سیاسی محبت بھی اندھی ہوتی ہے


ایک عام شخص کو ہار جیت پر زیادہ خوش یا اداس ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ پیپلز پارٹی کی حکومت آئی تھی تو آپ کی زندگی میں کیا تباہی آ گئی تھی؟ مسلم لیگ ن کی حکومت آ گئی تو کتنا فرق پڑ گیا؟ پختونخوا میں تحریک انصاف کی حکومت نے عوام کو کتنا فرق ڈال دیا؟ آپ کی ذاتی زندگی میں ان کی وجہ سے کیا غیر معمولی بہتری یا بدتری آئی ہے؟ ان سیاسی لیڈروں اور پارٹیوں کی وجہ سے ایک دوسرے سے نفرت مت پالیں۔ اپنے سیاسی لیڈروں سے ہی سیکھ لیں، جیسے وہ آپ میں مل جل کر رہتے ہیں، ویسے ہی مخالفوں سے مل جل کر رہنا سیکھیں۔ اختلاف رائے کا احترام کریں۔ ایک لیڈر اگر لاکھوں ووٹ پاتا ہے تو اچھے الفاظ میں اس کا ذکر محض ان لاکھوں پاکستانیوں کے احترام میں ہی کر دیں جو اسے محبوب جانتے ہیں۔ یہ سوچ لیں کہیں ہماری محبت یا نفرت ہمیں اندھا تو نہیں کر رہی ہے؟ دوسرے کی جیت پر اور اپنی ہار پر ہنسنا سیکھیں اور اپنی جیت پر اعلٰی ظرفی دکھانا۔ آج ایک کی جیت ہوئی ہے تو کل اس کی ہار اور دوسرے کی جیت ہو گی۔

یہ سب حکومتیں تقریباً ایک جیسی ہوتی ہیں۔ انیس بیس کا فرق ہوتا ہے۔ ان کے پاس ایک خاص حد تک ہی طاقت ہوتی ہے۔ ایک خاص حد تک ہی ان کی سیاست ہوتی ہے۔ بدقسمتی سے 1977 کے بعد سے منشور کو کوئی نہیں پوچھتا۔ اب برادری کا ووٹ ہوتا ہے، نظریے کا نہیں۔ پکی سیٹوں والے اب سب پارٹیوں پر چھائے ہوئے ہیں۔

خود سے نہایت نیک نیتی سے یہ سوالات پوچھیں۔ کیا آپ کی پارٹی بلدیاتی نظام اور طاقتور مقامی حکومتوں کو سپورٹ کرتی ہے؟ کیا حلقے کی نالی پکی کرانے کا فنڈ آپ کی پسندیدہ پارٹی کونسلر کو دیتی ہے یا پھر ترقیاتی کاموں کے نام پر ممبران صوبائی یا قومی اسمبلی کو رشوت دی جاتی ہے؟ کیا جماعت کے عہدیداران کونسلر لیول سے ابھر کر مرکزی لیڈر شپ تک پہنچ سکتے ہیں؟ کیا آپ کی جماعت کا سربراہ بس خود بخود ہی منتخب ہو جاتا ہے یا پھر شفاف ووٹنگ دکھائی دیتی ہے؟ کیا جماعت کے سربراہ کی کوئی مدت ہے یا پھر وہ پیر تسمہ پا کی طرح تا زندگی پارٹی کے سر پر سوار رہتا ہے؟ آپ دیکھیں گے کہ تقریباً ہر پارٹی کے معاملے میں جواب کچھ زیادہ خوشگوار نہیں ہے۔ صرف جماعت اسلامی کے معاملے میں لیڈر بدلتے دیکھے گئے ہیں اور واقعی جماعتی سطح پر کارکن کے ووٹ کی اہمیت ہے۔ مگر بدقسمتی سے عوام اس کی تمام تر سادگیوں کے باوجود اس کی بعض حرکیات و سکنات اور نظریات کی وجہ سے اس پر اعتبار نہیں کرتی ہے۔ یاد رہے کہ سٹالن اور ہٹلر پر کرپشن کا کوئی الزام نہیں تھا مگر ان کو ووٹ دینے سے پہلے لوگ سوچنے پر مجبور تو ہوں گے۔

مخالف کے ووٹ کا احترام کریں۔ مخالف کی شخصیت کا احترام کریں۔ ضروری نہیں کہ آپ ہی ٹھیک ہوں۔ آپ کی ناپسندیدہ پارٹی کو ووٹ ڈالنے والا بھی ٹھیک ہو سکتا ہے۔ بالآخر وقت ہی فیصلہ کرتا ہے کہ کون درست ہے۔ اپنے لیڈر اور پارٹی پر زور دیں کہ اپنی پارٹی میں جمہوریت لائیں۔ ملک میں جمہوریت کی حمایت کریں۔ غیر جمہوری قوتوں کی طرف مت دیکھیں۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ پارلیمان کی توقیر کریں۔ اس میں لازمی حاضر ہوں۔ ملک کی بہتری اور سیاسی و انتخابی نظام کو بہتر بنانے کے لئے قوانین بنائیں۔ اور قومی و صوبائی ممبروں کے ترقیاتی فنڈ ختم کر کے ان کو حلقے کے کونسلر کے سپرد کریں۔

شاید پاکستان میں متناسب نمائندگی کا نظام لایا جانا بہتر ہو گا۔ جو پارٹی جتنے ووٹ لے، اس کے تناسب سے اس کو پارلیمان میں سیٹیں مل جائیں۔ سیاسی پارٹیوں کو ریاست کی جانب سے فنڈ ملیں جن کے ذریعے وہ الیکشن لڑیں بجائے اس بات کے کہ وہ پیسے کے زور پر الیکشن لڑنے والوں کے آگے بلیک میل ہوں۔

یہ سیاسی پارٹیاں ملک کو اتنا زیادہ بھی تباہ نہیں کر رہی ہیں جتنا آپ سوچ رہے ہیں۔ آپ اپنے بچپن کو یاد کریں اور سوچیں کہ آپ اس وقت اپنے والدین کے مقابلے میں زیادہ بہتر زندگی گزار رہے ہیں یا بدتر۔ ٹھیک ہے کہ اس رفتار سے بہتری نہیں آ رہی ہے جس کے ہم خواہش مند ہیں۔ تعلیم اور صحت پر توجہ نہیں دی جا رہی ہے۔ کاروباری آسانیاں نہیں پیدا کی جا رہی ہیں۔ رشوت لینے کے لئے سرخ فیتہ استعمال کیا جاتا ہے۔ مگر آپ یہ بھی تو سوچیں کہ آپ خود کیا کردار ادا کر رہے ہیں؟ کیا آپ اپنے دائرہ اختیار میں رہ کر اپنے فرائض اسی ایمانداری سے ادا کر رہے ہیں جس کی توقع آپ سیاسی لیڈروں سے کرتے ہیں؟ وہ ہماری ہی نمائندگی کرتے ہیں۔ اچھے ہیں تو پھر بھی، برے ہیں تو پھر بھی۔

سوشل میڈیا کو ایک پریشر گروپ کے طور پر استعمال کریں۔ اپنے مسائل کے حل کے لئے آواز اٹھائیں۔ اس کے لئے قانون سازی پر زور دیں۔ گفتار کے غازیوں کے آگے ڈھیر مت ہوں بلکہ جو کر کے دکھائے اس پر اعتبار کریں۔ لیکن آخر میں وہی بات جو سب سے پہلے کی تھی، کہ دوسرے ووٹر کو بھی اتنا ہی عقلمند سمجھیں جتنا آپ خود کو سمجھتے ہیں اور اس کے انتخاب کو قبول کرتے ہوئے کشادہ دلی دکھائیں۔

 


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 754 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar