سربیا کی ہم جنس پرست وزیر اعظم کی ہم جنس پرست پریڈ میں شرکت


سربیا کی وزیر اعظم اینا برنابک نے ہم جنس پرست پریڈ میں شرکت کی ہے۔ وزیر اعظم اینا برنابک بلقان ممالک کے سربراہوں میں ایسی پہلی سربراہ حکومت ہیں جنھوں نے ہم جنس پرستوں کی پرائڈ پریڈ میں شرکت کی ہے۔ اینا برنابک نہ صرف سربیا کی پہلی خاتون سربراہ ہیں بلکہ پہلی ہم جنس پرست سربراہ حکومت بھی ہیں۔

اس ملک میں عام طور پر ہم جنس پرستوں کی پرائڈ پریڈ پر تنازعات اٹھتے رہے ہیں۔ سات سال قبل بلغراد میں منعقدہ ایک ریلی پر ہم جنس پرست مخالف لوگوں کے ایک حملے میں 100 سے زیادہ افراد زخمی ہو گئے تھے جن میں زیادہ تر پولیس والے تھے۔ اس کے بعد پانچ سال تک حکام اس کی اجازت دینے سے قاصر رہے۔ بہر حال سنہ 2014 میں سخت سکیورٹی کے درمیان اسے پھر سے جاری کیا گیا۔

لیکن ملک میں باثر آرتھوڈوکس چرچ نے اس تقریب کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ دوسری طرف سول سوسائٹی نے بتایا ہے کہ کئی لوگوں کی اس پریڈ میں شرکت کرنے کی وجہ سے ملازمت چلی گئی ہے۔

سربیا کی وزیر اعظم اینا برنابک نے کہا کہ ان کی حکومت تنوع اور اختلاف کی قدر کرتی ہے۔ رواں سال جون میں مس اینا برنابک ملک کی وزیر اعظم بنی ہیں اور وہ اس کے بعد سے لوگوں کی توجہ ان کی جنسی ترجیحات سے ہٹانے کی کوشش کر تی رہی ہیں۔ ان کا کہا کہ یہ اتنا اہم کیوں ہے؟

حال ہی میں منعقدہ پریڈ میں انھوں نے صحافیوں کو بتایا: ‘سربیا اختلاف کی قدر کرتا ہے۔ آج میرا یہی پیغام ہے کہ سربیا کی حکومت اپنے تمام شہریوں کے لیے اور یہ تمام شہریوں کے حقوق کی قدر کرتی ہے۔’ وہ دنیا کے ان چند رہنماؤں میں ہیں جو کھلے عام خود کو ہم جنس پرست کہتے ہیں۔ اس مختصر فہرست میں آئرلینڈ کے وزیر اعظم لیو وراڈکر اور لکسمبرگ کے وزیر اعظم زیویئر بیٹل شامل ہیں۔

پریڈ میں شامل ہم جنس پرستوں نے امید ظاہر کی ہے کہ وہ ایسے قوانین بنائيں گی جس سے ایک ہی جنس کے درمیان شادی ممکن ہو سکے۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 1229 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp