کیکر کے پھول اور آٹھ مارچ 


mujahid mirzaتہوار کا مطلب ہے خوشی کا موقع مثلا~ روس کی مساجد میں خطیب جمعہ کے روز کو مسلمانوں کے لیے تہوار کا دن بتاتے ہیں مگریہ دن یہاں کے پراسلاوین عیسائیوں کے لیے تہوار کا دن نہیں ہوتا۔ اتوار کو روسی زبان میں وسکرسینیا کہا جاتا ہے یعنی جس روز بائبل کے مطابق عیسٰی پھر سے زندہ ہو کر ایک روز کے لیے اپنے حواریوں میں لوٹے تھے، شکر ہے اسے عیسائی خطیب تہوار کا دن نہیں کہتے، اگر ہوتا، اوّل تو تاتار اور روس میں مقیم باقی نسلوں کے مسلمانوں کے لیے یہ تہوار کا دن نہ ہوتا کیونکہ قرآن کے مطابق عیسٰی فوت نہیں ہوئے تھے بلکہ زندہ آسمان پر اٹھائے گئے تھے چنانچہ زندہ پھر سے زندہ نہیں ہوتا۔ اسی طرح عید بقرعید ہندووں کے لیے تہوار نہیں اور ہولی دیوالی مسلمانوں کے لیے تہوار نہیں ہوتے۔ یہ اور بات کہ دوسرے مذہب کے دوستوں کے ساتھ مل کر ان کے تہوار کو منا لیا جائے مگر ایسے لوگ بھلا کتنے ہونگے، اعشاریہ صفر صفر یا شاید ایک اور صفر فیصد۔ مطلب یہ ہے کہ کوئی تہوارجب تخصیصی گردانا جائے تو وہ اجتماعی نہیں رہتا۔ اب اس بات سے اگر کوئی چاہے تو اختلاف کر لے، اس کا کیا بگاڑا جا سکتا ہے۔

آج 8 مارچ تھا۔ کم از کم روس میں نئے سال کے تہوار کے بعد دوسرا بڑا تہوار لیکن یہ ہے خالصتاً عورتوں سے منسوب، تاہم اسے سوویت یونین کے بطن سے آزادی پانے والے روس نے گذشتہ چند برسوں سے “خواتین کے عالمی دن” کی بجائے ” بہار اور کنبے کا دن” قرار دے دیا ہوا ہے۔ وجہ ظاہر ہے کہ اس تہوار کو عورتیں تو خیر جتنا مناتی ہیں مناتی ہیں لیکن مرد ان سے بڑھ چڑھ کر مناتے ہیں۔ ان کی جیبیں بھی خوب خالی ہوتی ہیں اور معدے و دماغ بھی خوب خراب ہوتے ہیں۔ روس کے مردوں اور 8 مارچ پہ بعد میں آتے ہیں، پہلے مختصراً آٹھ مارچ کی تاریخ پر نظر ڈال لی جائے۔

اگست 1910 میں ڈنمارک کے شہر کوپن ہیگن میں سوشلسٹوں کی دوسری انٹرنیشنل کے ضمن میں پہلی بین الاقوامی خواتین کانفرنس ہوئی جس میں جرمن سوشلسٹ لوئس زیٹز نے تجویز دی کہ عورتوں کا ایک عالمی دن ہونا چاہیے، سوشلسٹ ساتھیوں نے ساتھ دیا اور بعد میں کمیونسٹ رہنما کلارا زیٹکین نے بھی اس تجویز کی حمایت کر دی۔ کوئی تاریخ مقرر نہیں کی گئی تھی البتہ 17 ملکوں کی ایک سو عورتوں نے عورتوں کے لیے مساوی حقوق بشمول ووٹ دینے کے حق کو آگے بڑھانے پر اتفاق کیا تھا۔ اگلے برس 19 مارچ کو آسٹریا، ڈنمارک، جرمنی اور سوئیٹزرلینڈ میں دس لاکھ سے زیادہ لوگوں نے عورتوں کے بین الاقوامی دن کے طور پر منایا۔ 1913 میں روس کی عورتوں نے فروری کے آخری ہفتے کے روز کو عورتوں کے عالمی دن کے طور پر منایا تھا۔ 1914 کو اتفاق سے اتوار کے روز 8 مارچ تھا جب یہ دن منایا گیا تھا، اس کے بعد سے 8 مارچ کو ہی یہ دن منایا جانے لگا تھا۔ مئی 1965 میں سپریم سوویت کے پریزیڈیم نے سوویت یونین کی مزدور عورتوں کی بے مثال محنت کے اعزاز میں اس روز کو یوم تعطیل قرار دے دیا تھا۔ 1977 میں اقوام متحدہ نے 8 مارچ کو عورتوں کے حقوق اور عالمی امن کے لیے اقوام متحدہ کا دن قرار دے دیا، جس کے بعد اس دن کو مغربی ملکوں اور ایسے ملکوں میں بھی منایا جانے لگا جہاں سوشلسٹ یا کمیونسٹ نظام نہیں تھا۔ مجھے ذاتی طور پر اس دن کے بارے میں ایک عرصے تک معلوم نہیں تھا۔ غالباً 1986 میں کراچی میں انجمن ترقی پسند مصنفین کی گولڈن جوبلی کی تقریبات تھیں۔ ایک سیشن کے دوران جب میں ہال میں داخل ہونے لگا تو ہال کے دروازے پر چند نوجوان پھول لیے کھڑے تھے اور ایک ایک پھول دے رہے تھے۔ میں نے بھی ہاتھ بڑھا دیا تو خوبرو نوجوان نے بتایا کہ پھول آپ کے لیے نہیں بلکہ خواتین کے لیے ہیں چونکہ آج عورتوں کا عالمی دن ہے۔ یہ نوجوان اظہر عباس تھا جو آج الیکٹرونک میڈیا کی جانی پہچانی شخصیت ہے۔

تو ہم بات کر رہے تھے کہ روس میں مردوں کی جانب سے عورتوں کے اس مقبول ترین تہوار کو منائے جانے کی تاریخ 102 سال پرانی ہے۔ آج کے روز پھول اور پھولوں کے گلدستے خواتین کی نذر کیے جاتے ہیں۔ ڈنر دیے جاتے ہیں۔ کنسرٹ ہوتے ہیں یعنی باقاعدہ تہوار منایا جاتا ہے۔ لیکن 8 مارچ کے بعد ان عورتوں کو پورا ایک سال مردوں کی خدمت میں بتانا ہو گا۔ آج مرد پی پی کر  شاید ہی کل دفتر یا کام کی دوسری جگہوں پر جانے کے قابل ہو سکیں گے۔

عموماً سمجھا جاتا ہے کہ مغرب کی عورت مشرق کی عورتوں کی نسبت بہت آسائش میں ہے۔ آسائش ظاہر ہے معاشی نظام کی مرہون منت ہوتی ہے۔ اگر ملک کے معاشی حالات بہتر ہیں تو لوگوں کے بھی معاشی حالت بہتر ہوں گے۔ مغرب میں بلا تخصیص مرد اور عورت کو بچپن سے ہی اپنے اپنے کام کرنے کی تربیت دی جاتی ہے لیکن چاہے جو بھی ہو عورت اسی طرح ماں اور بیوی ہے جیسے کہیں بھی ہوتی ہے چنانچہ گھر کے بیشتر کام خود کرنے سے زیادہ مطمئن ہوتی ہے۔ یوں مغرب کی عورت گھریلو کاموں کے ساتھ ساتھ دفتر کے کام یا معیشت سے وابستہ دیگر کام بھی کرتی ہے۔ بچوں کو بھی سنبھالتی ہے اور بہت سے مردوں کی شراب نوشی، آوارہ گردی اور بعض اوقات مارپیٹ بھی برداشت کرتی ہے۔ یہ خبائث ان گھروں میں ہوتے ہیں جہاں مایا دیوی نہیں ہوتی۔

8  مارچ کے بعد پدرسری نظام نہ تو مادر سری نظام میں بدلے گا اور نہ ہی دنیا جنس کی تخصیص سے مبرا ہوگی۔ بس ایک خوشی کا دن ایک مرد نے سوچا تھا اور دوسرے مردوں اور عورتوں کے ساتھ ساتھ ایک اہم خاتون نے اس سوچ کا ساتھ دیا تھا جس کی وجہ سے یہ دن مغرب کی بجائے سوویت یونین میں زیادہ منایا جانے لگا تھا لیکن یاد رکھیے کہ اقوام متحدہ کا کہا اپنی جگہ لیکن جس ملک میں اس ملک کو منائے جانے کی تاریخ سب سے زیادہ پرانی ہے وہاں اس روز کو ” بہار اور کنبے کے دن” کے طور پر منایا جاتا ہے۔ میری بیوی جو بلا شبہ خاتون ہے ( کوئی ہم جنس پرست معاشرے کے چکر میں نہ پڑ جائے کیونکہ روس بہت مردانہ سماج ہے، باوجود اس کے کہ یہاں عورتوں کی تعداد مردوں سے زیادہ ہے) ٹی وی پر کنسرٹ دیکھ کر اس دن کا مزہ لے رہی ہے۔ میں نے بھی اسے کیکر کے پھولوں کا تحفہ دیا ہے۔ حیران مت ہوئیے، یہاں کیکر نہیں ہوتے۔ یہ پھول بہت زیادہ مقدار میں قفقاز سے لائے جاتے ہیں۔ یہ واحد پھول ہیں جن کی بھینی بھینی مہک ہوتی ہے پھر میرا ناسٹلجیا بھی پورا ہوتا ہے کہ میرے بچپن میں میرے گھر کے “ویہڑے” میں جب اپریل مئی کی صبح کو اٹھتے تھے تو بستروں کی چادریں اور زمین زرد مہکدار پھولوں سے پٹے پڑے ہوتے تھے۔


Comments

FB Login Required - comments

2 thoughts on “کیکر کے پھول اور آٹھ مارچ 

  • 10-03-2016 at 2:00 am
    Permalink

    حضرت عیسی کے آسمان پر جانے کا عقیدہ مسلمانوں میں ضرور موجود ہے مگر اس کو قرآن کی طرف منسوب نہ کریں قرآن میں کہیں آسمان کا ذکر نہیں ہے ہاں اللہ کے انہیں اپنی طرف اٹهانے کا ذکر ہے اور ہم سب کع معلوم ہے کہ اللہ صرف آسمان پر محدود نییں ہے بلکہ وہ آسمانوں اور زمین کا نور ہے

    • 10-03-2016 at 6:04 pm
      Permalink

      عربی مجھے نہیں آتی۔ اٹھایا تو اوپر ہی جاتا ہے جیسے گرانا نیچے۔ عرش بھی آسمانوں پر ہی بتایا جاتا ہے۔ سائنس کی رو سے تو آسمان ہیں ہی نہیں، خلاء ہے اور اجرام۔

Comments are closed.