کمزور جمہوریت اور این اے 120


بچپن سے سنتے، دیکھتے آرہے ہیں آمر حکومت کر رہاہو تو سُنا ملک کو خطرہ ہے، جمہوری حکومت ہو تو سننے کو ملتا ہے جمہوریت کے خلاف سازشیں ہورہی ہیں اور اسے خطرہ ہے، کرکٹ میچ چل رہا ہو تو بیٹنگ خطرے میں، الغرض یہ سب چیزیں ہر وقت خطرے میں پائی جاتی ہیں انہیں خطرہ ہے کس سے؟ اس سوال کا جواب ہمیں معلوم ہے اور نہ ہی ہم اس میں عمومی دلچسپی رکھتے ہیں۔ جمہوریت سے یاد آیا، ، ہمارے ملک میں جمہوریت نام کی کوئی چیز نہیں، یہ سب سیاستدان ایک جیسے ہیں، کرپٹ ہیں، اس ملک کا کچھ نہیں ہوسکتا، ہمارے ہاں جمہوریت لنگڑی لولی ہےجس کا کوئی فائدہ نہیں، اسے جمہوریت کہہ بھی نہیں سکتے، جمہوریت دیکھنی ہو تو دیکھیے امریکہ یا یورپی ممالک کو کوئی عوامی نمائندہ کسی مسئلے پر ایوان یا عوام کو مطمئن نہ کرسکے تو اسے گھر کا راستہ دکھا دیا جاتا ہے یہ ہوتی ہے جمہوریت۔ یہ وہ عام عوامی تاثرات ہیں جو کم وبیش ہمارے ملک کے ہر شہری نے اپنی لغت میں جمہوریت کی تعریف میں درج کر رکھے ہیں۔ حالانکہ بیشتر اُن ممالک کی تاریخ سے بے خبر ہیں یا اس پھر جان بوجھ کر خاموش ہیں، جس جمہوری نظام کوہم مثالی اور کامل تصور کرتے ہیں، کتنے سالوں کی ریاضت کا ثمر ہے؟ ہمیں معلوم نہیں، ان کا عوامی رویہ کیا ہے؟ ہمیں معلوم نہیں، ان کی عوام حکمرانوں سے یا ان کی پالیسیوں سے کتنی مطمئن ہے؟ ہمیں یہ بھی معلوم نہیں۔ لیکن ہم دور کی کوڑی لے آتے ہیں۔

ابھی کچھ عرصہ قبل برطانوی وزیراعظم محض اس بات پر مستعفیٰ ہو گئے کہ عوام نے ریفرنڈم میں انہیں نہیں بلکہ ان کے نظریہ کو مسترد کر دیا، ان کا نظریہ بھی بس یہ تھا کہ ہمیں یورپی یونین میں ہی رہنا چاہیے، مگر۔ خیر چند ہی روز میں ان کے مستعفی ہونے سے قبل ہی اسی جماعت کی ایک خاتون کو وزیر اعظم نامزد کر دیا گیا، ان کا بھی خوب ہوا چند ماہ وزارت عظمیٰ پر فائز رہنے کے بعد انہیں اور ان کی جماعت کو خیال آیا کہ قوانین کو موثر انداز میں بنانے اور لاگو کرنے کے لیے انہیں پہلے سے موجود سادہ اکثریت سے بھی زیادہ اکثریت حاصل کر لینی چاہیے (ظاہری وجہ تو ایسی ہی بتائی گئی حقیقت کیا ہے وہ جانیں یا خدا) لہٰذا قبل از وقت انتخابات کا اعلان کرکے آیندہ انتخابات سے دو سال قبل ہی انتخابات کا میدان سج گیا، نتائج آئے تو پتا چلا جتنی نشستیں پہلے تھیں اب ان میں سے بھی آٹھ دس گھٹ چکی ہیں تاہم سادہ اکثریت اور حکومت سازی کے لیے زیادہ دشواری کا سامنا نہیں، پھر سے اسی ٹریسا مئے کو وزیر اعظم بنا دیا گیا۔ ہمارے حکمرانوں کو اس بات پر بھی حیا نہ آئی اور وہ اقتدار سے چمٹے رہے، ابھی گزشتہ سال پانامہ کا شور اٹھا، ہمارے حلق سوکھ گئے یہ بتاتے بتاتے کہ آئسلینڈ کے وزیراعظم اپنا نام پانامہ میں آنے پر مستعفیٰ ہو گئے ہیں یہ ہوتی ہے جمہوریت، ہمارے حکمرانوں کے کان پر جوں تک نہیں رینگی وہ تو بھلا ہو عدالت عظمیٰ کا اس نے حکومت کو خواب غفلت سے بیدار کیا اور وزیراعظم کو گھر بھیج دیا، مجھے کیوں نکالا؟ کی ابتدائی وجوہات توقابل وصول دس ہزار درہم ہیں جو پتا نہیں وصول ہوئے یا نہیں، مزید وجوہات نظر ثانی اپیل کے فیصلے کے مطابق بعد میں بتلائی جائیں گی لہٰذا کہیں مت جائے گا ہم ملتے ہیں آپ سے ایک وقفے کے بعد انگریزی میں ”سٹے ٹیون“، الحمداللہ اس دن کے بعد سے ملک میں چوری، کرپشن ختم ہوچکی ہے، تما م غیر قانونی کام بند ہوچکے قانون کا بول بالا ہے، راوی ہر طرف چین ہی چین لکھ رہا ہے (ویسے تو سکھ چین کے طور پر لکھا ہے لیکن اگر کوئی ہمسایہ ملک کا نام سمجھے تو اس کی منطق سی پیک کو قرار دے کر آگے بڑھ جائے)، یوں سمجھ لیں کے کرپشن کا ہاتھی نکل چکا بس دُم رہ گئی ہے۔ چونکہ ہم نے تین مرتبہ وزیراعظم منتخب ہونے والے شخص کو ابھی نا اہلی کی سزا سنادی ہے فی الحال وہی بہت بڑی ہے، مزید سزاکے لیے بھی سٹے ٹیون۔

نواز شریف کی نا اہلی کے بعد ان کی نشست این اے 120 پر انتخاب 17 ستمبر کو ہو رہا ہے، اس انتخاب کو ایک اہمیت یہ حاصل ہے کہ سابقہ وزیراعظم کا حلقہ ہے، ایک اہمیت یہ ہے کہ وہ تازہ تازہ عدالت اعظمٰی سے نا اہل ہوئے ہیں، یہ حلقہ1998ء کی مردم شماری کے بعد 2002ء کی حلقہ بندیوں کے نتیجے میں این اے 120 کہلایا، اس سے پہلے کی حلقہ بندیوں میں یہ این اے 95 یا 96 کی شکل میں ہوا کرتا تھا، 1985ء سے یہ حلقہ مسلم لیگ نواز اور نواز شریف کا مضبوط قلعہ ہے، 85ء سے اب تک 8 بار انتخابات ہو چکے جن میں 6 مرتبہ خود نواز شریف اور 2 مرتبہ مسلم لیگ نواز ہی کے امیدوار 2002ء اور 2008ء میں بالترتیب پرویز ملک اور بلال یٰسین کامیاب ہوچکے ہیں۔ یہ حلقہ اندرون لاہور پر مشتمل ہے، جس میں گوالمنڈی، اُردو بازار، انارکلی، ہال روڈ، کوپر روڈ، ریگل چوک، مزنگ، لٹن روڈ، مال روڈ واپڈا ہاؤس تک، لوئر مال، بلال گنج، موہنی روڈ، راوی روڈ، کریم پارک، سنت نگر، کرشن نگر، پریم نگر، شام نگر، راج گڑھ، ریواز گارڈن، نیشنل ٹاؤن، ساندہ، چوبرجی اور دیگر علاقے شامل ہیں۔ اس حلقے میں اہم مقامات سول سیکرٹیریٹ، پولیس لائنز، ٹاؤن ہال، سینٹرل پولیس آفس، کمشنر، ڈپٹی کمشنر آفس، ضلع کچہری، لاہور ہائی کورٹ، سٹیٹ بینک، واپڈا ہاؤس، پنجاب اسمبلی، الیکشن کمیشن آفس، وفاقی محتسب اور دیگر شامل ہیں، جبکہ کئی اہم تعلیمی مراکز، سنٹرل ماڈل سکول، کیتھریڈرل، سیکرڈہارٹ سکول، اسلامیہ کالج، ایم اے او کالج، پنجاب یونیورسٹی، اورئینٹل کالج، گورنمنٹ کالج یونیورسٹی، نیشنل کالج آف آرٹس، یونیورسٹی آف وٹرنٹی ایند انیمل سائنسز، یونیورسٹی آف ایجوکیشن اور دیگر شامل ہیں۔ دیکھا جائے تو ان تمام جگہوں کے تناظر میں بھی انتہائی حساس اور اہم حلقہ ہے۔ 17 ستمبر کے اس انتخاب میں چھوٹی بڑی درجن سے زائد جماعتیں جن میں مسلم لیگ نواز، تحریک انصاف، جماعت اسلامی، پیپلز پارٹی اور اس کیکئی اقسام، مسلم لیگ کی کئی اقسام حصہ لے رہی ہیں اور ان کے علاوہ آزاد امیدواروں کی کثیر تعداد بھی انتخابی میدان میں ہے، اس ایک نشست پر اب تک کی اطلاعات کے مطابق 44 امیدوار میدان میں ہیں، اتنے امیدوار کسی عام انتخابات کی تاریخ میں بھی شاید ایک حلقے میں نہ اترے ہوں جتنے اس حلقے کے ضمنی انتخاب میں ہیں۔ کچھ ایسی جماعتیں یا جماعتوں کے حمایت یافتہ لوگ بھی انتخاب لڑ رہے ہیں جو ماضی میں کہا کرتے تھے کہ سیاست میں حصہ نہیں لیں گےیا وہ جو اس نظام کو مانتے ہی نہیں ، خیر اتنی بڑی تعداد میں لوگوں کا انتخاب میں حصہ لینا یہ ظاہر کرتا ہے انہیں جمہوریت پر کچھ یقین تو آ گیا ہے۔ اور یہ غیر جمہوری قوتوں کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔

این اے 120 سے 2002ء میں10 ، 2008ء میں7، 2013ء میں 25 امیدوار اسی حلقے کا انتخاب لڑ چکے ہیں۔ اب ایک نظر ان گزشتہ انتخابات کے نتائج پر ڈالتے ہیں، 2002ء میں مسلم لیگ نواز کُل ڈالے گئے ووٹوں کا ٪ 47 ووٹ حاصل کرکے کامیاب قرار پائی، ٪27 ووٹوں کے ساتھ پیپلزپارٹی دوسرے اور ٪21کے ساتھ مسلم لیگ قاف تیسرے نمبر پر رہی۔ 2008ء میں مسلم لیگ نوازکُل ڈالے گئے ووٹوں کا ٪69 ووٹ حاصل کر کے کامیاب قرار پائی، ٪25 ووٹوں کے ساتھ پیپلزپارٹی دوسرے اور ٪4 کے ساتھ مسلم لیگ قاف تیسرے نمبر پر رہی، 2013 ء کے عام انتخابات میں مسلم لیگ نواز کُل ڈالے گئے ووٹوں کا ٪61حاصل کرکے کامیاب اور ٪35 ووٹوں کے ساتھ تحریک انصاف دوسرے اور ٪2 کے ساتھ پیپلزپارٹی تیسرے نمبر پر رہی۔ 2017ء کے ضمنی انتخاب کے نتائج کے لیے 17 ستمبر کا انتظار ہے، ہمیں معلوم ہے جو بھی امیدوار کامیاب ہوا وہ عدالت عظمیٰ اور اسطبلشمنٹ کو حسب توفیق اچھے اچھے ناموں سے یاد کرے گا، ہماری دعا ہے جو بھی کامیاب ہو ملک اور حلقے کے حق میں بہتر ہو اور جمہوریت یونہی پھلتی پھولتی رہے۔ الہٰی آمین
پاکستان زندہ باد


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

سید محمد نقوی کی دیگر تحریریں
سید محمد نقوی کی دیگر تحریریں