سمو راج: ایک خواب کی تعبیر


abid mirایک ایسے مردانہ اجارہ دار سماج میں جہاں عورتوں کے حقوق کی بات کرنا بھی زن مریدی اور غیرت کے طعنوں کی نذر ہو جاتی ہو، جہاں عورت کو برابر کا انسان ماننا بے غیرتی قرار پاتا ہو، اُسے پاو¿ں کی جوتی بنانے کی بجائے سر کا تاج بنانا بزدلی ہو، وہاں عورتوں کی تنظیم سازی دیوانے کا خواب ہی ہو سکتا ہے….پر اپنا بلوچستان تو ہے ہی دیوانوں کی دھرتی۔ سو‘ یہاں کے چند دیوانوں نے عورتوں کی ایسی تنظیم کا نہ صرف خواب دیکھا، بلکہ اس کی تعبیر کا بیج بھی بو ڈالا، ابھی اِسی عورتوں کی جدوجہد والے عالمی دن آٹھ مارچ کو۔ کوئٹہ کی بلوچی اکیڈمی کے آڈیٹوریم میں۔ مرد و زن سے بھرے پرے اس ہال میں ’سمو راج‘ نامی اس تنظیم کی اولین منتخب شدہ کابینہ کی حلف برداری بھی ہوئی، عورتوں کے مسائل اور ان کی جدوجہد پہ تقریریں بھی ہوئیں،بلوچستانی زبانوں میں شاعری بھی ہوتی رہی، ڈرامہ بھی پیش کیا گیا، قراردادیں بھی پیش ہوئیں….یوں ایک نئے سفر کا آغاز ہوا۔

اس اکٹھ میں سفید بالوں والے تجربہ کار بھی تھے تو جوش سے بھرے تحیر کی آغوش میں پلتے جوان بھی۔ بزرگوں کا والہانہ پن بھی تھا، نوجوانوں کی نوخیزی بھی۔ فیض کے گیت بھی تھے، جالب کے ترانے بھی اور مست کے سدابہار شعر بھی۔’سمو‘ بلوچستان کو اپنی شاعری میں تابندہ رکھنے والے اسی مست توکلی کی محبوبہ کا مبارک نام ہے۔ مست نے اپنی شاعری میں اٹھارویں صدی کے قبائلی فیوڈل سماج میں سمو کو انسانی برابری اور شرف کا ایسا پر فکر استعارہ بنا ڈالاکہ یہ نام بلوچستان کے گلی کوچوں میں گونجا۔ مست نے جب کہا’میری سمو بھیڑ بکریاں چرانے، دور سے پانی بھر کے لانے کے لیے نہ تھی‘ تو گویا اس نے سمو کی صنف کی ساری عورتوں کے درد شعر میں سمو ڈالے۔ اس لیے بلوچستان میں عورتوں کی اس نئی تحریک کے بانیوں کو اس کے لیے ’سمو راج‘ کا بہتر نام سوجھا، اس سے بہتر نام ہو بھی کیا سکتا ہے!!

اس تنظیم کی انفرادی خصوصیات میں سے ایک یہ کہ یہ خالصتاً خواتین پہ مشتمل ہے، اس میں مردوں کا کہیں کوئی عمل دخل نہیں، ماسوائے کہیں کہیں بہ طور ساتھی کے۔ یہ خصوصاً خواتین سے متعلق مسائل پہ کام کرے گی، تاہم سماج کے دیگر مظلوم طبقات اور سماجی مسائل پہ بھی بات کرتی رہے گی۔ دوسری انفرادیت یہ کہ یہ کسی قسم کی سرکاری، غیر سرکاری، سیاسی و غیر سیاسی تنظیم سے وابستہ نہیں۔ یہ خاص، عوام سے بنی تنظیم ہے، اور عوام میں رہ کر ہی کام کے گی؛ خالص عوامی طرز پر۔ تیسری انفرادیت یہ ہے کہ یہ اپنی نوعیت کی بلوچستان میں اولین تنظیم ہے، جس کا تمام تر ڈھانچہ خود خواتین نے ہی مرتب کیا ہے۔ وہی اب اس کی کرتا دھرتا ہیں۔

01یہ ہر لحاظ سے ایک مشکل سفر ہے۔ بلوچستان میں جہاں ایک طرف بعض پہلووں سے گھر کے مردوں کا جینا دوبھر ہو چکا ہے، وہاں عورتوں کے مسائل کی بات لے بیٹھنا کچھ ایسا سہل بھی نہیں۔ دوسری طرف عورتوں کے لیے نوکری چاکری اور ذریعہ معاش بننے کی بجائے محض اپنے حقوق اور سماجی مسائل کے لیے رضاکارانہ طور پر گھرو ں سے نکلنا ایک ایسا امتحان ہے ، جس کے کئی سخت مرحلے ابھی انھیں درپیش ہوں گے۔ اور سب سے مشکل اپنے ہی ساتھی مردوں کے مردانہ پن اور ’مردانہ وار‘ سے بچتے ہوئے خود اپنی راہ تلاشنے کا ، انگاروںپہ چلنے جیسا عمل!!

مست توکلی نے سمو کے لیے ، اس کے وقار ، عزت اور آزادی کے لیے جتنے گیت گائے اور عملاً اس کا ثبوت بھی دیا، اس پہ وہ ’سمو بیلی‘ کہلایا۔ بلوچستان میں سمو کی ہم صنف خواتین نے تو ’سمو راج موومنٹ‘ کا بیج ڈال دیا ہے، اس کے پھلنے پھولنے میں مست کے مت والے، اس کے ہم صنف مردوں اور دانش وروں کا اہم فریضہ ہو گا ، جو ’سمو بیلی‘ تبھی کہلائیں گے جب اس تحریک کو اپنے گھر تک پہنچائیں گے۔

’سمو راج موومنٹ‘ اپنی کامیابی و ناکامی ہر دو صورتوں میں بلوچستان میںکئی پہلووں سے ایک سنگ ِ میل ہو گی….راہ دکھاتا، منزل کی اور بڑھاتا سنگِ میل!


Comments

FB Login Required - comments

2 thoughts on “سمو راج: ایک خواب کی تعبیر

  • 10-03-2016 at 6:36 pm
    Permalink

    واجہ عابد میر کہتے ہیں: “مست نے جب کہا’میری سمو بھیڑ بکریاں چرانے، دور سے پانی بھر کے لانے کے لیے نہ تھی‘ تو گویا اس نے سمو کی صنف کی ساری عورتوں کے درد شعر میں سمو ڈالے۔”
    سمو ایک شادی شدہ بلوچ عورت تھی سن 1800 کی بات ہے،اس پر مست توکلی عاشق ہوتے ہیں اور اس پر شاعری کرتے ہیں۔
    واجہ عابد میر کام نہ کرنے کو عورتوں کی آزادی تصور کرتے ہیں یا وہ کسی مشکل کام کے نہ کرنے کو آزادی تصور کرتے ہیں،جس سے عورت کو آزادی کم ،غلامی زیادہ ملے گی!
    اگر دیکھا جائے تونہ آج کام کرنا کوئی بری بات ہے اور نہ کل بھی کام کرنا کوئی بری بات تھی اور نہ ہوگی ۔کیا بھیڑ بکریاں چرانا،پانی لے کر آنا(خاص کر سن 1800 میں) یا اپنی ضرورت کے لیے کام کرنا کیا ایک بری بات ہے؟
    ۔کیا یہ ایک آزادی ہے کہ کام نہ کرو بس بیٹھ کر کاہل اور سست رہو اور کسی دوسرے پر بوجھ بن جاؤ؟
    اگر کام نہ کرنا ہی سمو راج موومنٹ کا مقصد ہے تو شروع سے ہی یہ ایک بے مقصد موومنٹ ہے اس سے بلوچستان کو عورتوں کو کچھ بھی فائدہ نہین ملے گی ۔۔
    بس وقت کا ضیاع ہے !

  • 10-03-2016 at 6:49 pm
    Permalink

    آزادی ہو، عورتوں کو ان کے تمام بنیادی اور پیدائشی حقوق ملیں۔ کوئی روایت،رسم و رواج عورت کی آزادی اور ترقی کے آگے رکاوٹ نہ ہو۔ عورت کو ہر وہ آزادی ہو جو ہر ایک انسان کی آزادی ہو۔عورت ایک انسان ہے ۔۔انسانوں کو جو بھی آزادی ہو وہ عورت کو حاصل ہو۔۔ یہ کیا آزادی ہے جناب کہ کسی مرد کو کسی عورت سے عشق ہو،اس پر شاعری کرے،مست ہو، پاگل ہو،صحراؤں میں پھرتا رہے اور پھر ایک تنظیم اس عورت کے نام پر بنے جس سے اس مرد نے عشق کیا۔۔اس حساب سے تو لیلٰی،شرین،ہیر وغیرہ وغیرہ کی بھی موومنٹ ہوں !

Comments are closed.