2018 ء کے انتخابات خطرے میں پڑ گئے


مایوسی کی باتیں کیوں کریں۔ امید کی جانی چاہیئے کہ دوہزار اٹھارہ کے الیکشن وقت پر ہوں گے۔ مگر اس کے لیے اہم یہ ہے کہ طاقت کے غیر جمہوری مراکز کو اس بات کا کسی حد تک یقین رہے کہ مستقبل کے خاکے میں جو رنگ انہوں نے بھرے ہیں وہ سال بھر میں پختہ ہوجائیں گے۔ یہ رنگ اگر پھیکے پڑگئے تو مصورکینوس لپیٹ کے رنگوں میں بھنگ بھردے گا۔

میاں محمد نواز شریف کو ہر منظر سے باہر رکھنے کا فیصلہ ہوچکا ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی صراط مستقیم پر آچکی ہے۔ مگر یہ دھول ایک دن بیٹھے گی۔ پیپلز پارٹی جان لے گی کہ خود کو بچاتے بچاتے اس نے بےنظیر بھٹو کی جان لے لی ہے۔ ٹھیک چار برس بعد یہ جماعت رونے کو کندھا ڈھونڈے گی۔ بھٹو کا شہید سایہ بھی ایسے وقت میں ساتھ نہیں دے گا۔ متحدہ مجلس عمل تخلیق کے مرحلے میں ہے۔ جماعۃ الدعوہ کا سیاسی بہروپ ملی مسلم لیگ اس کا نقطہ آغاز ہے۔ جماعۃ الدعوہ کو پنجاب میں کردار سونپ دیا گیا ہے۔ پلیٹ فارم متحدہ مجلس عمل کا۔ کردار جماعت اسلامی اور ملی مسلم لیگ کا۔ مولانا فضل الرحمن کو فیصلہ کرنا ہے کہ وہ مجلس عمل میں جاتے ہیں کہ پارلیمنٹ کے ساتھ کھڑے رہتے ہیں۔ مجلس عمل میں جاتے ہیں تو مصور کے خاکے میں بھرے رنگ نکھرتے ہیں۔ پارلیمنٹ کے ساتھ کھڑے رہتے ہیں تو دستار کے پیج بکھرتے ہیں۔ کیونکہ مجلس عمل تو احیائے دین کی ضمانت ہوگی اور پارلیمنٹ تو خیر سے “چور” ہے۔ ایک ہڈی ہے جو اگلی جائے نہ نگلی جائے۔ یہ بات البتہ طے ہے کہ مولانا صاحب مجلس عمل کا حصہ بننے سے انکار کر دیں تو “اسلام” شدید خطرے سے دوچار ہوجائے گا۔ وہاں کراچی میں الطاف حسین کا حقہ پانی بند ہے۔ مصطفی کمال اور انیس قائم خانی قومی ترانے کی تعبیر بنے ہوئے ہیں۔ فاروق ستار جناح کیپ پہنے کوئے جاناں میں صدائیں لگا رہے ہیں کہ میں اتنا بھی برا نہیں ہوں۔ آفاق احمد شارع فیصل پہ کھڑے ہر آتے جاتے کو سلام کر رہے ہیں۔ عشرت العباد وقفے وقفے سے کھانس کے بتاتے ہیں کہ ہم بھی پڑے ہیں راہوں میں۔ آسمانوں کے ارادے یہ ہیں کہ وسیع تر قومی مفاد میں چاروں رنگ ایک ہی کینوس پر اتار دیے جائیں، مگر فاروق ستار،خواجہ اظہار الحسن اور فیصل سبزواری کی ایم کیو ایم نے فیصلہ کرنا ہے کہ انہوں نے “تاریخ فرشتہ” میں کھلے بندوں اپنا نام لکھوانا ہے یا یہ تاثر قائم رکھنا ہے کہ ہم اپنے ہی شکار پہ ڈکار مارتے ہیں۔

پختونخوا میں امیر مقام پختہ چالیں چل رہے ہیں۔ ایک کے بعد ایک معرکہ وہ سر کررہے ہیں۔ مولانا فضل الرحمن ان کے شانہ بشانہ ہیں۔ پیپلز پارٹی وہاں رضاکارانہ طور پہ وفات پا چکی ہے۔ عوامی نیشنل پارٹی اہل تصوف کا ملامتی فرقہ بنی ہوئی ہے۔ جماعت اسلامی کی طرح وہ بھی دنیا و مافیہا سے بے نیاز ہوچکی ہے۔ بے سروسامانی میں اسفندیار ولی خان نے پارلیمنٹ کے ساتھ جو اپنی زبان نبھائی ہے وہ البتہ لائق صد تحسین ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے پاس دکھانے کو کچھ نہ کچھ ضرور ہے، مگر وہ ان دعووں کا پیٹ بھرنے کے لیے کافی نہیں ہے جو عمران خان صاحب کر چکے ہیں۔ پھر عمران خان کا پختونخوا ان کے انقلاب کے پیچھے چھپ چکا ہے۔ کامیابی ہے کہ کارکن اب بھی ساتھ کھڑا ہے۔ ناکامی یہ ہے کہ ووٹر ساتھ چھوڑ چکا ہے۔ جماعت اسلامی؟ لاش سرد خانے میں پڑی ہے، تجہیز وتکفین کی تیاریاں جاری ہیں۔ مجلس عمل بن جائے تو ہی مرا ہوا ہاتھی سوا لاکھ کا ہوسکتا ہے۔ ورنہ سراج الحق کی سادگیاں مردے میں روح نہیں پھونک سکتیں۔ بلوچستان میں معاملہ وہی قوم پرستوں کے ہاتھ میں ہے۔ اس کے سوا کچھ ہے تو جے یو آئی ہے۔ جے یو آئی نظریاتی ایک رخنہ تھا، مگر وہ پرانی تنخواہ پر قناعت کر گئی۔

اسی بارے میں: ۔  میں فکری و نظریاتی بد دیانت ہوں!

تقدیر کی لوح پنجاب کے سینے پہ سجی ہے۔ اسی لیے عمران خان نے سترہ کے سترہ حملے یہیں کے تاج و تخت پہ کیے ہیں۔ یہ مان لینا چاہیئے کہ طاقت کے غیر جمہوری مراکز اب دباؤ کا شکار ہیں۔ وجہ پنجاب ہی ہے۔ پنجاب میں پہلی بار غیر جمہوری مراکز کے خلاف بیانیہ راسخ ہوا ہے۔ جو بتوڑی کسی زمانے میں پولیٹیکل سائنس کے طالب علم کی سمجھ سے باہر تھی اس پر اب بشیر دارلماہی کا بیرا پختہ رائے دے رہا ہے۔ پنجاب کا آزاد دانشور کریز سے دو قدم آگے نکل کر کھیل رہا ہے۔ جو تسمہ گیر ہیں وہ شہرت پا رہے ہیں اور وقعت کھورہے ہیں۔ گو کہ ابلاغ کے ذرائع یرغمال ہیں مگر پنجاب کا دانشور بغیر لاوڈ اسپیکر کے بھی بولے تو بات پہنچتی ہے۔ سندھ بلوچستان ایکو چیمبر بھی لگا لیں تو دعا آسمان سے ٹکرا کے واپس آجاتی ہے۔ آج تک آوازیں باہر سے آرہی تھیں۔ اب گھر کے اندر سے مزاحمت کا سامنا ہے۔ زیادہ پریشان کن بات یہ ہے کہ صف بندی دو اور دو چار کی طرح واضح ہوچکی ہے۔ یہ رہا غیر جمہوری مراکز کے پیچھے چھپا ہوا گروہ۔ وہ رہا پارلیمنٹ کا نمائندہ گروہ۔ ایسے میں ڈوبتے کو تنکے کا سہارا مل گیا ہے۔ پیپلز پارٹی کے پنچھی اڑان بھر کے پی ٹی آئی میں جا چکے۔ طاہر القادری کو خوش قسمتی سے خون دستیاب ہے۔ تحریک لبیک یارسول اللہ کی دشنام بریگیڈ نے برما کے لیے آرمی چیف کو ایک لاکھ کا لشکرِ جرار آفر کردیا ہے۔ ملی مسلم لیگ کے قائد اعظم نے اپنے خرچے پہ داڑھی چھوڑ دی ہے۔ خدا کی مدد شامل حال رہی تو الیکشن آنے تک ناف کو چھولے گی۔ ادھر گجرات کے چوہدریوں کی مسلم لیگ پہلے ہی قاف سے قائد اعظم والی ہے۔ اس قوم کی خاطر جو بن پڑا وہ یہ جماعت کرتی آئی ہے آئندہ بھی کرے گی۔ وہاں پوٹھو ہار میں ایک چوہدری نثار علی خاں ہیں۔ بے بال وپر سہی مگر اقبال کے شاہین ہیں۔ اڑتالیس ممبران کو لے کر اڑنا چاہتے تھے مگر مانگے تانگے کے بال وپر کچھ پھڑپھڑائے اتنا تو میر نے دیکھا۔ اس کے بعد چراغوں میں روشنی نہ رہی ۔ اب فرصت میں ہیں۔ بولے جاتے ہیں اور توقف فرما کے کہتے ہیں میں منہ نہیں کھولنا چاہتا۔ کاتبِ تقدیر نے مستقبل کے منظرنامے میں کچھ ان کے لیے بھی لکھ رکھا ہو گا۔ یہاں حلقہ این اے ایک سو بیس کی صورت حال سامنے ہے۔ کور کمانڈر نے عین ووٹنگ کے دوران حلقے کا دورہ کرنا ضروری سمجھا ہے۔ مسلم لیگ جیت چکی ہے، مگر یہ تاثر دینے میں کامیابی حاصل کی جا چکی ہے کہ عدالتی فیصلے نے سابق وزیراعظم کی حیثیت کو متاثر کیا ہے۔

اسی بارے میں: ۔  گستاخ تو ہم سب ہی ہیں

آنے والا الیکشن وہی ہے جو اٹھاسی میں بے نظیر بھٹو کا الیکشن تھا۔ جوستر میں ذوالفقار علی بھٹو کا الیکشن تھا۔ تمام سیاسی قوتیں ایک طرف، وہ جو ایک جسے قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیا جاچکا ہے، وہ دوسری طرف۔ مصور تو اپنے رنگ بھرے جا رہا ہے، مگر وہ جانتا ہے کہ ایسی صورت حال میں جسے تنہا کیا جاتا ہے مقدر کا سکندر وہی نکلتا ہے۔ تاریخ کے تیور اب کے بھی وہی رہے تو پھر خاکم بدہن انتخابات کا ٹائی ٹینک پہاڑ کے ایک ان دیکھے تودے سے ٹکرانے والا ہے۔ ووٹر کو جاہل گنوار باور کروانے کا سلسلہ زور پکڑچکا ہے۔ جج صاحبان اختلافی نوٹ میں لکھ چکے کہ اب وقت آگیا ہے کہ سپریم کورٹ ملکی سلامتی کے معاملات میں مداخلت کرے۔ خدا کرے کہ اس اختلافی نوٹ کا مطلب بنگلہ دیش ماڈل کے سوا کچھ ہو۔ خدا نہ کرے کہ حکومتی مدت پوری ہونے تک انتخابات کا ہر امکان مارا جا چکا ہو۔ اگر ایسا ہوا تو خلق ِ خدا حکومت کی رخصتی کا جائزمطالبہ کرے گی۔ نگران حکومت آئے گی اور یہ ملک د وسال کے لیے حمزہ عباسی جیسی”پڑھی لکھی” اور نابغہ ِ بے روزگارقیادت کو سونپ کر چلی جائے گی۔ یہ وہی قیادت ہو گی جس کی عالی دماغی نے اس ملک کو خطے میں اور عالمی راہداریوں میں تنہا کر کے رکھ دیا ہے۔ افسوس تو بس یہ ہے کہ انہیں کوئی افسوس نہ ہو گا!


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔