گھوٹکی کے احتجاجی ڈاکو


دنیا نیوز پر یہ بصری رپورٹ دیکھ کے دل شاد ہوگیا کہ سندھ کے ضلع گھوٹکی کے سلتو گینگ نامی ڈاکو جتھے نے پولیس کی بھتہ خوری کے خلاف مظاہرہ کیا اور نامہ نگار کو بتایا کہ پولیس انہیں اسلحہ بیچتی ہے ۔ ہر واردات میں حصہ طلب کرتی ہے ۔ مطالبات پورے نہ ہونے کی صورت میں جعلی پولیس مقابلے میں مار دیا جاتا ہے وغیرہ وغیرہ ۔جس وقت سلتو گینگ کا سرغنہ یا ترجمان میڈیا بریفنگ دے رہا تھا تو اس دوران پورا گینگ جدید آٹومیٹک ہتھیاروں اور راکٹ پروپیلڈ گرینیڈز سے لیس ہوا،پولیس مخالف نعرے لگا رہا تھا۔یہ منظر دیکھ کے مجھے پہلی بار یقین ہوچلا کہ آزادیِ اظہار نچلی سطح تک پہنچ چکی ہے اور تبدیلی آ نہیں رہی،تبدیلی آچکی ہے ۔
اسی رپورٹ میں تھانہ راؤنتی کے ایس ایچ او عبدالشکور نے ڈاکو ترجمان کے ان الزامات کو لغو اور بے بنیاد قرار دیا کہ وہ اسلحہ سپلائی کرنے کا کام کرتا ہے، جبکہ ایس پی گھوٹکی ابرار حسین نے بھی ڈاکو احتجاج کو محاصرے اور قانون سے گھبرائے گینگ کا ایک بدحواس حربہ قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا ۔

اچھا تو یہ ہوگا کہ حکومتِ سندھ ایک جانچ کمیشن مقرر کرے جو بند کمرے میں فریقین کے بیانات سننے کے بعد ،جس کا بھی قصور نکلے اسے دوسرے فریق کو ہرجانہ دینے کا پابند کرے ۔ نیز تحقیقات کے دوران فریقین کو میڈیا میں ایک دوسرے کی کردار کشی نہ کرنے کا پابند بھی کرے ۔

پاکستان کا آئین ہر شہری کو حق دیتا ہے کہ وہ بلا خوف و خطر جو بھی پیشہ اختیار کرنا چاہے ،اپنا سکتا ہے ۔اس حق میں بے جا مداخلت قابلِ دست اندازیِ قانون ہے ۔اب جیسے لوٹنا یا تاوان لینا ڈاکوؤں کا کام ہے،لہٰذا اس کام میں پولیس کی جانب سے ساجھے داری پر اصرار نہ صرف ڈاکوؤں کے ساتھ پروفیشنل زیادتی ہے بلکہ کاروبار کے بنیادی اصول کے بھی خلاف ہے ۔اگر اس شعبے کو ضروری تحفظ نہیں دیا گیا تو کل کلاں کون اس میں مزید سرمایہ کاری کے لئے آگے بڑھے گا۔اسی طرح قانون ہاتھ میں لینا اور اسے پھرکی کی طرح گھمانا نیز بھتیانا پولیس کو ہی جچتا ہے ۔ اب اگر کوئی ڈاکو اس کارِ سرکار میں مداخلت کرے گا تو یہ بھی مروجہ اصول و ضوابط کی سنگین خلاف ورزی ہے ۔

میرا تو خیال ہے کہ گھوٹکی کے ڈاکوؤں اور پولیس والوں کو ایک جگہ بٹھا کر علاقہ معززین کو صلح صفائی کروا دینی چاہیے،کیونکہ ملک بالعموم اور صوبہِ سندھ بالخصوص اس وقت کسی نئے بحران کا متحمل نہیں ہوسکتا۔ ایسے ماحول میں جب سندھ میں سیاسی و سماجی بھائی چارہ روز بروز کمزور پڑ رہا ہے ،اخلاقی اقدار تیزی سے رو بہ زوال ہیں اور ہر دیہی و شہری طبقہ دوسرے کو شک کی نگاہوں سے دیکھ رہا ہے ،اگر پولیس اور ڈاکوؤں میں بھی طبقاتی رنجش بڑھ گئی تو پھر تو صوبے کا خدا ہی حافظ ہے ۔

میرا تعلق گھوٹکی سے متصل پنجاب کے ضلع رحیم یار خان سے ہے اور اس علاقے کے ہر شہری کی طرح میں بھی کسی حد تک واقف ہوں کہ دریائے سندھ کے ساتھ ساتھ کچے کے علاقے میں ڈاکو اور پولیس آج سے نہیں،انگریزوں کے زمانے سے اچھی ہمسائیگی اور پُرامن بقائے باہمی کی بنیاد پر امن و امان برقرار رکھنے میں مشترکہ کردار ادا کرتے ہیں۔ایک دوسرے کے یرغمالیوں کا امانتاً خیال رکھتے ہیں۔بین الاضلاعی یرغمالیوں اور مال پر کبھی ایسے نہیں جھگڑتے کہ حالات دونوں کے قابو میں نہ رہیں ۔ باہمی دکھ سکھ میں نہ صرف شریک ہوتے ہیں بلکہ آڑے وقت میں دامے درمے قدمے سخنے ایک دوسرے کے کام بھی آتے ہیں۔کبھی کبھی جب
اس مقامی خوشگواریت کو ناکام بنانے کے لئے کراچی میں بیٹھے چند ناعاقبت اندیش نئے نئے جوشیلے نوجوان بیورو کریٹ یا پولیس افسر گھوٹکی اور گردو نواح کا امن تہہ و بالا کرنے کا قصد کرتے ہیں تو کارروائی شروع ہونے سے پہلے ہی مقامی ڈاکو پولیس اتحاد ان بالائی منصوبوں کو خاک میں ملا دیتا ہے ۔

زیادہ تر خاندانی ، معزز یا بااثر ڈاکو گھوٹکی اور کندھ کوٹ کے درمیان دریائے سندھ کے جنگل میں ( جسے بیلہ کہا جاتا ہے ) آج سے نہیں عشروں سے رہ رہے ہیں۔1980ء میں فوجی گورنر جہانداد خان کے زمانے سے ان دریائی جنگلوں کو ڈاکو حضرات سے پاک کرنے کی متعدد بار ناکام کوششیں ہوئیں۔کروڑوں روپے کے صرفے سے ان دریائی جنگلوں میں کنکریٹ کے بنکر نما تھانے بنائے گئے ۔آج بھی ان میں سے کئی تھانوں کے آسیبی لاشے ویرانے میں کھڑے ہیں اور حشرات الارض اور جنگلی جانور انہیں بطور سرائے استعمال کرتے ہیں اور اپنے ہمدردوں کو دعا دیتے ہیں۔

یہ 1998ء کی بات ہے جب مجھے بیلے کے ڈاکوؤں سے ملنے کا شوق چرایا۔تھانہ کندھ کوٹ کے لاک اپ میں نظربند ایک ممتاز ڈاکو بھورل سبزوئی سے میری ملاقات کروائی گئی۔دبلے پتلے ،صاف ستھرے ،کلین شیو بھورل نے دو گھوڑا بوسکی پہن رکھی تھی۔اس نے بتایا کہ وہ ایف اے پاس ہے ۔ایک دن اس کے گاؤں میں ایک مقامی بااثر پتھاریدار ( ڈاکوؤں کا پالن ہار ) کے بندے آئے اور اس کے گھر کی تین بھینسیں کھول کے لے گئے ۔میں اور میرے والد سائیں ( پتھاریدار ) کے پاس گئے ۔ان کی منت سماجت کی مگر سائیں نے کہا کہ جنہوں نے تمہاری بھینسیں اٹھائی ہیں، آخر ان کے بھی بال بچے ہیں ،ان کے ساتھ بھی پیٹ لگا پڑا ہے ،اس لئے میں یہی فیور کرسکتا ہوں کہ تم فی بھینس دس ہزار یعنی تیس ہزار روپے دے دو تو معاملہ ٹھیک ہوجائے گا۔اب ہم لوگوں کا گذارہ ہی ان بھینسوں پر تھا،تیس ہزار کہاں سے لاتے ۔چنانچہ میں نے اور میرے باپ نے بندوق اٹھالی اور بیلے کی طرف نکل گئے اور چند ہی دنوں میں ایک اور گینگ بن گیا۔اب مسئلہ یہ ہے کہ میرے سر پر دس لاکھ روپے رکھے گئے ۔پولیس والے مجھے زندہ گرفتار کرنے کے بجائے میری لاش پر دس لاکھ لینا چاہتے تھے ۔اس لئے میں مجبوراً عادی ڈاکو ہوگیا۔پھر ایک سائیں نے مجھے قرآن پر حلف دیا کہ اگر تم ہتھیار ڈال دو تو پولیس تمہیں زندہ رکھے گی۔کیس چلے گا ۔جو سزا ہو گی بس وہی سزا ہوگی۔اس لئے میں نے ہتھیار ڈال دئیے ۔مگر پولیس میرے باقی گینگ کو زندہ گرفتار نہیں کرنا چاہتی،کیونکہ کسی کے سر پر تین لاکھ ، کسی پر پانچ لاکھ لگے پڑے ہیں۔پولیس ویسے تو کچھ نہیں کہتی لیکن کب کس کے حکم پر کارروائی ڈال دے اس کا بھروسہ نہیں ہوتا۔میں نے بھورل سے پوچھا کہ کیا میں بیلے میں جا کے اس کے گینگ سے مل سکتا ہوں۔بھورل نے کہا ،بھلے خوشی سے ۔

بھورل نے میرے ساتھ آنے والے مقامی دوست کو کسی کا نام بتایا۔اس مقامی دوست نے اگلے دن مجھے کشتی میں بٹھا کر بیلے تک پہنچایا اور پھر جنگل میں سے ایک موٹر سائیکل نمودار ہوئی اور میں پیچھے بیٹھ گیا۔موٹر سائیکل سوار نے آڑے ترچھے کچے راستوں پر دو ڈھائی کلو میٹر سفر کے بعد مجھے ایک بہت ہی منظم چھوٹے سے کمپلیکس میں اتار دیا ،جہاں بھورل کا والد موجود تھا۔ایسا نظم و ضبط جیسے کوئی چھوٹی سی چھاؤنی ہو۔ایک طرف بغیر نمبر پلیٹ کی چھ سات موٹرسائیکلیں طریقے سے پارک تھیں۔ایک کمرے پر لکھا تھا اسلحہ خانہ ۔اس کے اندر بندوقیں اور کلاشنکوفیں دیوار کے ساتھ ساتھ کھڑی کی گئی تھیں۔ایک بڑا کمرہ تھا جس میں گینگ کے ارکان کے بستر لگے ہوئے تھے اور نسبتاً چھوٹا کمرہ بھورل کے والد کے استعمال میں تھا۔باورچی خانہ اور باتھ روم ذرا فاصلے پر بنائے گئے تھے ۔ پورا کمپلیکس لکڑی ، سرکنڈوں اور کچی اینٹوں سے تیار کیا گیا تھا ۔شام کو صحن میں آگ جلائی گئی ۔گینگ میں سے ایک صاحب نے اکتارہ سنبھالا اور دوسرے نے سائیں سچل کی ایک سرائیکی کافی فضا میں بکھیر دی۔اس دوران مرغابیوں کا گوشت تیار ہو چکا تھا۔کھانا کھانے کے بعد پورے گینگ سے رات گئے چاند کی روشنی میں گفتگو ہوتی رہی۔جس کا لبِ لباب یہ تھا کہ کوئی خوشی سے اس راستے پر نہیں آیا اور اب واپسی کا کوئی راستہ نہیں کیونکہ پولیس نہیں چاہتی ۔اللہ جانے ان داستانوں میں کتنی سچائی یا کتنی افسانہ طرازی تھی مگر مجھے تو ان میں سے کوئی بھی اداکار نہیں لگا۔

صبح ناشتے کے بعد میں نے سائیں سے اجازت چاہی۔وہی موٹر سائیکل والا سامنے آگیا جو لے کر آیا تھا۔سائیں نے جاتے جاتے کہا : ”اب آؤ تو ایک ہفتہ پہلے بتا کے آنا ،تاکہ تمہاری کوئی خذمت وزمت کر سکیں۔پچھلے منگل کو یہاں فس کلاس مجرا ہوا تھا۔ایس پی صاحب بڑا خوش خوش واپس گیا۔پر اب کسی پر اعتبار نہیں سائیں۔آگے جیسے اللہ کی مرضی…‘‘

18-11-2014

بشکریہ روزنامہ دنیا


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔