سکیورٹی سٹیٹ یا سپورٹنگ سٹیٹ (Sporting State)


کنال روڈ لاہور کی مصروف ترین سڑکوں میں سے ہے۔ ورلڈ الیون کی آمد پہ اسے دلہن کی طرح سجایا گیا تھا۔ جا بجا روشنیوں کے مصنوعی جزیرے نظر آ رہے تھے، رنگ اور نور کی گویا ایک بارات امڈ آئی تھی۔ لیکن یہ بات فہم سے بالاتر رہی کہ رات کے تین بجے بھی اس بارات اور دلہن کو اتنی حفاظت کی کیا ضرورت ہے کہ جا بجا پولیس ناکے لگے ہیں، کہیں خاردار تاریں ہیں تو کہیں سیفٹی بیرئیرز۔

پولیس کی گاڑیاں گشت پر ہیں، ایلیٹ فورس اور رینجرز تہہ در تہہ سکیورٹی کا کردار نبھا رہے ہیں۔ بھئی ہو کیا رہا ہے؟ اس تام جھام سے یہ تو ہرگز نہیں لگ رہا کہ کوئی میچ ہو رہا ہے۔ اچنبھے کی بات مگر یہ ہے کہ یہ ساری کوششیں ہو رہی ہیں صرف ایک سوال کا جواب دینے کو، اور سوال یہ کہ کیا پاکستان کرکٹ کے لئے ایک محفوظ ملک ہے؟

یہ وہ سوال ہے جو دنیا بھر میں پھیلی کرکٹ برادری پاکستان سے پوچھتی ہے۔ لیکن پاکستان کا مسئلہ صرف کرکٹ نہیں ہے، اس سال ہونے والا پی ایس ایل فائنل اور حالیہ ورلڈ الیون کے انتظامات پہ نظر ڈالئے تو سمجھ یہ نہیں آتا کہ ہم پاکستان کو صرف کرکٹ کے لئے ہی محفوظ کیوں بنانا چاہتے ہیں۔ کیا گلی محلے، چوک چوراہے، میوزیکل کنسرٹس اور عبادت خانے بھی اتنے ہی محفوظ نہیں ہونے چاہیں جتنے کہ کرکٹ گراؤنڈز؟ کیونکہ پاکستان کی عالمی تنہائی صرف کرکٹ ہی کے میدان میں نہیں ہے۔

اور یہ کوئی ایسا کار دشوار بھی نہیں ہے۔ یہی کوئی دس بارہ سال پہلے ہم خود اپنی آنکھوں سے دیکھ چکے ہیں کہ کبھی انگلینڈ کی ٹیم بغیر کسی سکیورٹی کے جمخانہ میں پریکٹس کر رہی ہے تو کبھی باغ جناح کی کھلی فضا میں۔ کوئی سڑکیں بلاک نہیں ہوا کرتی تھیں، کوئی خاردار تاریں نہیں لگتی تھیں، کوئی بیرئیر نہیں لگتے تھے۔

یہی لاہور تھا، یہی قذافی سٹیڈیم تھا، بھارت اور پاکستان قذافی میں مدمقابل ہوا کرتے تھے۔ اور جہاں سیاسی و عسکری مباحث پہ دونوں ملکوں کے شہری ہمیشہ محاذ آرا رہتے تھے، وہاں کرکٹ کے میدان میں مخاصمت صرف کھیل تک ہی رہتی تھی، کھلاڑی کے لیے صرف محبت ہی ہوتی تھی۔ مقابلہ کانٹے کا ہوتا تھا مگر اس کے باوجود آدھا بھارت وسیم اکرم کا فین تھا اور آدھا پاکستان سچن ٹنڈولکر کا دلدادہ تھا۔

اسی بارے میں: ۔  شریف‘ کون ہوتا ہے!

2005ء میں جب پاکستانی ٹیم نے بھارت کا دورہ کیا تو پاکستانی پلئیرز کو ایسی گرم جوشی ملی کہ بحیثیت ایک پاکستانی ہم بھی حیران رہ گئے کہ کیا یہ وہی بھارت ہے جس کے بارے ہمیں بچپن سے بتایا جاتا رہا کہ وہ ہمارا ازلی دشمن ہے۔

مجھے آج بھی اس دورے کی ایک تصویر یاد ہے، کسی بازار میں چند پاکستانی کھلاڑی کھڑے ہیں اور پیچھے تصویر بنوانے والے بھارتی شائقین کا ہجوم اتنا ہے کہ یہ یقین کرنا مشکل ہے کہ یہ مناظر ‘ازلی دشمن’ ملک سے دکھائی دے رہے ہیں۔

اگر تو کرکٹ کو سیاست سے بالکل الگ تھلگ رکھا جاتا تو بات مختلف تھی۔ مگر پچھلی تین دہائیوں میں بارہا کرکٹ کو سیاست اور سفارت سے نتھی کیا گیا۔ اس میں آمروں کے ادوار بالخصوص قابل ذکر ہیں۔

جنرل ضیا اندرا گاندھی سے کچھ کہنے کے لئے کسی سفارت خانے جانے کی بجائے سٹیڈیم کیوں گئے۔ مشرف بارڈر سے فوجیں ہٹوانے کے لئے ہمیشہ کرکٹ ہی کو بیچ میں کیوں لائے؟

کرکٹ کا پاکستان کی موجودہ صورت حال سے تعلق خاصا گہرا ہے۔ پاکستان اور انڈیا کی سرحد پر جب جب خاموشی ہوئی، کرکٹ کے میدان آباد ہوئے، دو طرفہ تجارت بڑھی، ثقافتی تبادلے ہوئے، آرٹ کو فروغ ملا، سمجھوتہ ٹرینیں چلیں۔

آئی پی ایل شروع ہوئی تو پاکستانی پلئیرز ایک بار پھر مرکز نگاہ ٹھہرے۔ گویا سکیورٹی معاملات بگڑنے کے باوجود کرکٹ کہیں نہ کہیں سانس لیتی ہی رہی۔ لیکن پھر ممبئی حملے ہوئے۔ حالات کشیدہ ہوئے۔ پاکستان پر آئی پی ایل کے دروازے بند ہوئے۔ سری لنکن ٹیم پہ حملہ ہوا۔ پاکستان کے گراؤنڈز ویران ہوئے اور صرف کرکٹ ہی ختم نہیں ہوئی، میوزک بھی غائب ہو گیا، تجارت بھی متاثر ہوئی۔ تو جہاں کبھی کرکٹ زیر بحث رہا کرتی تھی، اس کی جگہ خوف اور سراسیمگی نے لے لی۔ پارکوں اور تعلیمی اداروں تک کے اطراف میں خاردار تاریں اگنے لگیں۔

اسی بارے میں: ۔  نامعلوم کا پیار اور مار

اور آج یہ عالم ہے کہ کرکٹ میچ ہونا ہو تو سکیورٹی کا ایک دبیز لحاف پورے شہر کو لپیٹ لیتا ہے۔ کوئی ٹکٹیں خریدنے کے لیے بھی سکیورٹی حصاروں سے گزرتا ہے تو کوئی ٹکٹ خرید کر بھی سکیورٹی کے خوف سے سٹیڈیم آنے سے کترا رہا ہے۔ ایک کرکٹ میچ کے لیے پورے ملک کا رخ ایک شہر کی جانب موڑنا پڑتا ہے۔

اور المیہ یہ ہے کہ یہ سب اس ملک میں ہو رہا ہے جہاں آج سے دس بیس سال پہلے صرف ایک گنجان علاقے کے رش بھرے پارک میں نہیں بلکہ گلی محلے کی کرکٹ میں بھی انٹرنیشنل پلیئرز رونق لگا دیا کرتے تھے۔

اور آج ہم سکیورٹی کے پانچ حصاروں میں سے گزر کر تین گھنٹے کا میچ دیکھ پاتے ہیں اور دنیا کو یہ یقین دلانا چاہتے ہیں کہ پاکستان کرکٹ کے لیے محفوظ ملک ہے۔

پاکستان کو صرف کرکٹ یا ہاکی ہی نہیں، ہر طرح کی معاشرتی سرگرمیوں کے لیے محفوظ ملک ہونا چاہیے اور یہ اس روز ممکن ہو گا جس دن انڈیا اور پاکستان لاہور یا کراچی میں کھیل رہے ہوں گے اور شہر میں کہیں خارداد تاریں نظر نہیں آئیں گی۔

اس دن بارڈرز پر خاموشی ہو گی اور میدانوں میں شور ہو گا۔ اس دن ہم کہہ سکیں گے کہ پاکستان سکیورٹی سٹیٹ نہیں، سپورٹنگ سٹیٹ بن چکا ہے۔

(سمیع چوہدری)


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 877 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp