بوڑھی قیادت سے چھٹکارا پانا ہی ہو گا


ملک کا ہر ذی شعور شخص اس بات کا قائل ہو چکا ہے کہ وطن عزیز کو اب نوجوان قیادت ہی ترقی کی راہ پر ڈال سکتی ہے۔ بوڑھی سوچ سے نئی تبدیلی آنا ممکن نہیں ہے۔ ویسے بھی سو بار آزمائے ہوئے کو مزید آزمانے کا کیا فائدہ۔

عمران خان صاحب بھی متعدد بار اسی معاملے پر روشنی ڈال چکے ہیں کہ ملک میں تبدیلی چاہیے اور نئے پاکستان کی خواہش ہے تو پھر نوجوانوں کو قیادت دینی ہو گی۔ ہم بھی متفق ہیں اور اس معاملے پر غور کرتے ہوئے ہم نے وطن عزیز کی آٹھ اہم پارٹیوں کی قیادت کا جائزہ لیا ہے۔

پہلے نمبر پر اے این پی کے اسفندیار ولی آتے ہیں۔ ان کی تاریخ پیدائش 19 فروری 1949 ہے اور وہ اس وقت 68 برس کے ہیں۔ یعنی ان کے نام پر غور کرنا بالکل بھی ممکن نہیں ہے۔

دوسرے نمبر پر مسلم لیگ نواز کے میاں نواز شریف آتے ہیں۔ ان کی تاریخ پیدائش 25 دسمبر 1949 ہے اور عمر 67 برس ہے۔ یہ ٹھیک ٹھاک بزرگ ہیں۔ ان سے نجات پانا ہی مناسب ہے۔

تیسرے عمر رسیدہ ترین لیڈر 6 نومبر 1950 کو پیدا ہونے والے عوامی مسلم لیگ کے سربراہ 66 سالہ شیخ رشید ہیں۔ یہ ہرگز بھی نوجوان نہیں ہیں۔ ان کو جس قدر جلد ممکن ہو سیاست سے ریٹائر کر دیا جانا چاہیے۔

اگلا نمبر آتا ہے 6 اکتوبر 1952 میں پیدا ہونے والے 64 سالہ عمران خان کا جو تاریخ انصاف کے چیئرمین ہیں۔ یہ بھی کچھ بوڑھے ہیں۔ ان کو بھی قیادت کا حق نہیں ہے۔ ملک کو نوجوان قیادت کی ضرورت ہے۔

پانچویں سیاست دان ان سب کے مقابلے میں کم عمر ہیں۔ 19 جون 1953 کو پیدا ہونے والے جمیعت علمائے اسلام کے 64 سالہ مولانا فضل الرحمان خوب چاق و چوبند ہیں مگر ہیں تو بوڑھے ہی۔ ان کے نام پر غور کرنا بیکار ہے۔

چھٹے نمبر پر ایم کیو ایم کے شعلہ بداماں الطاف حسین آتے ہیں جو 17 ستمبر 1953 کو پیدا ہوئے اور اس وقت ان کی عمر 64 برس ہے۔ ان کو بھی بڑھاپے نے تنگ کیا ہوا ہے۔

ساتویں نمبر پر پاکستان پیپلز پارٹی کے سب سے بھاری صدر آصف علی زرداری آتے ہیں جو صرف 62 برس کے ہیں۔ وہ 26 جولائی 1955 کو پیدا ہوئے تھے۔ مگر سننے میں آیا ہے کہ ان کو بھی طرح طرح کے امراض نے گھیرا ہوا ہے۔

اب ہمارے پاس ایک ہی اہم سیاستدان بچتے ہیں جو ساٹھ کے پیٹے میں نہیں ہیں۔ ساٹھ سے زیادہ عمر کے لوگوں کو دیسی دانش سٹھیایا ہوا کہتی ہے جس کا ہرگز بھی کوئی اچھا مطلب نہیں نکلتا۔

تو اے میری قوم۔ اگر تمہیں ایک ایسا لیڈر چاہیے جو ساٹھ کے پیٹے میں نہ ہو کہ کوئی اس کے دماغ پر محاورے کے ذریعے تہمت دھر پائے، کسی بڑی پارٹی کی قیادت کرتا ہو، خوب دانا بینا اور صالح ہو، تو پھر تمہارے پاس ایک ہی چوائس بچتی ہے۔ اور وہ ہے صرف 55 سال کی عمر والا اور 5 ستمبر 1962 کو پیدا ہونے والا امیر جماعت اسلامی سراج الحق۔

آپ کو شاید یاد ہو گا کہ سراج الحق صاحب نے ہی پاناما کا کیس کر کے نواز شریف کو تخت سے اتارا تھا۔ یعنی سپریم کورٹ کے مطابق مافیا کے گاڈ فادر سے ملک کو اسی عظیم امیر نے نجات دلائی ہے۔ قوم کو چاہیے کہ سراج صاحب کی نوجوان قیادت کو ہی اپنا نجات دہندہ تصور کرے۔

یا پھر بالکل اصلی والی نوجوان قیادت چاہیے تو ایک ہی شخص دکھائی دیتا ہے۔ وہ ہے پاکستان پیپلز پارٹی کا 28 سالہ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری جو 21 ستمبر 1988 کو پیدا ہوا تھا۔ سو آئندہ آپ کو نوجوان قیادت کی ضرورت محسوس ہو تو زور سے نعرہ بلند کریں: نعرہَ بھٹو جیے بھٹو۔ ورنہ آپ مختار ہیں، اِسی ساٹھ کے پیٹے والی قیادت پر اعتماد کر لیں۔

 


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 666 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar