجودگی، دراصل افسانہ نگار کے ذہن و دل کے سوالات کو سامنے لاتی ہے۔ افسانہ نگار کے فن کا کمال یہاں نمایاں نظر آتا ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ ضروری نہیں کہ یہ سب الجھنیں سوالات کی شکل میں ہی تحریر کی جائیں۔ بہ ظاہر عام سے جملے بڑے بڑے سوالات کو سامنے لاتے ہیں۔ چند مثالیں دیکھیے:
”کبھی کبھی جی چاہتا ہے خوب بھاگوں، دوڑوں، مگر بلندی سے گرنے کا خوف
رہتا ہے، بعض خوف کتنے عجیب ہوتے ہیں“۔

یا پھر:
”محبت ایک تکون میں کیوں سفر کرتی ہے۔ سب کنارے آپس میں مل کیوں نہیں جاتے؟
ایک دفعہ کے بعد دل کا سارا علاقہ کسی اور کے نام کیوں نہیں ہو جاتا؟ “

کہیں یہ انداز کہ:
”پتہ ہے، بعض لمحے کتنے غضب کے ہوتے ہیں“
یہ سوال دیکھیے:
”کوئی تو ایسا واقعہ ہو گا، جس سے سب واقعے جڑے ہوئے ہیں۔ “

یہ وہ عمومی سوالات ہیں جو کم و بیش ہم سب کو درپیش ہیں۔ لیکن اظہار کی پری سب پہ مہربان نہیں ہوتی۔ عمار مسعود اس لحاظ سے خوش قسمت ہیں کہ کہانی کے اظہار کی پری نے اپی مہربان چھڑی سے ان کو چھوا اور اس اعجاز سے ان کے قلم کو یہ کہانیاں عطا ہوئیں۔ خود عمار کو بھی اس شرف کا احساس ہے۔ دیباچے میں تحریر کرتے ہیں کہ:

”کبھی کسی روشن لمحے میں جب کوئی کہانی پورے وفور کے ساتھ لوحِ دل پر چمکتی ہے
تو یہ لمحہ کہانی کار کے لیے معراج کا ہوتا ہے۔ ایسے میں ہنر باعثِ افتخار نہیں ہوتا۔
اس کی ساری سرشاری اپنے انتخاب پر ہوتی ہے۔ جب کوئی بڑی کہانی، کسی کہانی کار کو
اظہار کے لیے منتخب کرتی ہے تو میں سمجھتا ہوں یہ اس شخص پر کہانی کا احسان ہوتا ہے۔ “
سو، عمار مسعود پر کہانی کا یہ احسان ہے کہ وہ اپنی پوری طاقت سے اس پر اترتی ہے۔

جو لوگ انہیں ایک صحافی، ٹیلی ویژن میزبان، تجزیہ کار اور افسانہ نویس کے علاوہ دوست کی حیثیت سے جانتے ہیں، انہیں یہ بھی علم ہے کہ وہ شدومد سے کہانی کی تلاش میں رہتے ہیں۔ ہنستے کھیلتے عمار کی آنکھوں میں اپنے ارد گرد کی کہانیوں کی یہ تلاش واضح نظر آتی ہے۔ اور جس لمحے کسی واقعہ، کردار، مکالمے، سوال یا حادثے میں اس کہانی کی جھلک نظر آئے، وہ اسے اچکنے میں دیرنہیں کرتے۔ پھر اس ایک خاص لمحے کو کہانی میں ڈھال لینے کا فن وہ بہ خوبی جانتے ہیں۔ بات خواہ سیاست کی ہو یا سماجی ناہمواریوں کی، اس کی تہہ تک اتر جانا انہیں خوب آتا ہے۔ یہ خاصیت ان کے مشاہدے کی ہے کہ وہ اسے کس خاص ڈھنگ سے پیش کرنا چاہیں، کسی کالم میں یا کسی افسانے میں۔ یہ ضرور ہے کہ وہ تحاریر کی کامیابی کے لیے بجا طور پر کہانی کا سہارا لیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے اپنے درج بالاتجزیے میں، میں اس صحافی کو بھی کہانی گو کہنے پر مجبور ہوں۔ حالانکہ ایسے فن کار کہانی کار کہلائے جانے چاہئیں۔ یہ ان کے فن کی فطری خوبی ہے کہ من گھڑت کہانی بھی اصلی معلوم ہوتی ہے اور ایسی اثر انگیز کہانی کہنے والے کو کہانی گو کہنا ہی زیادہ مناسب ہو گا۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

ڈاکٹر عظمیٰ سلیم کی دیگر تحریریں
ڈاکٹر عظمیٰ سلیم کی دیگر تحریریں