لیاقت باغ سے شب قدر تک


hashir29 فروری سے لے کر اب تک عشاقان رسول ہونے کا دعویٰ رکھنے والوں کا جذبہ دیدنی رہا ہے۔ مسلمانانِ سرزمین خداداد کا ایسا بھائ چارہ چشم فلک نے بھلا کب دیکھا تھا۔ مرحوم کوثر نیازی یقیناً اپنی قبر میں کروٹیں بدل رہے ہوں گے۔ کہاں ان کی بریلویوں کو دیو بندیوں کی اقتداء میں لانے کی شرط اور کہاں لیاقت باغ کا اتحاد بین المسلمین کا روح پرور اجتماع۔ دیو بند اور رائے بریلی کو ایک طرف چھوڑئے۔ بھول جائیے کہ اب بھی ایک مسلک کا مردہ دوسرے مسلک کے تمام حاضرین جنازہ کو  تجدید نکاح پر مجبور کرنے کی قدرت رکھتا ہے۔ تکفیر کے تمام فلسفے کو بالائے طاق رکھئے۔ فقہ، کلام اور مسلک کی گروہ بندی کو قصہ پارینہ جانیں۔ حاسدین لاکھ اسے موقع پرستی کہیں پر سچ تو یہ ہے کہ حنبلی، شافعی، مالکی، حنفی، سلفی، اثنا عشری، قادریہ، چشتیہ، نقشبندیہ اور جن کے ہمیں نام نہیں بھی آتے سب اب حب رسول کے نام پر ایک ساتھ کھڑے ہیں۔ ایک سیل رواں ہے جو اب اسوہ حسنہ کی عملی تعبیر اس ملک میں نافذ ہونے تک نہ رکے گا۔

سراج الحق ہوں کہ سمیع الحق، فضل الرحمان ہوں یا ثروت قادری، مفتی منیب ہوں کہ عارف واحدی۔ سب شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔ اب اس ملک میں سیرت کی عملی تعبیر نظر آئے گی۔ وہ تعبیر جس میں خون ناحق مباح نہیں ہو گا۔ جس میں بارود کے ذریعے کوئی کتاب اور نبی کے فرمودات سے انکار نہیں کرے گا۔ جس میں بدلہ نہیں، عفو ہو گا۔ جس میں انتقام نہیں، درگزر ہو گا۔ جس میں جان کی حرمت سب سے مکرم ہو گی۔ جس میں انصاف مقدم ہو گا۔ جس میں زید کے جرم کی سزا بکر نہیں بھگتے گا۔ جس میں کوئی ناکردہ گناہوں کی بھینٹ نہیں چڑھے گا۔ جس میں جان بچانا فرض ٹھہرے گا، جان لینا نہیں۔ قافلہ چل پڑا ہے اور اب اس کا اگلا پڑاؤ  ہےشب قدر، چارسدہ۔ ۔ ۔

کیسے کیسے منظر پیش نظر ہیں۔ جناب قاری حنیف قریشی بن جل ماہی کی مانند تڑپ رہے ہیں۔ دستار سر سے اتار پھینکی ہے۔ زلفیں شانوں پر پریشاں ہیں اور شعلہ بیانی آسمان کی خبر لے رہی ہے۔ پوچھتے ہیں کون لے گا نبی کے امتیوں کے قتل ناحق کا بدلہ۔ ظالموں نے بچے مار ڈالے۔ ماؤں کی ردائیں خون میں تر ہیں۔ بے گناہوں کے لاشے پہچاننے میں نہیں آتے۔ کون اٹھے گا نبی کا نام لیوا۔ جنہوں نے نبی کے فرمان کی پرواہ نہ کی۔ جنہوں نے حکم کتاب پاؤں میں روند ڈالا۔ نہتے شہری، ضعیف بزرگ، پھول سے بچے، کمزور عورتیں، کسی کو نہیں بخشا۔ ارے یہ تو ہمارے اپنے تھے۔ میرے تمہارے جیسے کلمہ گو۔ ان سے تو جنگ بھی ہوتی اور یہ کافر بھی ہوتے تب بھی ان کو امان ہوتی۔ ایک ناحق جان، گویا پوری انسانیت مقتول ہوئی۔ ان قاتلوں کے سر تن پر کیوں سلامت ہیں۔ اٹھو مدہوشو۔ جاگو۔ دیں کا نام لٹا جاتا ہے۔ نبی کے حکم کی توہین ہوتی رہے گی اور تم بس تماشا دیکھو گے۔

لوگ دیوانہ وار خاک بر سر روتے ہیں۔ یہیں سے اٹھے گا ابھی کوئی غیرت کا پیکر۔ یہ توہین بھلا کیونکر اور برداشت ہو گی ۔

ادھر کیا ہے۔ میلوں تک سر ہی سر دکھائی دیتے ہیں۔ اویس قادری صاحب کی نعت ایک پرسوز لحن میں سنائی دے رہی ہے۔ فضا میں سسکیاں ہیں۔ آہیں ہیں۔ گھٹی گھٹی چیخیں ہیں۔ شانہ بشانہ سفر کرتا پھولوں میں ڈھکا یہ کس کا جسد خاکی ہے۔ ارے یہ تو شہید کانسٹیبل میاں  نسیم اللہ کا سفر آخریں ہے۔ کس دھج سے چلا ہے قافلہ شوق۔ کیسے لپک   کر اس اللہ کے شیر نے اپنا آپ فرض کی قربان گاہ پر فدا کر ڈالا۔ چوڑا سینہ زخم زخم ہے پر ہونٹوں پر ایک ملکوتی مسکراہٹ رقص کناں ہے۔ لاکھوں اشک آور آنکھیں ہیں جو احترام سے اٹھتی نہیں ہیں۔ بہادر کا جسم مزاحم نہ ہوتا تو نجانے کتنی گودیں اور ویران ہوتیں۔ کتنی چوڑیوں کی کھنک روٹھ جاتی، کتنے سروں سے شجر سایہ دار چھن جاتا اور کتنی دیواروں پر ہمیشہ کی اداسی ڈیرہ ڈال دیتی،

دیکھئے پہلی صف میں کون ہے۔ کیا جماعت اسلامی، کیا جمعیت علما اسلام، کیا جمعیت علمائے پاکستان، کیا سنی تحریک، کیا شیعہ علما کونسل، کیا وفاق المدارس، کیا جامعہ حقانیہ، کیا شہدا فاؤنڈیشن، کیا سنی اتحاد کونسل، یہ دھڑا، وہ دھڑا۔ سب کے سر یل یہاں ہیں۔ سب مشتاق ہیں کہ انہیں جنازہ پڑھانے کا شرف مل جائے۔

ابھی کچھ دیر پہلے ان سب کی تقاریر بھی سنی ہوں گی۔ سب نے یک زبان، یک جان ہو کر خبردار کیا ہے کہ اب یہ ظلم نہیں ہونے دیں گے۔ سلامتی کے دین کو بدنام کرنے والوں کو اب نہیں بخشا جائے گا۔ رحمت دو جہاں کے نام پر بربریت کا کھیل کھیلنے والے اب ان کے قہر کے لئے تیار رہیں۔ اب بازار، گلیاں کوچے کوئی مقتل نہیں بنا پائے گا۔ وہ وقت دور نہیں جب نسیم اللہ کے خون کا حساب چکتا کر لیا جائے گا۔

ہاتھ میں ہاتھ ڈال کر یہ عزم صمیم کیا گیا ہے کہ شہید نسیم اللہ کا مشن اب رہنماؤں کا بار امانت ہے۔ جب تک سلامتی، امن اور آشتی کے دشمنوں کی جڑیں اس ملک سے اکھاڑ نہیں دی جاتیں، کوئی چین سے نہیں بیٹھے گا۔

اگلے جمعہ کو اس ظلم عظیم کے خلاف اور شہدا سے اظہار یکجہتی کے لئے ملک بھر میں جلوس بھی نکالے جانے کے اعلان پر شب قدر کا عظیم اجتماع اختتام پذیر ہوا۔۔۔

کیا کہا۔۔۔ سچ کہتے ہو۔۔۔ خواب ہی ہو گا۔


Comments

FB Login Required - comments

حاشر ابن ارشاد

حاشر ابن ارشاد کو سوچنے کا مرض ہے۔ تاہم عمل سے پرہیز برتتے ہیں۔ کتاب، موسیقی، فلم اور بحث کے شوقین ہیں اور اس میں کسی خاص معیار کا لحاظ نہیں رکھتے۔ ان کا من پسند مشغلہ اس بات کی کھوج کرنا ہے کہ زندگی ان سے اور زندگی سے وہ آخر چاہتے کیا ہیں۔ تادم تحریر کھوج جاری ہے۔

hashir-irshad has 44 posts and counting.See all posts by hashir-irshad

2 thoughts on “لیاقت باغ سے شب قدر تک

  • 09-03-2016 at 12:22 am
    Permalink

    بھیا حاشر! آپ کی تحریر نے تو اس ناچیز کے دل میں حشر برپا کر دیا۔۔۔ کیا خوب لکھتے ہیں۔ طنز کی کاٹ نے ہمیں تو چیر ڈالا ہے

  • 09-03-2016 at 4:16 pm
    Permalink

    اگر اپ کو سوچنے کی عادت ہوتی ۔اور شبقدر کا حملہ کرنے والوں کا مذہب بھی بیان کرتے ،،لیکن بغض قادری بہت سوں کی عقل کو کھا گیا ہے

Comments are closed.