نواز شریف بمقابلہ…….؟


آج لاہور میں زور کا الیکشن ہورہا ہے، مسلم لیگ (ن) کی امیدوار بیگم کلثوم نواز ہیں جو بدقسمتی سے بیمار ہوگئی ہیں، مگر کسی کے بیمار ہونے سے کسی کی قربانیوں اور جدوجہد کو فراموش نہیں کیا جاتا۔ ان کی انتخابی مہم مریم نواز چلارہی ہیں اور وہ خود بھی جنرل پرویز مشرف کے دور میں صعوبتیں برداشت کرچکی ہیں۔ آج جنرل پرویز مشرف آرام سے بیرون ملک بیٹھے ہیں؟ عدالت نے ان کے وارنٹ جاری کئے ہوئے ہیں، مگر شریف خاندان ایک بار پر اسی ابتلاء سے گزر رہا ہے جس ابتلاء سے وہ جنرل پرویز مشرف کے دور میں گزرا تھا، مگر اس دفعہ سپریم کورٹ اپنا فرض اولین نبھارہی ہے ، کورٹ نے نواز شریف کو ایم این اے کی شرائط پوری نہ ہونے پر سزا سنادی ہے اور بہت تیزی کے ساتھ ان کی اپیلیں بھی مسترد کردی ہیں۔

دوسری طرف عمران خان کے وارنٹ الیکشن کمیشن نے جاری کئے ہیں اور ان کی گرفتاری کا حکم بھی دیا ہے لیکن دوسرے اداروں کی طرح وہ اسے بھی دھمکارہے ہیں اس وقت عمران خان یہ تاثر دے رہے ہیں کہ آرمی چیف بھی ان کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔ سپریم کورٹ بھی ان کابال بیکا نہیں کرسکتی۔ نیب اس کے سامنے کیا چیز ہے اور الیکشن کمیشن تو کسی گنتی میں نہیں آتا۔ موصوف یہ سمجھ رہے ہیں کہ شاید ان کے حق میں سب فیصلے ان کی بلیک میلنگ کی وجہ سے ادارے کررہے ہیں، مگر آج میری یہ بات نوٹ کرلیں کہ ’’چار دن کی چاندنی ہے ، پھر اندھیری رات ہے‘‘ والے مصرعے کا مصداق عمران خان ہی ہے، موصوف کے ساتھ بہت بری ہوئی، عوام کی نظروں سے تو وہ ایسے گر چکے ہیں اگر ان کے کوئی والی وارث ہیں تو وہ بھی جان چکے ہیں کہ یہ شخص اتنا’’سادہ لوح‘‘ (اصل لفظ آپ خود ذہین میں لے آئیں) ہےکہ یہ اپنے ساتھ انہیں بھی لے ڈوبے گا، چنانچہ موصوف اس وقت صرف اسی طرح استعمال ہورہے ہیں جس طرح بعض دوسری’’چیزیں‘‘ شرعی یا غیرشرعی طور پر استعمال ہوتی ہیں اور پھر استعمال کے بعد کسی ایسی جگہ پھینک دی جاتی ہیں جہاں بچوں کی نظر نہ پڑے۔

بیگم یاسمین راشد تحریک انصاف کی ا میدوار ہیں، ظاہر ہے ڈگری ہولڈر تو ہیں لیکن’’ صحبت طالع ترا طالع کند‘‘ کے مصداق وہ بھی عمران خان کی زبان بولنے لگی ہیں،اس طرح کی زبان جس طرح بعض نام نہاد گائنا کالوجسٹ کے پاس آنے والی بعض لاوارث ٹائپ خواتین بولتی ہیں۔ بات یہ ہے کہ میری عمر کے74برسوں میں سے65برس لاہور کے گلی کوچوں میں گزرے ہیں، میں ماڈل ٹائون میں رہتا رہا ہوں، اقبال ٹائون میں بھی رہا ہوں ، ان دنوں ای ایم ای میں قیام پذیر ہوں مگر پرانا لاہور میرے اندر رہتا ہے، میں نے اپنے اس لاہور کے بارے میں بہت کچھ لکھا ہے، ٹی وی کے لئے ڈرامہ سیریل لکھے ہیں، کالموں کی سیریز لکھی ہیں اور یوں لاہوریوں کو اندر باہر سے پہچانتا ہوں، یہ اپنے محسنوں کو کبھی نہیں بھولے، تاہم یہ صرف لاہور یوں کا خاصہ نہیں ہے پاکستانی قوم اپنے محسنوں کی ہمیشہ احسان مند رہتی ہے، چنانچہ مسلم لیگ (ن) نے میاں نواز شریف کی قیادت میں پاکستان کی فلاح و بہبود اور ترقی کے لئے جو کچھ کیا ہے وہ نہ پاکستانی قوم اور نہ تاریخ بھلا سکے گی اور ان دنوں ان کی جماعت جن منصوبوں پر کام کررہی ہے وہ تکمیل کی صورت میں پاکستان کو ترقی یافتہ ممالک کی صف میں کھڑے کریں گے اور یہی وجہ ہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلوں پر پاکستان کے علاوہ دنیا بھر کے قانون دانوں اور انٹرنیشنل میڈیا کے بڑے حصے میں منفی ردعمل دیا ہے۔ پاکستانی قوم کو ایک چیز واضح طور پر نظر آرہی ہے کہ فیصلہ کرنے والوں کی نیت جو بھی ہے اس کے نتائج ملک و قوم کے لئے بھیانک ثابت ہوں گے۔

باقی ایک بات نواز شریف کے بارے میں یاد رکھیں، وہ اپنے خدا کے سوا کسی کے سامنے سر جھکانے والا نہیں ہے، ورنہ وہ اپنی تین حکومتیں کبھی نہ گنواتا۔ وہ وزیر اعظم ہائوس پر اڈیالہ جیل کو کبھی ترجیح نہ دیتا۔ وہ آج بھی لڑے گا اور آخری سانس تک لڑے گا۔
تاہم چلتے چلتے ان کے’’دوستوں‘‘ کے لئے’’میری خبر‘‘ اور وہ یہ کہ ان کی ایک بڑی خواہش نواز شریف کے اجلے دامن پر کرپشن کی کالک ملنا تھی اور وہ اس میں بری طرح ناکام ہوئے۔ میں نے ایک پتیلے میں قورمہ بیچنے والوں کو سات آٹھ برسوں میں ارب پتی ہوتے دیکھا ہے اور یہ خاندان ستر برس سے ایک صنعتی ایمپائر کا مالک ہے۔ آپ کو اس کے ارب پتی ہونے پر اتنی حیرت اور اتنی تکلیف کیوں ہے؟


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔