اب میں بولوں کے نہ بولوں: اداکار افتخار قیصر چلے بسے


پاکستان ٹیلی ویژن پر چالیس سال تک اداکاری کے جوہر دکھانے والے پرائڈ آف پرفارمنس اداکار افتخار قیصر اتوار کو چلے بسے۔

وہ شدید علیل تھےاور لیڈی ریڈنگ ہسپتال میں زیرِ علاج تھے۔

ان کے بیٹے حاجب حسنین نے بتایا کہ انھیں ذیابیطس اور بلڈ پریشر تھی جس کے بعد انہیں کچھ روز قبل برین ہیمرج بھی ہوا تھا۔

افتخار قیصر پاکستان ٹیلی ویژن پشاور سینٹر پر اپنا مقبول پروگرام ہندکو زبان میں پیش کیا کرتے تھے اور اسی طرح ’اب میں بولوں کے ناں بولوں‘ ان کا انتہائی مقبول پرواگرام رہا ہے۔

افتخار قیصر کے بیٹے کے مطابق 13 گھنٹوں تک سٹریچر پر کھلے آسمان تلے پڑے رہنے کے بعد جب سوشل میڈیا پر اس حالت میں ان کی ویڈیو وائرل ہوئی تو ذرائع ابلاغ کے نمائندے وہاں پہنچے۔

صوبائی وزیر صحت شہرام ترکئی نے بھی ذرائع ابلاغ پر خبر آنے کے بعد نوٹس لیا، جس کے بعد افتخار قیصر کو آئی سی یو میں داخل کیا گیا تھا۔

افتخار قیصر کے رشتہ دار اور سینیئر ورسٹائل ادارکار عشرت عباس کے بقول وفاقی وزیر مملکت مریم اورنگزیب نے انھیں اسلام آباد بلایا تھا جہاں ان کا علاج کیا گیا لیکن چند روز بعد وہ واپس آگئے تھے۔

انھوں نے کہا کہ موجودہ تحریک انصاف کی حکومت نے پانچ سو فنکاروں کو آٹھ ماہ تک 30 ہزار روپے ماہانہ وظیفہ دیا لیکن اس کے بعد روک دیا گیا تھا۔

image_pdfimage_print

Comments - User is solely responsible for his/her words

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 3735 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp