این اے 120 کا معرکہ کلثوم نواز نے 14174 ووٹوں کی برتری سے جیت لیا


لاہور کے حلقے این اے 120 میں ہونے والے ضمنی انتخاب کے تمام پولنگ سٹیشنز سے غیرحتمی غیر سرکاری نتائج موصول ہو گئے۔ مسلم لیگ ن کی بیگم کلثوم نواز 59413 ووٹ حاصل کر کے کامیاب قرار پائیں۔ تحریک انصاف کی ڈاکٹر یاسمین راشد 46145 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہیں، کلثوم نواز نے 14174 ووٹوں سے برتری قائم کر لی۔ ۔

حلقہ این اے 120 کے 220 میں سے 212 پولنگ اسٹیشنز کے غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج کے مطابق کلثوم نواز 59740 ووٹ لے کر پہلے نمبر پر ہیں جب کہ تحریک انصاف کی ڈاکٹر یاسمین راشد نے 45566 ووٹ حاصل کئے۔ موجودہ نتائج کے مطابق مسلم لیگ (ن) کو 14174 ووٹوں کی برتری حاصل ہے۔

دن کے آغاز میں ووٹنگ ٹرن آؤٹ انتہائی کم رہا لیکن دوپہر کے بعد عوام نے پولنگ اسٹیشنز کا رخ کیا اور آخری گھنٹے میں پولنگ اسٹیشنز پر ووٹرز کا بہت رش دیکھنے میں آیا اور بڑی تعداد میں لوگوں نے اپنا حق رائے دہی استعمال کیا۔

ادھر فاطمہ جناح میڈیکل کالج پولنگ اسٹیشن پر سیاسی کارکنوں میں شدید کشیدگی پیدا ہوئی اور پی ٹی آئی اور (ن) لیگی کارکنوں میں تصادم ہوگیا۔ دونوں جماعتوں کے ورکرز نے ایک دوسرے پر پتھراؤ کیا اور لاتوں گھونسوں کی بارش کردی۔ گورنمنٹ ڈگری کالج بند روڈ اور دیو سماج روڈ پر بھی مسلم لیگ ن اور پی ٹی آئی کے کارکن آمنے سامنے آگئے اور ہاتھا پائی بھی ہوئی۔ دونوں جماعتوں کے ورکرز کی جانب سے ایک دوسرے کے خلاف شدید نعرے بازی اور گالم گلوچ بھی کی گئی۔ صورت حال پر قابو پانے کے لیے رینجرز اور پولیس کی نفری طلب کرلی گئی اور دونوں جماعتوں کے کارکنوں کو کیمپوں میں دھکیل دیا گیا۔ فوج نے خبردار کیا کہ اگر لڑائی یا تصادم کی صورتحال پیدا ہوئی تو قانونی کارروائی کی جائے گی۔

اسی بارے میں: ۔  سندھ اسمبلی میں ہندو میرج بل منظور

الیکشن میں معمر اور معذور افراد نے بھی ووٹ ڈالا جبکہ پولنگ کے دوران پی ٹی آئی اور ن لیگ کے کارکنان نے زبردست جوش وخروش کا مظاہرہ کیا۔ ووٹرز کو جامہ تلاشی کے بعد پولنگ اسٹیشن میں داخل ہونے دیا گیا اور شناختی کارڈ کے بغیر کسی کو داخلے کی اجازت نہیں دی گئی جب کہ موبائل فون بھی ساتھ نہیں لے جانے دیا گیا۔ حلقے میں امن و امان کی صورت حال کو برقرار رکھنے کے لیے پولیس اور فوج نے مشترکہ گشت کیا۔

حلقے کے 3 لاکھ 21 ہزار 786 ووٹروں کیلئے 220 پولنگ اسٹیشن قائم کیے گئے۔ پولنگ صبح 8 بجے شروع ہوئی جو شام 5 بجے تک بغیر کسی وقفہ کے جاری رہی۔ اس موقع پر سخت حفاظتی انتظامات کیے گئے۔ پولنگ اسٹیشنز کے اندر اور باہر فوج و رینجرز تعینات رہی جب کہ سی سی ٹی وی کیمرے بھی نصب کیے گئے۔

مسلم لیگ (نواز) کی جانب سے سابق وزیر اعظم نواز شریف کی اہلیہ کلثوم نواز جبکہ پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے ڈاکٹر یاسمین راشد امیدوار تھیں، پیپلز پارٹی کے فیصل میر اور جماعت اسلامی کے امیدوار ضیا الدین انصاری سمیت 44 امیدوار میدان میں تھے۔

39 پولنگ اسٹیشنوں میں آزمائشی بنیادوں پر بائیومیٹرک مشینوں کا استعمال کیا گیا اور ووٹرز کو گوگل میپ کے ذریعے بھی اپنے پولنگ بوتھ کو تلاش کرنے کی سہولت فراہم کی گئی جب کہ حلقے میں 70 پولنگ اسٹیشنوں کو حساس قرار دیا گیا۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔